پاکستان افغانستان سرحد پر باڑ کا تنازع : سفارتی ذرائع سے حل نکالنے کا اعلان

Updated: January 06, 2022, 8:52 AM IST | kabul

طالبان حکومت معاملات کو ’اچھے ہم سایوں‘ کی طرح ’افہام و تفہیم اور بات چیت‘ کے ساتھ حل کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اس معاملے کو سفارتی ذریعہ سے حل کرے گی: افغان ترجمان

Pakistani security personnel on Pak-Afghan border (File photo)
پاکستانی سیکوریٹی اہلکار،پاک افغان سر حد پرمامور ۔ ( فائل فوٹو)

طالبان حکومت نے پاکستان افغانستان  سرحد پر باڑ لگانے کے تنازع پر کہا کہ اس مسئلے کو سفارتی ذریعے سے حل کرلیا جائے گا۔ واضح رہےکہ پیر کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ پاک  افغان سرحد پر باڑ لگانے میں کچھ مسائل کا سامنا  کرنا پڑرہا ہے اور اس پر طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے اس قسم کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر ’کچھ شرپسندوں‘ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔
   اس سلسلے میں ٹویٹر پر طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبد القہار بلخی کا کہنا تھا کہ ’’حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن پر کچھ واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے اس بات کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے کہ دونوں جانب سے حکام اس معاملے کو حل کریں۔‘‘
   اس سلسلے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ’’ طالبان حکومت معاملات کو ’اچھے ہمسایوں‘ کی طرح ’افہام و تفہیم اور بات چیت‘ کے ساتھ حل کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اس معاملے کو سفارتی ذریعے سے حل کرے گی۔‘‘
طالبان جنگجوؤں کا ردعمل
 خیال رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو گردش کر رہے ہیں جن میں طالبان جنگجوؤں کو پاک   افغان سرحد پر لگی باڑ اکھاڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہ جواز پیش کیا گیا ہے کہ باڑ افغان سرحد کے اندر لگائی گئی تھی۔
  ایک تازہ ویڈیو میں افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ پاکستان کے پاس سرحد پر باڑ لگانے اور تقسیم پیدا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے اقدامات ’نامناسب اور قانون کے خلاف ہیں‘۔
  گزشتہ ماہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ طالبان خاردار تاروں کو قبضے میں لے رہے ہیں اور ایک سینئر اہلکار کچھ فاصلے پر موجود سیکوریٹی پوسٹ پر موجود پاکستانی فوجیوں سے کہہ رہا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔
باڑ لگانا قوم کو تقسیم کرنے کے مترادف : طالبان ترجمان
 قبل ازیں طالبان کے ترجمان اور طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے برعکس بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے، اس وجہ سے پاکستان کو اس پر باڑ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
  انہوں نے کابل کے ایک مقامی یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ڈیورنڈ لائن کا معاملہ ابھی حل ہونا باقی ہے اور باڑ کی تعمیر خود سرحد کے دونوں طرف پھیلی ہوئی قوم کے درمیان دراڑیں پیدا کرتی ہے، یہ قوم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
 ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کے ایک دوسرے سے رابطے ہیں اور باڑ لگانا ان کے درمیان رابطہ منقطع کرنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK