پاکستان اور سعودی امریکی سیکوریٹی اتحادیوں کی فہرست سےغائب ،چین سے بڑا خطرہ

Updated: October 15, 2022, 12:24 PM IST | Agency | Washington

امریکہ نے۲۰۲۲ء کیلئے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں پاکستان اور سعودی عرب جو کبھی اہم اتحادی تھے، کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس حکمت عملی کے تحت چین کو اپنا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل چیلنج مانتا ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 امریکہ نے۲۰۲۲ء کیلئے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں پاکستان اور سعودی عرب جو کبھی اہم اتحادی تھے، کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس حکمت عملی کے تحت چین کو اپنا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل چیلنج مانتا ہے۔امریکہ روس کو نہیں بلکہ چین کو `سب سے بڑے جیو پولیٹیکل چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے۔ ۴۸؍صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے میں دہشت گردی اور دیگر جغرافیائی تزویراتی خطرات کا ذکر کیا گیا ہے جو ان خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو ایک لازمی اتحادی کے طور پر نامزد نہیں کرتے۔ ۲۰۲۱ء کے حکمت عملی پیپر میں بھی پاکستان کا نام نہیں تھا۔امریکہ کو پاکستان کے ساتھ علیحدہ امریکہ تعلقات قائم کرنے کی باہمی خواہش کی عکاسی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے سے شکایت کی ہے کہ امریکہ اسے افغانستان اور دیگر ممالک سے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے  صرف ایک’میڈیم‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔حالیہ بیانات میں امریکی اور پاکستانی حکام نے اسے افغانستان اور ہندوستان دونوں سے الگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ امریکہ کی تازہ ترین قومی سلامتی کی حکمت عملی میں پاکستان، سعودی عرب کا ذکر نہیں ہے۔امریکی حکام نے بھی چین کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی پاکستان کی خواہش کو تسلیم کیا ہے اور اسی لئے خطے میں چین کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس کیلئے امریکی حکام نے چین کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اعتراف کیا ہے۔ ایسی حکمت عملی بنائی۔دستاویز میں روس کو چین کے بعد امریکہ کے عالمی مفادات کیلئے دوسرا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK