رائے گڑ ھ :گانٹھ کی بیماری کازور ،۲؍ بیلوں کی موت

Updated: September 27, 2022, 9:57 AM IST | murud

ضلع میں لمپی وائرس سے۲۹ ؍مویشی متاثر، کسانوں کو معاوضہ ملے گا،چوپایوں کو ٹیکے لگانے کا کام جنگی پیمانے پر جاری ،گئوشالاؤں میں ٹیکہ کاری مکمل

Lumpy virus-infected cattle develop lumps on their bodies
لمپی وائرس سے متاثر مویشیوں کے بدن پرگانٹھیں نمودار ہوجاتی ہیں

:علی باغ، رائے گڑھ ضلع میں لمپی وائرس کے کیس بڑھتے جارہے ہیں۔کرجت، روہا اور علی باغ تعلقہ میں۲۹؍ جانورلمپی وائرس سے متاثرہوئے ہیں۔ متاثرہ جانوروں کا محکمہ مویشی پروری کی طرف سے علاج کیا جا رہا ہے۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس وائرس سے بچاؤ کیلئے  ٹیکہ کاری پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور مذکورہ محکمہ نے متاثرہ علاقے کے۵؍ کلومیٹر کے دائرے میں ۱۰؍ ہزار۲۲۰؍مویشیوں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔ 
کسان نے بیل خریدا لیکن بیماری سے موت 
 اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق  رائے گڑھ ضلع کے کھالاپور تعلقہ میں ایک کسان نے حال ہی میں ۴۰ ؍ہزار روپے کاچھوٹا بیل خریدا تھا لیکن لمپی وائرس سے اس کی موت ہو گئی۔ محکمہ مویشی پروری کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر راجیش لالگے نے بتایا کہ ضلع میں ۴۰؍ہزار ویکسین کا ذخیرہ موجود ہے اور اب تک مجموعی طور پر ۱۳؍ ہزار جانوروں کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لمپی ایک متعدی بیماری ہے جو گائے کی نسل کے جانوروں اوربھینسوںکو متاثر کرتی ہے۔کرجت میں لمپی سے متاثرہ جانوروں کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ مویشی پالن نے ضلع میں  اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔
  ضلع کونسل کے۱۰۰؍اور ریاستی حکومت کے ۲۲؍ سمیت مجموعی طور پر ۱۲۲؍ ویٹرنری کلینکس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہر طرف عوامی بیداری شروع ہو گئی ہے۔ سرکاری سطح پر اس بیماری کے تعلق سے مختلف پروگرام منعقد کرکے عوام میں بیداری لائی جا رہی ہے ۔کرجت کے پمپلولی، امبیوالی، واوے، کھنڈاس، میرچول واڑی آوچارے ، امبیوالی ، روہا کے دورتالی گاؤں اور علی باغ تعلقہ کے چول میں مجموعی طور پر۲۹؍جانور لمپی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
  کرجت تعلقہ میں ایک متاثرہ بیل کی موت ہوگئی ہے اور ۲؍ کی حالت تشویشناک ہے جبکہ کھالاپور  کے رسائنی میں ایک بیل کی  اس بیماری سے موت ہوئی ہے ۔ڈپٹی کمشنر آف انیمل ہسبنڈری کے دفتر سے یہ اطلاع دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ لمپی وائرس کے معاملات میں اضافہ کو روکنے کیلئے ضلع میں ٹیکہ کاری پر زور دیا جا رہا ہے۔ جن علاقوں میں متاثرہ جانور پائے گئے ہیں وہاں کے ۱۰؍ہزار ۷۱۶؍ جانوروں میں سے ۱۰؍ہزار ۲۲۰؍جانوروں کی ٹیکہ کاری مکمل کر لی گئی ہے۔
 متاثرہ مویشیوں کاعلاج اور پوسٹ مارٹم کی خدمات مفت
  لمپی وائرس کے انفیکشن کو روکنے کیلئے ضلع کے سبھی تعلقوں میں مویشیوں کے دواخانے الرٹ موڈ پر کر دئے گئے ہیں۔ ضروری مقامات پر ٹیکہ کاری کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر راجیش نے بتایا کہ متاثرہ مویشیوں کے علاج کے تمام اخراجات ریاستی حکومت کی طرف سے مفت فراہم  کیے جا رہے ہیں اور محکمہ مویشی پروری کی طرف سے ویکسین، علاج اور پوسٹ مارٹم کی خدمات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔واضح  رہےکہ ڈسٹرکٹ پلاننگ کمیٹی کے ذریعے ہر ضلع کو ایک کروڑ کے فنڈز فوری طور پر دستیاب کرائے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس بیماری کی وجہ سے مرنے والے جانوروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
 ضلع کی تمام گئوشالاؤں میں صد فیصد ٹیکہ کاری مکمل 
  اسسٹنٹ کمشنر آف انیمل ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر راجیش لالگے نے  بتایا کہ مویشیوں کے محکمے نے لمپی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور گائوں میں مویشیوں کو صحت مند رکھنے کیلئے پہل کی ہے۔ ضلع کی گئو شالاؤں میں گایوں کی ٹیکہ کاری مکمل کرلی گئی ہے اور کل ۲؍ہزار ۴۱۸؍ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس وقت کہا گیا کہ صد فیصد ویکسین مکمل ہو چکی ہے۔علی باغ، کرجت، روہا تعلقہ میںلمپی وائرس سے متاثرہ جانور پائے گئے ہیں۔  مویشی پالنے والوں سے ٹیکہ کاری کے لیے محکمہ کے اہلکاروں کا تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK