گروتیغ بہادر نگر کی مزید۲؍خستہ حال عمارتوں کی بجلی اورپانی سپلائی منقطع

Updated: September 15, 2020, 7:34 AM IST | Kazim Shaikh | Sion

یہاں گروتیغ بہادر نگر (پنجابی کیمپ) کی ۲۵؍ بلڈنگوں کے مکینوں کوکئی برس پہلے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) نے خستہ حال قرار دیتے ہوئے مکانات خالی کرنے کا نوٹس دیا تھا

GTB Nagar Dilapidated Building - Pic:  Inquilab
پنجابی کالونی کی خستہ حال عمارتیں جن کی بجلی اور پانی سپلائی کاٹ دی گئی۔

یہاں گروتیغ بہادر نگر (پنجابی کیمپ)  کی ۲۵؍ بلڈنگوں  کے مکینوں کوکئی برس  پہلے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) نے خستہ حال قرار دیتے ہوئے مکانات خالی کرنے کا نوٹس دیا  تھا  ۔ اس کے بعد سے متعدد مرتبہ بلڈنگوں کے کچھ حصے بھی منہدم ہوئے  اور کئی بار دیئے گئے نوٹس کے بعد زیادہ تر مکان مالکان گھر خالی کرکے دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں لیکن انھوں نے کرایے پر مکان دے رکھے ہیں اورکرایہ دار جان جوکھم میں ڈال کر ان عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ بی ایم سی نے     ایک بار پھرکارروائی کرتے ہوئے خستہ حال بلڈنگ نمبر ۱۴؍ اور ۱۵؍ کی پانی اور بجلی سپلائی منقطع کردی  جس کے مکینوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
 گروتیغ بہادر نگر کی بلڈنگ نمبر ۱۳؍ میں رہنے والے  مکان مالک جوگیندر رام دھار ی وشار نے انقلاب کوبتایا کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان سے پنجابی برادری  کے کافی افراد ممبئی کے تیغ بہادر نگر میں آکر مقیم ہوگئے تھے۔ اس علاقے    ۲۵؍ بلڈنگوں میں زیادہ تر پنجابی مقیم ہیں ۔ اس لئے اس علاقے کو پنجابی کیمپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔  اب بھی ان پنجابیوں کو رفیوجی کہا جاتا ہے ۔ انھوں نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ بچوں کی آن لائن پڑھائی جاری ہے ۔ گرمی کا موسم ہے اور گھر میں بغیر بجلی اور پانی کا رہنا ممکن  نہیں ہے ۔ میرے گھر میں والدین کی  طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ہے ۔ ایسی حالت میں گھر کی بجلی اور پانی سپلائی منقطع کرنا بی ایم سی کا بہت ہی غلط قدم ہے ۔ ان یہ بھی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کا پیٹ بھرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ایسی صورت میں ہم غریب لوگ  نہ تو مکان لے سکتے ہیں اور نہ ہی کرایے پر منتقل ہوسکتے ہیں  ۔ کسی بھی سوسائٹی میں جانے سے پہلے کووڈ ۱۹ کا سرٹیفکیٹ مانگا جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں یہاں  رہنے والوں کو کچھ موقع دیا جانا چاہئے ۔ 
 بلڈنگ نمبر ۱۵؍ میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ان بلڈنگوں میں زیادہ تر لوگ کرایے پر رہتے ہیں ۔ چوں کہ یہاں پر کرایے پر سستا اور آسانی سے مکان مل جاتا  ہے ۔ اس لئے ہم لوگ یہاں پر مجبوری  میں  مکان لیتے ہیں  ۔ اس کا کہنا ہے کہ بلڈنگ خستہ حال ضرور ہے لیکن ہمیں دیگر علاقے میں منتقل ہونے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ اسی بلڈنگ کے مکان مالک اومکار سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم خود چاہتے ہیں کہ بلڈنگیں منہدم کرکے دوبارہ تعمیر کی جائیں لیکن اس سے قبل ہماری متبادل رہائش کا بھی اسی علاقے میں  انتظام کیا جائے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک کئی بلڈنگوں کی بجلی ور پانی سپلائی منقطع کردی گئی ہے ۔ 
 جائے وقوع پر موجود ایف نارتھ کے افسران سے بات چیت کی گئی تو انھوں نے کہا کہ اب تک ہم  ۲۵؍ بلڈنگوں میں رہنے والے مکینوں کو ۲۵؍ سے زائد نوٹس دے چکے ہیں ۔ عدالت کے ذریعہ فیصلہ آچکا ہے کہ مکانات خالی کردیئے جائیں لیکن مکین گھر خالی کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ اس سے قبل  مکانات زبردستی خالی کرانے کی کوشش کی گئی تھی تو مکینوں نے جس طرح  احتجاج کیا تھا ، اس سے پرامن ماحول خراب ہونے  کے پیش نظر مکینوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اب تک ہم  ۲۵؍ خستہ حال بلڈنگوں میں سے ۸ ؍ بلڈنگوں کی پانی اور بجلی سپلائی منقطع کرچکے ہیں ۔ افسر  کے مطابق پیر کو پولیس اہلکاروں کے بندوبست کے دوران  دوپہر ۲؍بجے ایک با ر پھر بلڈنگ نمبر ۱۴؍ ۱۵؍ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK