وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے پر ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی کا ردعمل.
EPAPER
Updated: September 18, 2025, 10:14 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے پر ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی کا ردعمل.
نئی دہلی (آئی این این): متنازع وقف ترمیمی ایکٹ ۲۰۲۵ء کے متعلق سپریم کورٹ کے پیر کےر وز سنائے گئے فیصلے پرایم آئی ایم سربراہ اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے مدلل انداز میں سوالات قائم کئے ہیں۔ انہوں نے دو مختلف انٹرویوز میں کئی اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ’لائیومنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق این ڈی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں اویسی نے کہا کہ عبوری فیصلےمیں کئی پریشان کن باتیں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’’ وقف ایکٹ پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے سے وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنیوالے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘
اویسی نے وقف (ترمیمی) ایکٹ کی ایک متنازع شق پر روشنی ڈالی اور کہا کہ عدالت کو اس شق پر مکمل روک لگانی چاہئے تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’کوئی شخص جائیداد وقف کرنے سے پہلے کم از کم ۵؍ سال تک اسلام پر عمل پیرا ہو۔ ‘‘اویسی نے اس تناظر میں سوال قائم کیا کہ ’’ کیا کسی ایسے شخص کے لئے کوئی قانون ہے جو ہندو مت، عیسائیت، سکھ مت یا بدھ مت اختیار کرے کہ وہ اپنی جائیداد اپنے نئے مذہب کیلئے وقف کرنے سے پہلے کچھ شرائط پوری کرے؟ ‘‘ عبوری فیصلے پر اویسی نےیہ بھی کہاکہ ’’حکومت وقف کے نظام کو بچانے میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتی۔ جب سپریم کورٹ نے بڑے ترمیمی حصوں پر روک نہیں لگائی تو میری رائے میں اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وقف جائیداد پر قبضہ کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وقف بورڈز میں غیر مسلم اراکین کی تعداد محدود کر دی گئی ہے، لیکن یہ شق خود آئین کے آرٹیکل ۲۶؍ کی خلاف ورزی ہے جو مذہبی طبقوں اور فرقوں کو اپنے مذہبی امور، اداروں اور جائیداد پر آزادی دیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ہندو وقف بورڈ، سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹیاں یا بودھ گیا ٹرسٹ میں غیر مسلم شامل نہیں کیے جاتے تو وقف بورڈز میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ اویسی نے کہا کہ’’میری رائے میں سپریم کورٹ کو اس ایکٹ کیخلاف دائر عرضیوں پر حتمی سماعت شروع کرنی چاہیے، اور ہم دوبارہ دلائل پیش کرینگے۔‘‘
’دی وائر ‘کو دئیے گئے انٹرویو میں اسد الدین نے عبوری فیصلے کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور کہا کہ’’ بی جے پی حکومت نےوقف ترمیمی ایکٹ میں بہت ساری غیر آئینی ترامیم کی ہیں، ہمیں توقع تھی کہ سپریم کورٹ ان پر روک لگا ئے گی۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا، اسلئے ایک طرح سے، اسکا اثر پورے ملک میںوقف بورڈ کے کام کاج پر منفی اثر پڑے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’وقف ترمیمی قانون کا استعمال بی جے پی تمام وقف املاک کو تباہ کرنے کیلئے کرےگی۔‘‘ عبوری فیصلے میں ریاستی وقف بورڈ کے سی ای او کے طور پر کسی غیرمسلم کی تقرری سے متعلق شق پر روک نہیں لگائی ہے ، اس پر اویسی نے کہا کہ ’’عدالت نے کہا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ایک مسلم شخص کو مقرر کیا جانا چاہیے۔ ’جہاں تک ممکن ہو‘ کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ یہ ریاستی حکومت کو صوابدیدی اختیار دیتا ہے۔ پہلے کی طرح اب یہ لازمی نہیں ہے کہ آپ کسی مسلمان افسر کی تقرری کریں۔ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی اہل شخص نہیں ملا، اسلئے ہم جسے چاہیں مقرر کر رہے ہیں۔‘‘
بقول اویسی’’ وقف ایکٹ میں یہ ترامیم وقف بورڈ کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے مقصد سے کی گئیں ، جس میں ضابطہ بنانے کا اختیار بھی مرکزی حکومت کے پاس ہے اور اس کا پورا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ وقف کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو جائے اور کوئی بھی وقف کو کوئی جائیداد نہ دے اور جو املاک باقی ہیں، اسے مسلمانوں سے چھین لیا جائے۔