معیشت کوتقویت دینے کیلئے آر بی آئی کمربستہ

Updated: May 06, 2021, 12:59 PM IST | Agency | New Delhi

کورونا کے حالات کے مد نظرمرکزی بینک کے متعدد اہم اعلانات ، گورنر نے کہا عوام اور اداروں کو تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے

RBI Governor Shakti Kant Das speaking at an online press conference. Picture:PTI
آربی آئی گورنر شکتی کانت داس آن لائن پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے۔تصویر:پی ٹی آئی

:  ملک میں کورونا کی نئی لہرکے سبب  معاشی حالات ایکبار پھر زبوں حالی کی جانب گامزن ہیں۔  اس کے مدنظر بحران سے نبردآزما معیشت کو تقویت د ینے کیلئےمرکزی بینک نے  متعدد اہم اعلانات کئے ہیں۔  ریززرو  بینک  آف انڈیا( آر بی آئی) کےگورنر شکتی کانت داس نے  بدھ ایک آن لائن پریس  کانفرنس کرتے ہوئے کووڈ ۱۹؍ کے حالات  پر قابو پانے کی کوششوں کے تحت مالی قرضوں سمیت عام آدمی کو راحت دینے کی کوشش کی ہے۔  
 کووڈ ۱۹؍ سے نمٹنے کیلئے ۵۰؍ ہزارکروڑ روپے  کےقرض کا  پیکیج
 آر بی آئی نے کووڈ سے متعلق انفراسٹرکچر سےوابستہ کمپنیوں ، دیگر اکائیوں اور عام لوگوں کو سستا قرض مہیا کرانے کے لئے ۵۰؍ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے ،  یہ قرض  ریپو ریٹ شرح پر دستیاب ہوگا۔ شکتی کانت داس نے بتایا کہ ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں ، دوا ساز کمپنیوں ، کووڈ کے علاج  کیلئے ضروری آلات ، آکسیجن اور وینٹی لیٹر تیار کرنے والی کمپنیوں ،ان کے درآمد کنندگان ، اسپتالوں ، نرسنگ ہومز اور پیتھالوجی لیبارٹریوں اوران سے وابستہ لاجسٹک سروس فراہم کر والی کمپنیوں کو بھی بینک  ریپو ریٹ کی شرح پر قرض فراہم کر سکیں گے( واضح رہے کہ فی الحال ریپوریٹ کی شرح  ۴؍ فیصد ہے) ۔ اس کے علاوہ کووڈ کے علاج کے لئے عام لوگوں کو  بھی اسی زمرے میں قرض دستیاب گا ۔
 آر بی آئی کے گورنر نے واضح کیا کہ یہ قرض ترجیحی زمرہ میں  دیئے جائیں گے  اور اس کی ادائیگی یا مدت پوری ہونے تک اسی زمرے میں رہے گا ۔ یہ سہولت۳۱؍مارچ ۲۰۲۲ء تک ہوگی ۔ اس کی زیادہ سے زیادہ میعاد ۳؍سال تک کیلئے ہوگی۔
  شکتی کانت داس نے کہا کہ  کورونا کی پہلی لہر کے بعد معیشت میں بحالی ہونی شروع ہوئی تھی لیکن دوسری لہر نے ایک بار پھر بحران پیدا کردیا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا کورونا کی موجودہ  کی صورتحال پر نظر رکھے ۔  ملک کی خدمت کرنے کی خاطر اپنے زیر اختیار تمام وسائل اور طریقہ کار کو بروئے کار لائے گا۔ ا انہوں نے کہا کہ جس خطرناک طریقے سے تیزی کے ساتھ یہ وائرس ملک کے مختلف علاقوں کو متاثر کررہا ہے، اِس کے  لئے تیزی کے ساتھ ایسی  مختلف اور متنوع کارروائیاں کرنی ہوں گی جو پیمانہ بند اور صحیح وقت پر ہوں تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات اور کاروبار کے علاوہ سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ خطرات کی حامل تجارت تک رسائی حاصل کی جاسکے۔ انہوں  نے کہا کہ  مرکزی بینک  تمام وسائل اپنے کنٹرول میں ر کھے گا اور اس  کے زیر انتظام خاص طور پر شہریوں، کاروباری اداروں اور دوسری لہر سے متاثرہ اداروں کیلئے تمام وسائل اور آلات فراہم کئے جائیں گے۔
   آر بی آئی کے گورنر نے  کہا کہ بینکوں کواس بات کے لئے ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ کمزورشعبوں کو قرض دیں۔اس کے ساتھ بینک اپنے اکاؤنٹ  بک میں کووڈ لون بک بنائیں گے۔اس کے علاوہ آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ ترجیحی شعبوں کے لئے بھی جلد قرضوں اور مراعات کی فراہمی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمال  فائنانس بینک کو خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ وہ اپنے صارفین کو اس کے ذریعے ۱۰؍ لاکھ روپے کی رقم کا تک لون  فراہم کرنے مجازی ہوں گے۔ 
’ کے وائے سی‘ اپ ڈیٹ کیلئے  ۳۱؍   دسمبر تک کی رعایت
  آر بی آئی نے ’کے وائی سی‘ کے عمل آسان بنانے کے لئے بھی کئی نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے وائی سی اپ ڈیٹ نہ ہونے کے سبب  بینک کسی بھی اکاؤنٹ سے لین دین پر۳۱؍ دسمبر تک روک نہیں لگا سکیں گے۔ کے وائی  سی اپ ڈیٹ کرنے کے لئے  تمام  ڈیجیٹل  ذرائع کے استعمال کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ آدھار کارڈوں کی بنیاد پر کھولے گئے ایسے بینک کھاتے جن میں صارفین اور بینک ملازمین آمنے سامنے نہیں تھے انہیں اب تک محدود کے وائی سی کھاتوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اب اس طرح کے تمام کھاتے بھیکے وائی سی کےزمرے میں آئیں گے۔ اس کے لئے الیکٹرانک دستاویزات بھی منظور ہوں گے
پینتیس؍ ہزار کروڑ کےسرکاری بانڈزکی خریداری 
   داس نے مزیدبتایا کہ سسٹم میں نقد رقم درست کرنے  کیلئےمرکزی بینک۳۵؍ ہزار کروڑ کےسرکاری بانڈزکی خریداری کرے گا۔ ۲۰؍ مئی سے اس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK