عراق میں عوام پھر سڑکوں پر، انتخابی نتائج کیخلاف ا حتجاج

Updated: November 07, 2021, 11:27 AM IST | Baghdad

مظاہرین کی گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش، عراقی حکام کے ساتھ امریکہ کے خلاف بھی نعرے ، بعض جگہوں پر احتجاج کے دوران فائرنگ، ایک شخص ہلاک

Protests have been going on in Iraq for two years now under one pretext or another   (Agency)
عراق میں کوئی دو سال سے مسلسل کسی نہ کسی بہانے احتجاج جاری ہے ( ایجنسی)

عراق میں ایک بار پھر عوام سڑکوں پر ہیں اور وہاں حکام کے خلاف زور دار احتجاج ہو رہا ہے۔ اس دوران  ایک شخص کی موت کی بھی خبر ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ لوگ حالیہ انتخابات سے ناراض ہیں۔واضح رہے کہ حال ہی میں  ظاہر کئے گئے انتخابی نتائج میں عراق کے سب سے طاقتور لیڈروں میں سے ایک مقتدیٰ الصدر کی پارٹی کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔ مقتدیٰ الصدر  امریکہ کے خلاف مسلح مزاحمت بھی کرتے آئے ہیں۔   
 ادھر  عراق میں اقوام متحدہ کے مشن نے انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والوںکے درمیان تشدد اور ہلاکتوں میں اضافے پر افسوس کا اظہار کیا  ہے اور گرین زون کے داخلی راستوں پر سیکوریٹی فورس کی کارروائیوں پر تشویش ظااہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن نے تمام فریقین پر زور دیا ہے  کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور احتجاج کے دوران تشدد بند کریں۔ جمعہ  کو عراقی سیکوریٹی فورس اور انتخابی نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مظاہرین نےبغداد  کے گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی سیکوریٹی فورس نے گرین زون پر قابو پالیا ہے اور مظاہرین کو وہاں سے  واپس جانے پر مجبور کردیا ہے۔ گرین زون کے گیٹ کے سامنے سے مظاہرین پہلے ہی پیچھے ہٹ چکے ہیں۔ 
 عراقی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جھڑپوں میں ۱۲۵؍  افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ۲۷؍عام شہری اور باقی سیکوریٹی فورس کے اہلکار شامل ہیں، جن پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔ وزارت صحت نے سابقہ اطلاعات کی تردید کی ہے کہ مظاہروں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس نے گرین زون میں زخمیوں کے درمیان کسی کو گولی لگنے کے واقعہ کی بھی تردید کی ہے۔ حالانکہ جس ایک شخص کی موت کی بات کہی جا رہی ہے  اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فائرنگ  ہی میں ہلاک ہوا ہے۔  ایک عراقی چینل  نے جمعہ کو  ایک سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وسطی بغداد میں سیکوریٹی فورس اور پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع نے جس کی شناخت چینل کی طرف سے ظاہر نہیں کی گئی ہے، نے کہا کہ سیکوریٹی فورس نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جبکہ مظاہرین نے وسطی بغداد میں گرین زون کے قریب میں بھی سیکوریٹی فورس پر فائرنگ کی۔
 درایں اثنا الحکمہ گروپ کے سربراہ عمار الحکیم نے عراقی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کی قیادت  پر زور دیا کہ وہ اپنے پرامن فریم ورک سے الگ نہ ہوں۔الحکیم نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ان حساس حالات میں اعلیٰ ترین قومی مفاد کو ترجیح دیں۔انہوں نے عراق میں انتخابی کمیشن اور عدالتی ادارے سے موصول ہونے والی اپیلوں اور اعتراض کرنے والی قوتوں کے اعتراضات کے ’منصفانہ‘ حل پر زور دیا۔
 مقتدیٰ الصدر کی اپیل 
  ادھر انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی ’ صدر تحریک ‘کے لیڈر  مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ انتخابی چیلنجوں کیلئے پرامن مظاہروں کو تشدد اور ریاست کو نیچا دکھانے کے احتجاج میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔الصدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کو پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ واضح رہے کہ مقتدیٰ الصدر کا شمار خود ان لیڈروں میں ہوتا ہے جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے او ر بعض عربی نیوز ایجنسیوں کی بات مانیں تو ان مظاہروں میں ایران نواز عناصر کا بڑا ہاتھ ہے جو ان مظاہروں کے ذریعے امریکہ پر دبائو بڑھانا چاہتے ہیں۔  حالیہ مظاہروں میں امریکہ کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے  ہیں ساتھ  ہی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا  رکھی تھیں ان پر بھی امریکہ مخالف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مظاہرین کے گرین زون میں گھسنے کا مطالب بھی یہی ہے کہ وہاں کئی ممالک کے سفارتخانے اور امریکی حکام کے مکانات ہیں۔  فی الحال مظاہرین کو گرین زون میں داخل  ہونے سے روک دیا گیا ہے۔  واضح رہے کہ عراق میں الیکشن سے قبل بھی عوام حکام کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں امریکی فوجیوں کے واپس جانے اور ملک میں جاری بد عنوانی کو ختم کرنے کا مطالبہ سر فہرست تھا۔ 

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK