عراقی پارلیمنٹ پر عوام کا دھاوا، احتجاج

Updated: July 29, 2022, 1:00 PM IST | Agency | Baghdad

مقتدیٰ الصد ر کے حامی انتہائی سخت سیکوریٹی والے علاقے کا محاصرہ توڑتے ہوئے پارلیمنٹ میں داخل ہوئے ،انتخابات کے ۲۹۰؍ دن بعد بھی حکومت نہ بننے پر غم وغصے کا اظہار کیا ۔ عراقی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ خالی کرنے کی اپیل کی

Supporters of Muqtada al-Sadr protesting in the Iraqi parliament.Picture:INN
عراقی پارلیمنٹ میں مقتدیٰ الصدر کے حامی احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

 عراق  میں عوام نے پارلیمنٹ کی عمارت  پر دھاوا بول دیا۔ اس طرح  رواں ماہ  سری لنکامیں عوام کی جانب سے صدارتی محل میں داخل ہونے کی یاد تازہ ہوگئی ۔ اسی طرز پر  عراق کے دارالحکومت بغداد میں  مقتدیٰ الصدر کے سیکڑوں حامیوں نے وزیر اعظم کے حریف امیدوار کی نامزدگی کیخلاف سخت سیکوریٹی والے علاقے  کا محاصرہ  توڑتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولا ۔
 واضح رہےکہ عراق میں انتخابات کے ۲۹۰؍  روز بعد بھی  سب سے بڑی جماعت کی حکومت  نہ بننے  پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اس  تعطل کی وجہ سے یہاں بھی معاشی بحران ہے ۔  ضروری اشیا ء قیمتوں میںغیر معمولی اضافہ ہوا جمعرات کو میڈیا  رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا بولا  اس وقت  پارلیمنٹ میں کوئی موجود نہیں تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئےپانی کا استعمال کیا اور آنسو گیس  کے گولے داغے۔ اس انتہائی محفوظ علاقے میں مختلف ممالک کے سفارتخانوں  کے ساتھ ساتھ کئی اہم عمارتیں بھی ہیں۔ سیکوریٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکوریٹی فورسیز نے شروع میں مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کسی کی نہ سنی اور سیکوریٹی  محاصرے کوتوڑتے ہوئے پارلیمنٹ میںد اخل ہوگئے۔  اسی دوران عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے مظاہرین سے عمارت خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔ دریں اثناء ایسے بہت سے ویڈیوز اور تصاویر منظر عام پر آئی ہیں جن میں وہاں موجود مشتعل ہجوم کو گانا  گاتے،  رقص کرتے اور ایوان کی میزوں پر لیٹتے  ہوئے دیکھا گیا۔ مقامی میڈیا  کے مطابق مظاہرین نعرے لگاتے ہوئے زبردستی  عراقی پارلیمنٹ میں گھس گئےاور اسپیکر کا ڈائس تک سنبھال لیا ۔ پھرپارلیمنٹ کی عمارت میں ا ٓزادی سے گھومتے پھرتے رہے۔  واضح رہےکہ گزشتہ دنوں سری لنکا کے صدارتی محل میں مظاہرین نے کچن میں کھانا بنا یا تھا اور جم میں کسرت بھی کی تھی۔  یہاں یہ با ت ذہن نشین رہےکہ گزشتہ سال اکتوبر  کے  انتخابات میں  الصدر کے سیاسی اتحاد نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن سیاسی تعطل کی وجہ سے وہ اقتدار میں نہیں ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہےکہ عراق میں امریکی مداخلت کی مخالفت کرنے والے  الصدر نے اکتوبر کے انتخابات کے بعد  فتح حاصل کی تھی  ۔ اس  کے  باوجود انہیں حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ یہ  رائے عامہ کی  توہین ہے۔  اسی لئے عوام سڑکوں پر اترے ہیں۔    اس دوان الصدر اور ان کے حامیوں نے وزارت عظمیٰ کیلئے محمدشياع السوداني کی امیدواری کی مخالفت کی ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ ایران کے بہت قریب ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK