پیگاسس کے ساتھ زرعی قوانین اور مہنگائی کیخلاف بھی اپوزیشن متحد

Updated: August 05, 2021, 8:16 AM IST | Mumbai

۱۴؍ پارٹیوں کے ۱۸؍ لیڈروں نے مشترکہ بیان میں  پارلیمنٹ کےتعطل کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، پارلیمانی جمہوریت کے احترام اوربحث کیلئے تیار ہو جانے کی اپیل، وزیر داخلہ سے جواب دینے کا مطالبہ

Opposition members wave a placard in front of Union Agriculture Minister Narendra Tomar demanding an inquiry into Pegasus. (PTI)
مرکزی وزیر ِ زراعت نریندر تومر کےسامنے اپوزیشن کےاراکین پیگاسس کی جانچ کےمطالبے کا پلےکارڈ لہراتےہوئے۔ (پی ٹی آئی)

پیگاسس کے خلاف  اپوزیشن کے احتجاج اور حکومت کے اڑیل رویے کی وجہ سے  پارلیمنٹ کےتعطل کیلئے  مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ملک کی ۱۴؍ اپوزیشن پارٹیوں نے بدھ کو ایک مشترکہ بیان میں  مودی حکومت سے  پارلیمانی جمہوریت کا احترام کرنے   کی اپیل کی ہے ۔  انہوں  نے حکومت سے  پیگاسس جاسوسی اسکینڈل اور زرعی قوانین  پر پارلیمنٹ میں بحث  نیز وزیر داخلہ کے ذریعہ جوابدہی کا مطالبہ کیا اور اس بات پر افسوس کااظہار کیا  کہ حکومت پارلیمنٹ  کے تعطل کیلئے ’’گمراہ کن مہم کے ذریعہ اپوزیشن کو بدنام ‘‘ کررہی ہے۔ 
 پارلیمنٹ میں تعطل کی ذمہ دار حکومت خود
 ۱۴؍ پارٹیوں کے ۱۸؍ اہم لیڈروں کے ذریعہ جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کہاگیا ہے کہ ’’پارلیمنٹ میں تعطل کی تمام تر ذمہ داری حکومت  پر عائد ہوتی ہےجس نے اڑیل رویہ اختیار کررکھا ہے اور دونوں ایوانوں میں بحث کیلئے تیار نہیں  ہو رہی ہے۔ ‘‘ اپوزیشن  نے مشترکہ بیان میں ایک بار پھر حکومت سےکہا ہے کہ وہ ’’پارلیمانی جمہوریت کا احترام کرے اور بحث کے مطالبے کو تسلیم کرلے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی حکومت کو یہ واضح پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اپوزیشن متحد ہے کہ پیگاسس جاسوسی اسکینڈل پر دونوں ایوانوں  میں بحث کرائی جائے اوراس دوران اٹھنےوالے سوالوں  کے جواب وزیر داخلہ  امیت شاہ خود دیں کیوں کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے جڑا  ہوا ہے۔‘‘
پیگاسس کے ساتھ ہی زرعی قوانین پر بھی بحث
 پیگاسس کے ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن  نے حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ زرعی قوانین اور مہنگائی کے خلاف بھی متحد  ہے۔مشترکہ بیان میں  مطالبہ کیاگیاہے کہ پیگاسس پر مباحثہ کے بعد زرعی قوانین  اور کسانوں  کے مطالبے پر بھی ایوان میں بحث کرائی جائے۔  
 مشترکہ بیان  پر دستخط کرنے والوں  میں  راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے،این سی پی صدر شرد پوار، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو اور تروچی شیوا، کانگریس کے آنند شرما، سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو، ٹی ایم سی کے ڈیرک او برائن اور کلیان بنرجی نیز شیوسینا کے سنجےراؤت اور ونائک راؤت شامل ہیں۔ ان کے علاوہ آر جے ڈی کے منوج جھا، سی پی ایم کے  ایلمرم کریم، سی پی آئی کے بنوئے وشو َم، عام آدمی پارٹی کے سنیل گپتا، مسلم لیگ کے محمد بشیر، نیشنل کانفرنس کے حسنین مسعودی اور دیگر لیڈران نے بھی مشترکہ بیان پر دستخط کئے ہیں۔ 
 مہنگائی پر بھی بحث کی مانگ
  اپوزیشن کی جانب سے مہنگائی کے خلاف بھی آواز بلند کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پر خصوصی بحث کرائی جائے اور حکومت جواب دے کہ آخر اتنی مہنگائی کیوں ہے ؟ کیا یہی اچھے دن ہیں ؟    مہنگائی کے خلاف احتجاج کو بھی اپوزیشن  کے ایجنڈےمیںشامل کرنے کا اشارہ منگل کو ہی مل گیاتھا جب راہل گاندھی نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپوزیشن کی ۱۵؍ پارٹیوں کی میٹنگ  میں  بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کا حوالہ دیاتھا۔  انہوں  نے اس کے خلاف علامتی احتجاج کے طو رپر اپوزیشن کے اراکین سے کانسٹی ٹیوشن کلب سے پارلیمنٹ تک سائیکل پر سفر کی اپیل کی تھی جس پر عمل بھی کیاگیا۔ خود راہل گاندھی بھی سائیکل  سے ہی پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ 
 مانسون اجلاس کا ۱۲؍ واں دن بھی احتجاج کی نذر
   مانسون اجلاس کا ۱۲؍ واں دن بھی احتجاج کی نذر ہوگیا۔ البتہ بغیر بحث کے ہی بل پاس کروا لینےکی اپنی حکمت عملی پر حکومت تمام تنقیدوں  کے باوجود عمل کرتی رہی۔  بدھ کو ’قومی راجدھانی خطہ اور متصل علاقے بل ۲۰۲۱ء‘ کو حکومت  نے لوک سبھا میں اپنی  اکثریت کا فائدہ اٹھاتےہوئے پاس کروا لیا۔  اس دوران ایوان میں   اپوزیشن  نے پوسٹر لہرا کا پیگاسس کےخلاف احتجاج کیا۔ ان پوسٹروں میں  جہاں  پیگاسس معاملےکی عدالتی جانچ کا مطالبہ تھا تو وہیں وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے پوچھا گیاتھا کہ کیا انہوں نے  ملک کے عوام کی جاسوسی کیلئے اسرائیلی  جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس خریدا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK