’ قیام ِ امن کیلئے عوام کو باوقار زندگی کی فراہمی ا ور حقوق کا تحفظ ضروری‘

Updated: May 15, 2022, 9:58 AM IST | new Delhi

سری نگر میں ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اہل اقتدار کو چیف جسٹس آف انڈیا کی نصیحت، متنبہ کیا کہ انصاف سے محرومی انارکی کا باعث بنے گی

The Chief Justice gave a lot of advice to the Central Government without saying anything directly about the situation in Kashmir.
چیف جسٹس نے کشمیر کے حالات پر براہ راست کچھ کہے بغیر مرکزی حکومت کو بہت سی نصیحتیں کردیں۔

  چیف جسٹس آف انڈیا این وی رامنا نے سنیچر کو سری نگر میں ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ایک بار پھر ملک کے برسراقتدارطبقے کو نصیحت کی کہ امن و امان اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب شہریوں کو باوقار زندگی میسر ہواوران کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے متنبہ بھی کیا کہ انصاف سے محرومی انارکی کا سبب بنے گا اور عدالتی نظام بے اثر ہوکر رہ جائےگا۔ 
برسراقتدار طبقے کو نصیحت اور تنبیہ
 سری نگر میں  ہائی کورٹ بلڈنگ  کے نئےکامپلکس کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اس بات پر بھی ضرور دیا کہ محض قوانین تہذیب  و تمدن کیلئے کافی نہیں ہیں بلکہ قانون کے ڈھانچے میں زندگی پھونکنے کیلئے اعلیٰ  خیالات کے حامل افراد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انصاف سے محرومی بالآخر انارکی کا سبب بنے گی۔ جلد ہی نظام انصاف غیر مستحکم ہوجائےگا اور عوام ماورائے عدالت اپنے معاملات کو طے کرنے کے نظام کی طرف راغب ہوں گے۔‘‘ انہوں  نے کہا کہ ’’انصاف اسی صورت میں قائم ہوسکتاہے  جب عوام کی باعزت زندگی اور  اس کے وقار کو تسلیم کیا جائے اوران  کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو۔‘‘
وکلاء اور ججوں کو تلقین
 پروگرام میں اکثریت وکیلوں اور ججوں کی تھی جنہیں مخاطب کرتےہوئے بھی چیف جسٹس نے  تلقین کی کہ عرضی گزاروں کیلئے دوستانہ ماحول بنائیں  کیوں کہ وہ اکثر بہت زیادہ نفسیاتی دباؤ میں  ہوتے ہیں۔  جسٹس این وی رامنا نے اس بات پر برہمی کااظہار کیا کہ ہندوستان میں نظام انصاف بہت ہی ’’پیچیدہ اور مہنگا‘‘ ہے  نیز ملک عدالتوں  تک  لوگوں کی رسائی کو آسان بنانے کے معاملے  میں  اب بھی بہت پیچھے ہے۔  انہوں  نے کہا کہ ’’صحت مندر جمہوریت کے کام کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ عوام یہ محسوس کریں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہورہاہے اوران کی عزت واحترام کی قدر کی جارہی ہے۔ صحت مند جمہوریت کی علامت  تیز رفتار انصاف اور تنازعات کابروقت حل ہے۔‘‘
عدالتی نظام کی پیچیدگی پر تنقید
  جسٹس این وی رامنا نے ججوں کو آگاہ کیا کہ عدالتوں کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کریں اور آئین  کے مقصد کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں  نے کہا کہ ’’قانون کی حکمرانی اور  شہریوں  کے حقوق  انسانی کے تحفظ میں سب سے بڑی رکاوٹ   تیز رفتار انصاف اور  نظام انصاف تک رسائی  سب کیلئے ممکن بنانے میں  ناکامی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ ملک کا عدالتی نظام انتہائی پیچیدہ اور مہنگا ہے۔‘‘  انہوں  نے عدالتوں کو  ان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے نئے  اور جدید طریقے اختیار کر کی صلاح دی ۔ انہوں نے اس کیلئے جدید    تکنالوجی کے استعمال  کی بھی وکالت کی ۔ ملک کے سینئر ترین جج نے کہا کہ ’’تکنالوجی عدلیہ کیلئے بڑی معاون بن کر ابھری ہے۔ آن لائن عدالتوں  سے فاصلے  اور درکار وقت میں کمی آئی ہے جبکہ رسائی میں اضافہ ہواہے۔‘‘
علی جواد زیدی کے شعر سے تقریر کا آغاز
  چیف جسٹس  نےاپنی تقریر کا آغاز معروف  شاعر علی جواد زیدی کے  اس شعر  سے کیا کہ :
مدتوں بعد جو آیا ہوں اس وادی میں
اک نیا حسن  نیا رنگ نظر آتا ہے
وادی ٔ کشمیر کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’خوش قسمتی سے مجھے اس جنت میں آنے کے کئی مواقع ملےمگر ہر مرتبہ میں اس کے حسن اور یہاں  کے لوگوں کی محبتوں  سے ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوجاتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہاں کے عوام کا خلوص ، کشمیر کی ثقافت اور تہذیب ہر اس شخص کو متاثر کرتی ہے جو یہاں آتا ہے۔  اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ذیلی عدالتوں کے مسائل پر بھی گفتگو کی ساتھ ریاستی عدالتی نظام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ عدالتی نظام کا اساس ہے۔  انہوں  ملک میں عدلیہ کیلئے درکار انفرااسٹرکچر کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع ان کے دل کے سب سے زیادہ قریب  ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK