نوجوان کی لاش بدلنے کیخلاف سائن اسپتال کے باہر دھرنا اور راستہ روکو آندولن

Updated: September 16, 2020, 8:02 AM IST | Kazim Shaikh | Sion

احتجاج میں شامل قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر پروین دریکر ، مقامی رکن اسمبلی تمل سلوین اورممبئی بی جے پی کے صدر منگل پربھات لوڈھا نے ڈاکٹر اورعہدیداران کومعطل کرنے کا مطالبہ کیا۔میونسپل کمشنر نہیں آئے تو مظاہرین سڑک پر آگئے جس سے کافی دیر تک ٹریفک جام ہوگیا ۔ اسپتال کے ڈین نےپروین دریکر سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے انکار کردیا ۔بی جے پی لیڈر پر ڈین اورایڈیشنل میونسپل کمشنر سےبدتمیزی کا الزام

Protest at Sion Hospital - PIC : Pradeep D
سائن اسپتال کے باہر احتجاج ۔ تصویر : پردیب دھیور

سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والے  انکش کی لاش  سائن اسپتال میں کسی اور کو دے دی گئی تھی جنہوں نے اسے  شمشان میں  نذر آتش کردیا  جس کے خلاف پیر کو کافی ہنگامہ کیا گیا اور منگل کو مقامی رکن اسمبلی کیپٹن آر تمل سلوین، قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر پروین دریکر اور ممبئی بی جے پی  صدر منگل پربھات لوڈھا نےمہلوک کی بہن جے شری کے ہمراہ  سائن اسپتال کے باہر پارٹی ورکروں کے ساتھ دھرنادیا  اور مظاہرین نے راستہ روکو آندولن بھی کیا ۔ انہوں نے  ڈاکٹروں اور عہدیداران کو معطل کرنےکا مطالبہ کیا۔ اسپتال کےڈین نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے برہم  ہوکر ڈین اور  ایڈیشنل میونسپل کمشنر سے بد تمیزی کی ۔ 
 منگل کی دوپہر احتجاج کے دوران پروین دریکر نے اسپتال انتظامیہ سے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے ۲؍ ملازمین کو معطل کردینے سے معاملہ ختم نہیں ہوتا  ۔ ڈاکٹر اورعہدیداران کو بھی معطل کیا جائے۔ اگراس  مطالبےکو نظر انداز کیا گیا  تو ہم اسپتال کے باہر سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کریں گے ۔ اسی دوران سائن اسپتال کے ڈین جوشی نے مظاہرین سے بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن پروین دریکر نے یہ کہہ کر  انکار کردیا کہ اس سلسلے میں وہ میونسپل کمشنر سےبات کریں گے ۔   دریکر اور دیگر لیڈران نے میونسپل کمشنر سے ملاقات کرکے مطالبات  دہرانے کو کہا لیکن جب وہ نہیں آئے تو   رکن اسمبلی  کیپٹن آر تمل سلوین،بی  پروین دریکر اور منگل   پربھات لوڈھا نے  مہلوک کی بہن جے شری کے ہمراہ سائن اسپتال کے باہر سڑک پر احتجاج شروع کردیا جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوگیا ۔   سائن اسپتال کے باہر دھرنے پر بیٹھے پروین دریکر  نے کہا کہ اگر انکش سروڈے کا گردہ نہیں نکالا گیا تو کئی روز پہلے چونا بھٹی کے۵۰؍ سالہ ہیمنت دگمبرنے خودکشی کی تھی جس کی لاش میں تبدیلی آچکی ہے ،  اس کے باوجود  ۲۶؍ سالہ انکش کی لاش  ہیمنت کے گھروالوں کوکیسے دے دی گئی ۔ اسپتال میں مرنے والوں کی نشاندہی کیلئے کیاکوئی ٹھوس طریقہ نہیں اپنا یا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جب لاش ان کے ورثاء کو دی جاتی ہے تو کیا ان سے میت کا کوئی شناختی ثبوت حاصل نہیں کیا جاتا ۔میت کی کوئی نشاندہی نہیں کی جاتی جس کے ذریعہ یہ پتہ چلے کہ جو لاش اہل خانہ کو دی جارہی ہے ، وہ صحیح ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند گھنٹوں میں لاش نذرآتش کردینے کا مطلب یہ ہے کہ جان بوجھ کر گردہ چوری کا معاملہ چھپانے کیلئے یہ سب کیا گیا ۔ انھوں  الزام لگایا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر گردہ  کا کوئی بڑا ریکٹ اسپتالوں میںسرگرم  ہے جس کی اعلیٰ سطحی جانچ کی جانی چاہئے ۔ 
 رکن اسمبلی کیپٹن آر تمل سلوین نے کہا کہ کووڈ  ۱۹؍ کے نام پر اسپتالوں میں لوگوں کے ساتھ دھاندلی کی جارہی ہے ۔ ہندو کی لاشیں مسلمان کو اور مسلمانوں کی لاشیں دیگر مذاہب کے ماننے والوںکو دی جارہی ہے اور کوئی بھی ان سے پوچھ تاچھ کرنے والا نہیں ہے ۔ سرکاری اور  میونسپل اسپتالوں پر سے عوام کابھروسہ اٹھتا جارہا ہے ۔ کئی لوگ سائن اسپتال کو موت کا اسپتال کہنے لگے ہیں ۔ دریں اثناء بی جے پی  ورکروں نے ’بی ایم سی شرم کرو‘ ، ’دھوکہ بازی بند کرو‘،  ’انکش کو انصاف دو‘ ،  ’موت کا کھیل بند کرو ‘، ’ ڈاکٹر کو معطل کرو‘،’گردہ  چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرو‘، ’انکش کی لاش کے معاملے  میںڈاکٹروں او ر اسپتال کے حکام کو معطل کرو ‘ جیسے نعرے لگائے۔ احتجاج کے پیش نظر  اسپتال کے داخلی دروازے پر بھاری  پولیس بندوبست  تھا ۔ کسی کو بھی اندر بغیر جانچ جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی  اور سامنے سڑک پر ٹریفک پولیس عملہ گاڑیوں کی آمدورفت میں ہونے والی دشواریوں کو دور کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔مظاہرین کے مطابق میونسپل کمشنر نے وعدہ کیا ہے کہ بدھ کی شام  ان سے اس سلسلے میں گفتگو کی جائے گی ۔ 
 اس تعلق سے سائن اسپتال کے ڈین جوشی سے گفتگو کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے انکار کردیا ۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK