تدفین کیخلاف عرضداشت خارج،قبرستان میں میت دفنائی جائیگی

Updated: May 23, 2020, 5:38 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے بی ایم سی کے سرکیولر کو صحیح قرار دیا، جمعیۃ علماء اور دیگر مداخلت کاروں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس سے مرنے والوں کی باندرہ قبرستان میں تدفین کیخلاف عرضداشت گزار پردیپ گاندھی اور دیگر کو بالآخر ایک بار پھر اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب بامبے ہائی کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ کی سربراہی کرنے والے چیف جسٹس نے نہ صرف عرضداشت کو خارج کر دیا بلکہ بی ایم سی کے جاری کردہ سرکیولر کے مطابق کورونا سے مسلم سماج سے وابستہ مہلوکین کی تدفین قبرستان میں ہی کئے جانے کا فرمان جاری کیا ۔ کورٹ کے بقول عرضداشت گزار کے پاس کورونا سے متاثر مہلوکین کے ذریعہ وائرس کے پھیلنے کا کوئی سائنسی یا طبی جواز موجودنہیں ہے ۔ عدالت کے اس فیصلہ پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سبراہ گلزار اعظمی اور دیگر مداخلت کاروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ 
 باندرہ میں واقع مسلم کوکنی قبرستان ، کھوجہ سنت جماعت قبرستان اور کھوجہ اثنا عشری جماعت قبرستان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین اور اس ضمن میں بی ایم سی کے جاری کردہ احکامات کے خلاف باندرہ کے رہنے والے پردیپ گاندھی اور دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کرتے ہوئے تدفین نہ کئے جانے اور بی ایم سی کے سرکیولر پر روک لگانے کی اپیل کی تھی ۔ اس ضمن میں جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ شہر کےجامع مسجد ٹرسٹ ،نو پاڑا مسجد باندرہ ٹرسٹ ، آفتاب صدیقی شمشیر احمد شیخ اور ریاض احمد محمد ایوب خان ودیگر نے مداخلت کار کی حیثیت سے عرضداشت داخل کی تھی اور ان کے وکلاء نے جرح کے دوران عدالت کو یہ باور کرایا تھا کہ بی ایم سی کے جاری کردہ سرکیولر اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی گائیڈ لائن کے مطابق تدفین کئے جانے سے نہ تو وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ہے اور نہ ہی دفن کرنےسے کوئی اس وبا سے متاثرہوسکتا ہے ۔
  جمعہ کو اس ضمن میں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ایس ایس شندے نے عرضداشت گزار کے کورونا وائرس پھیلنے کے پیش کردہ جواز کو ماننے سے انکار کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ عرضداشت گزار نے ایسا کوئی سائنسی یا طبی جواز یا ثبوت پیش نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مہلوکین کو دفن کرنے سے وائرس پھیلے گا یا قبرستان کے آس پاس آباد مکینو ں کو اس سے کوئی خطرہ ہوگا ۔‘‘ کورٹ نے کہا کہ کووڈ۔ ۱۹؍ نامی وبا کے سلسلہ میں شہری انتظامیہ کو مذہبی نقطۂ نظر سے آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دینے کا اختیار ہے ۔بی ایم سی نے ڈبلیو ایچ و کی جاری کردہ گائیڈ لائن کے مطابق ہی شہر کے ۲۰؍قبرستانوں میں کورونا سے فوت ہونے والوں کی تدفین کی اجازت دی ہے ۔
  کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’کسی بھی کورونا سے مرنے والے کی لاش دفن کرنے سے وائرس کے پھیلنے کا خطرہ اس لئے بھی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ لاش کو پوری طرح سینی ٹائز کیا جاتا ہے ، اسے پلاسٹک میں لپیٹ دیا جاتا ہے اور تدفین کے وقت متاثرہ کے اہل خانہ کے ساتھ بی ایم سی کا عملہ تمام احتیاطی تدابیر کیساتھ تدفین کے عمل کو انجام دیتا ہے۔ ‘‘ کورٹ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی جاری کردہ ہدایت کے مطابق تدفین کے بعد وائرس نہیں پھیلتا اس لئے قبرستان کے آس پاس آباد مکینوں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ کورونا سے متاثرہ کی تدفین کرنے والوں کے بھی متاثر ہونے کا خطرہ باقی نہیں رہتا کیونکہ تمام احتیاطی تدابیر اور پی پی ای کٹ پہن کر آخری رسومات ادا کی جاتی ہے ۔
  کورٹ نے بی ایم سی کو بھی اس ضمن میں مزید احتیاط برتنے اور تدفین کے عمل کو خوش اسلوبی سے انجام دیئے جانے کی تمام کارروائیوں کا جائزہ لیتے رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے مذکورہ بالا عرضداشت کو خارج کر دیا ۔ عدالت کے فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کرتے جمعیۃ علما مہاراشٹر لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نےکہا کہ دیگر فریقین اور جمعیت کے وکیل افروز صدیقی نے بہت جامع جرح کی جس کا نتیجہ سامنے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایم سی کے بھی بر وقت فیصلہ سے اس وبا سے مرنے والوں کی تدفین قبرستانوں میں ہونے پر جمعیت نے بی ایم سی کمشنر کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK