اُترپردیش میں پولیس مظالم کیخلاف عدالتی شکنجہ

Updated: January 08, 2020, 8:12 pm IST | Jeelani Khan Aleeg | Lucknow

شہریت قانون کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس کی ظالمانہ کارروائی سے متعلق الہ باد ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیا، ایڈوکیٹ فرمان نقوی اورایڈوکیٹ رمیش یادو ’مشیر عدالت‘ مقرر، ۱۶؍ جنوری کو آئندہ سماعت۔ ہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس ایکشن کی جانچ کیلئے قومی انسانی حقوق کمیشن کو ذمہ داری سونپی، ۵؍ ہفتے کا وقت، آئندہ سماعت کیلئے ۱۷؍ فروری کی تاریخ طے کی۔

اُترپردیش میں پولیس مظالم کیخلاف عدالتی شکنجہ
دہلی میں منعقدہ کانفرنس میں اظہار یکجہتی کا اعلان

 لکھنؤ : الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کو اپنے دو فیصلوں میں اترپردیش کی یوگی حکومت پر اپنا شکنجہ کسا ہے۔ ایک فیصلے میں  اترپردیش میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنےوالوں پر  پولیس مظالم سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے جبکہ دوسرے فیصلے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس ایکشن کی جانچ کیلئے انسانی حقوق کمیشن کو ذمہ داری سونپی ہے۔
 ممبئی کے ایک وکیل امیت کمار کی جانب سے ای میل کے ذریعہ بھیجے گئے خط کا  از خود نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس گوند ماتھر اور جسٹس وویک ورما کی بنچ نے اس معاملے پر سماعت کیلئے ۱۶؍ جنوری کی تاریخ متعین کی ہے۔وکیل اجے کمار کی جانب سے بھیجے گئے ای میل میں نیویارک ٹائمز اور دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیا ہے جس میں یو پی پولیس کی مظاہرین پر  جارحیت کی رپورٹیں کافی تفصیلی سے شائع ہوئی ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ملک کی شبیہ پوری دنیا میں خراب ہورہی ہے۔وکیل نے اپنے خط میںانڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی خبروں کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں مظفر نگر کے ایک مدرسے میں بچوں کی بے رحمی سے پٹائی کی تفصیلی رپورٹ کا ذکر ہے۔
 بنچ نے ہائی کورٹ کے وکیل فرمان نقوی اور رمیش کمار یادو کو پٹیشن میں ’مشیر عدالت‘ نامزد کیا ہے۔ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو ہدایت دی ہے کہ سبھی متعلقہ دستاویزات ’مشیر عدالت‘ کو دستیاب کرائی جائے۔اس عرضی پر اگلی سماعت۱۶؍ جنوری کو ہوگی۔
 اسی طرح دوسرے معاملے میںالہ آبادہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو)میں تشدد اورپولیس مظالم کی تحقیقات قومی ا نسانی حقوق کمیشن کے سپرد کرتے ہوئے اسے ہدایت دی ہے وہ ۵؍ ہفتوں میں اپنی  رپورٹ عدالت کو سونپے۔ عدالت نے معاملے کی ا گلی سماعت کیلئے ۱۷؍ فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ہائی کورٹ کے۲؍ رکنی بنچ نے اے ایم یو کے سابق طالب علم محمدا مان خان کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے منگل کو یہ حکم صادر کیا ہے۔ساتھ ہی ریاستی ایڈوکیٹ جنرل کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ عرضی کی کاپی کمیشن کو ۹؍جنوری تک فراہم کرادیں۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھراور جسٹس وویک ورما پر مشتمل بنچ نےدوران سماعت کہا کہ قومی ا نسانی حقوق کمیشن اے ایم یومیں ۱۵؍ دسمبر کو  ہونے والےتشدد اور مبینہ طور پر پولیس کے ذریعہ کئے گئے مظالم سمیت پورے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مجاز ہوگا جس کے زیر تفتیش جامعہ ملیہ اسلامیہ سے متعلق اسی طرح کا معاملہ بھی ہے۔
  الہ آباد سے تعلق رکھنے والے امان خان کے مطابق انہوں نے اپنی آنکھوں سے پولیس مظالم دیکھے ہیں۔ اس دوران طلبہ پُرا من احتجاج کررہے تھے ۔  امان نے اپنی عرضی میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ بغیر انتظامیہ کی اجازت کے پولیس کا یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے،طلبہ پرشدید ظلم و تشدد کرنےاور زخمیوں کو بروقت میڈیکل سہولیات فراہم نہ کئے جانے سمیت پورے معاملے کی تحقیقات عدالتی نگرانی میں کرائی جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اتھاریٹی سے اجازت لئے بغیر یوپی پولیس اور پیرا ملٹری فورس کیمپس میں داخل ہوئی تھی اور پُرا من مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات پرلاٹھی چارج کیا تھا ، آنسو گیس کے گولے داغے تھے اور  ربر بلٹ  کے ساتھ پیلٹ گن کا بھی استعمال کیا تھا۔ان کا یہ بھی الزام ہے کہ اس کارروائی میں کئی طلبہ شدید زخمی ہوئے تھے مگر انہیں بروقت طبی سہولیات مہیا نہیں کرائی گئیں  اور ایسا پولیس نے جان بوجھ کر کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK