محکمۂ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کو اپنے تفصیلات فرااہم کرنے کا حکم

Updated: October 24, 2020, 1:51 PM IST | Khalid Abdulqayym Ansari | Bhiwandi

اساتذہ کی تنظیموں نے اسے ایجوکیشن بورڈ کی من مانی قرار دیا، ناراضگی کا اظہار

Picture.Picture :INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

یہاں میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ تعلیم نےسبھی اساتذہ کو ہدایت  دی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں، واجبات اور اپنے اہل خانہ کی تفصیلات کا حلف نامہ داخل کریں۔ اس کی وجہ سے اساتذہ میں تشویش  پائی جا رہی ہے۔ اساتذہ کی تنظیموں نے اس حکم نامہ کو ایجوکیشن بورڈ کی من مانی قرار دیتے ہوئے   بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ محکمۂ تعلیم کے انتظامی افسر سبھاش جھلکے نے میونسپل کارپوریشن کے سبھی۱۰۲؍ پرائمری اسکولوں کے صدر مدرسین کو ’چھوٹا پریوار‘  مہم کے تحت تمام  اساتذہ سے ان کے بچوں کی تعداد، ۲۸؍ مارچ ۲۰۰۵ء کے بعدپیدا ہوونے والے بچوں کی تعداد؟سبھی بچوں کے نام،تاریخ پیدائش کاحلف نامہ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ  اگر ۲۸؍مارچ ۲۰۰۶ء کے بعد  اساتذہ کے بچوں کی تعداد ۲؍ سے زائد ہے تو انہیں  عہدے کیلئے نااہل قرار دے دیا جائے۔ بتایا  جارہا ہے کہ اگر اساتذہ کے بچوں کی تعداد ۲؍سے زیادہ ہے اور وہ بچے ۲۸؍مارچ ۲۰۰۶ء کے بعدپیدا ہوئے ہیں تو ان کی ملازم  خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ انتظامی افسر کے ذریعہ ہیڈ ماسٹرز کو روانہ کردہ حکم نامہ میں کارپوریشن کے اسکول نمبر ایک سے ۱۰۲؍ کے سبھی اساتذہ سے بچوں کی تفصیلات کے ساتھ ہی ایم ایس سی آئی ٹی سرٹیفکیٹ،جائداد کی تفصیلات،واجبات،۳؍سال کی خفیہ رپورٹ اور مراٹھی و ہندی زبان کا سرٹیفکیٹ ۲۶؍ اکتوبرتک محکمہ تعلیم کے دفتر میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔انتظامی افسر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مقررمدت کے اندرتفصیلات جمع نہیں کرائی گئیں تو ان کے خلاف مہاراشٹر سیول سروس قانون ۱۹۷۹ء کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے بچوں کی تعداد  کے تعلق سے اگر سخت رویہ اختیار کیا گیا تومیونسپل اسکولوں کیساتھ ہی نجی اسکولوں میں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ بیشتر افراد کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK