جدید لب و لہجہ کے ممتاز شاعر عبدالاحد ساز کا انتقال

Updated: March 23, 2020, 1:06 AM IST | Mumbai

 عروس البلاد ممبئی سے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں اُبھرنے اور پوری اُردو دُنیا میں اپنی پہچان بنانے والے شعراء میں سے ایک، عبدالاحد ساز، اتوار کو بعد نمازِ مغرب سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اِدھر کافی عرصے سے علیل تھے۔ رات ساڑھے دس بجے اُن کا جسد خاکی رہائش گاہ واقع جوگیشوری سے کچھی میمن جماعت قبرستان (منگل واڑی قبرستان) لے جایا گیا جہاں رات ساڑھے بارہ بجے انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

Abdul Ahad Saaz. Photo Inquilab
عبدالاحد ساز۔ تصویر: انقلاب

 عروس البلاد ممبئی سے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں اُبھرنے اور پوری اُردو دُنیا میں اپنی پہچان بنانے والے شعراء میں سے ایک، عبدالاحد ساز، اتوار کو بعد نمازِ مغرب سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اِدھر کافی عرصے سے علیل تھے۔ رات ساڑھے دس بجے اُن کا جسد خاکی رہائش گاہ واقع جوگیشوری سے کچھی میمن جماعت قبرستان (منگل واڑی قبرستان) لے جایا گیا جہاں رات ساڑھے بارہ بجے انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ ساز ؔکے پسماندگان میں بیوہ اور تین بیٹیاں ہیں ۔  عبدالاحد ساز نے کم وقت میں اپنی ادبی پہچان بنائی۔ اُن کے تین شعری مجموعے ’خموشی بول اُٹھی ہے‘ (۱۹۹۰ء)، ’ سرگوشیاں زمانوں کی‘ (۲۰۰۳ء) اور ’در کھلے پچھلے پہر‘ شائع ہوئے ۔ سنجیدگی اور متانت کا پیکر عبدالاحد ساز جتنے شائستہ اور نرم گفتار تھے، اُتنا ہی مدھم اور مہذب اُن کا شعری لہجہ تھا جو اُن کی شاعری کا امتیازی وصف قرار پایا۔ مادری زبان کچھی ہونے اور کاروباری حلقوں میں گجراتی بولنے والے سازؔ کا اُردو ذخیرۂ الفاظ بھی خاصا وسیع تھا۔ اُن کی شاعری پڑھنے اور سننے یا اُن سے گفتگو کرنے والے لوگ اُنہیں کچھی یا گجراتی بولتا ہوا دیکھتے تو دنگ رہ جاتے تھے۔ سازؔ نے، جن کے والد عبدالرزاق سعید بھی اہم اُردو شاعروں میں شمار کئے جاتے تھے، ابتدائی و ثانوی تعلیم اسماعیل بیگ محمد ہائی اسکول سے حاصل کی اور پھر سڈنہم کالج میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔ کم لوگ جانتے تھے کہ اُن کا کپڑوں کا کاروبار تھا۔ 
 ساز ؔ کے سانحہ ٔ ارتحال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے معروف شاعر، محقق اور کالم نگار شمیم طارق نے کہا کہ ’’اِدھر چند برسوں میں ساز دُنیا سے کٹ کر رہ گئے تھے ورنہ ان کی زندگی میں بھی تازگی تھی اور شاعری میں بھی۔ اُن کے انتقال کی خبر سن کر گزشتہ ۴۰؍ برس کے ادبی مناظر آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔ وہ آخر دم تک اپنی تخلیقی توانائی کا احساس دلاتے رہے۔ ‘‘ معروف اہل قلم اور سہ ماہی ’’قلم‘‘ کے مدیر الیاس شوقی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ سازؔ کی شاعری میں غصے اور نفرت کے شدید اظہار کے بجائے متانت اور سنجیدگی کے ساتھ احتجاج کی لَے ہے۔ یہ شاعری صرف ذات کا اظہار نہیں بلکہ اُن کی دردمندی کا نغمہ بھی ہے۔ اُن کا جانا نئی نسل کی شاعری کا ایک بڑا نقصان ہے۔ ساز کے طالب علمی کے زمانے کے دوست پروفیسر سید اقبال نے بڑے غمزدہ لہجے میں کہا کہ ایسا شخص جو بچپن کا دوست ہو، لڑکپن میں بھی دوست رہا ہو اور جس سے اب تک دوستی قائم رہی ہو، اس کے انتقال کی خبر سنی تو دل دھک سے رہ گیا۔ وہ دوستوں کے دوست تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK