وطن جانےوالے لوگ کورونا کےعلاج کیلئے ممبئی کے ڈاکٹروں سے مدد طلب کررہے ہیں

Updated: May 04, 2021, 9:26 AM IST | saadat khan | Mumbai

کوروناوائرس پھیلنے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھبرا کر اُترپردیش ،بہار ، دہلی اور مدھیہ پردیش لوٹ جانے والے افراد وہاں بھی وبا پھیل جانے سے پچھتا رہےہیں۔طبی سہولیات کے فقدان اور حالات سے پریشان ہوکر ایسے افراد ہی نہیں بلکہ وہاں کے ڈاکٹر بھی شہرکے ڈاکٹروںسے فون پر رابطہ کررہےہیں۔اس کے پیش نظر ماہرڈاکٹروںکے ذریعے ان کی رہنمائی کا فیصلہ کیا گیا ہے

People returning to their homeland from Mumbai are also worried about the spread of Corona there.Picture:File Photo
ممبئی سے آبائی وطن جانےو الے افراد وہاں بھی کورونا پھیل جانے سےسخت پریشان ہیں۔ تصویرفائل فوٹو

کوروناوائرس او رلاک ڈائون سے گھبرا کر ممبئی سے اُترپردیش ، بہار ،  دہلی اور مدھیہ پردیش لوٹ جانے والے افراد اب  پچھتا رہے ہیں کیونکہ وہاں بھی  وبا تیزی سے پھیل رہی ہے  اور وہاں طبی سہولیات کے فقدان اور حالات سے پریشان ہوکر انہوں نے ممبئی کے ڈاکٹروںکو فون کرکے کوروناکے علاج کیلئے مدد طلب کرنا شروع کردیا ہے ۔اس کے پیش نظر ڈاکٹروں نے ان کی رہنمائی کا فیصلہ کیا ہے۔
 سیوڑی اسپتال کے سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ  ڈاکٹر للت آنندے نےاس بارے میں  انقلا ب کوبتایاکہ ’’ گزشتہ ۱۵؍تا ۲۰؍دن سے مجھے دہلی، لکھنؤ، بلیا،بھاگلپور، بریلی، وارانسی اور دیگر شہروں سے مجموعی طور پر روزانہ تقریباً ۴۰؍تا ۴۵؍افراد کے فون آرہے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر ہمارے مریض رہ چکےہیں۔وہ اپنے گھروالوں کیلئے جو کوروناسے متاثر ہیں، کے علاج کیلئےرو رو کر فون کررہے ہیں۔ وہ وہاں کے پریشان کن حالات سے پریشان ہیں۔پرائیویٹ ڈاکٹروںنے کلینک بند کررکھے ہیں ،  سرکاری اسپتالوںمیں مریضو ںکی زبردست بھیڑ ہے ، اسپتالوں میں آکسیجن بیڈ، وینٹی لیٹر اور دیگر طبی سہولیات کا فقدان ہے ۔ ایسے میں انہیں سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ وہ کیاکریں اس لئے وہ فون کرکے علاج کیلئے مدد طلب کررہےہیں۔ عام مریضوں کے علاوہ وہاں کے ڈاکٹر بھی صلاح ومشورہ کررہےہیں۔ ‘‘
 ڈاکٹرللت آنندےکےمطابق ’’ کووڈ۱۹؍  اور ٹی بی دونوں امراض کا تعلق پھیپھڑے سےہے۔ میرے مریضوںکو پتہ ہے کہ مجھے ٹی بی کے مرض کا اچھا تجربہ ہے اس لئے وہ وہاں سے فون کررہےہیں کہ میں ان کی رہنمائی کروں ۔ انہیں بتائوں کہ کووڈکا علاج کیسے کریں۔ جس طرح مریض اور ان کےمتعلقین ڈر وخوف کے سبب فون کررہےہیں ،اس سے محسوس ہورہا ہے کہ  ان کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے اور  وہ بےحد فکرمند ہیں ۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہاہےکہ وہ کیسے اپنا اور اپنوںکا علاج کروائیں۔ کئی گھروںمیں کورونا کی وجہ سے موت ہوچکی ہے ۔ایسے گھروںکے افراد بھی بڑی اُمید سے فون کررہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہمیں بچا لیجئے ۔ ہمار ی سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ ہم کہاں جائیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’اپنوں کے جدا ہو نےکے  صدمے سے کچھ گھروںکے افراد رات کو ٹھیک سے سو نہیں پارہےہیں جس کی وجہ سے انہیں خوفناک خواب آرہےہیں اور وہ  ڈر کر اُٹھ  جاتے ہیں۔ گھبراہٹ کی وجہ سے  انہیں وقت کا خیال بھی نہیں رہتا ۔ کبھی رات کو ڈھائی توکبھی ۳؍بجے بھی فون کررہےہیں ۔ میری ایک عادت ہے کہ میں مریض کو ہمیشہ اپنا موبائل نمبر دیتا ہوںاور انہیں اس بات کی  اجازت دے رکھی ہےکہ وہ تکلیف ہونے پر کبھی بھی  اور کسی بھی وقت فون کرسکتے ہیں۔ اس لئے ان دنوں آدھی رات میں بھی فون آرہے ہیں۔ میںپہلے ان کی تکلیف اور شکایتیں تسلی سے سنتا ہوں۔ بعدازیں انہیں ہنستے ہوئے مخاطب کرتاہوںاور ان کی کائونسلنگ اسی وقت شروع کردیتاہوں۔ انہیں سمجھاتا ہوں کہ اس مرض سے خوفزدہ ہونےکی ضرورت نہیں ہے۔ ہمت رکھو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ کائونسلنگ کے بعد انہیں  دوا تجویز کرتا ہوں۔ اس طرح ہر فون کرنےوالے میں پہلے خود اعتمادی پیداکرتاہوں بعدازیں دوا بتاتا ہوں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ ’’ جن مریضوںاور ان کے متعلقین کو افاقہ ہورہا ہے،  وہ میرا موبائل فون نمبر دیگر متاثرین سے شیئر کررہےہیں  جس کی وجہ سے ان کے بھی فون آرہے ہیں۔ عام مریضوں کے علاوہ ڈاکٹروںاور فوجی بھی اپنے گھر والوںکے علاج کیلئے مشورے لے چکےہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK