موہن دیلکرخودکشی معاملےمیں بی جے پی لیڈروں، پولیس اورافسران کےرول کی جانچ ہوگی

Updated: February 25, 2021, 1:16 PM IST | Staff Reporter | Mumbai

کانگریس کےوفد کو وزیر داخلہ انل دیشمکھ کی یقین دہانی، کانگریس لیڈران نےزوم ایپ پر وزیر داخلہ سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی

Mohan Delkar
موہن دیلکر

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے کانگریس کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ دادرانگر حویلی سے مسلسل ۷؍ مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہونے والے موہن دیلکر خودکشی کیس میں بی جے پی   کے لیڈروں ، پولیس  اور انتظامیہ  کے افسران کے رول کی جانچ کی جائے گی ۔ 
بی جے پی سے عاجز آکر ایم پی موہن دیلکر نے خودکشی کی؟: سچن ساونت
 مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اورترجمان سچن ساونت اور دیگر افسران پر مشتمل ایک وفدنے بدھ کو وزیرداخلہ انل دیشمکھ سے زوم ایپ پر میٹنگ کی ۔ سچن ساونت نے بتایا کہ ’’خودکشی کرنے سے قبل اپنے ۱۶ ؍ صفحات پر مشتمل سوسائڈ نوٹ میں موہن دیلکرنے لکھا کہ بی جے پی کے لیڈروں کے ہراساں کئے جانے سے وہ عاجز آچکے  تھے۔ آخر وہ اتنے بے بس کیسے ہوگئے کہ انہیں اپنی زندگی ہی ختم کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا؟ اس کا جواب انہوں نے ایک ویڈیو اور پارلیمنٹ میں اپنی تقریر وں میں دیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ  سال میں ان پر کس قدر دباؤ ڈالا جارہا تھا اور کس طرح انہیں بدنام کرنے کی دھمکی دی جارہی تھی۔ انہوں نے اپنے ویڈیو میں بی جے پی لیڈران کا تذکرہ بھی کیا تھا نیز اپنی موت سے قبل لکھے گئے خودکشی نوٹ میں گجرات کے سابق وزیر اور فی الوقت دادرا نگر حویلی کے نگراں پرفل کھوڈا پٹیل کا نام لیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موہن دیلکر بی جے پی کی جانب سے پریشان کیے جانے سےتنگ آکر خودکشی کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موہن دیلکر نے یہ سوچ کر ممبئی میں آکر خودکشی کی کہ کم ازکم مرنے کے بعد ان کے ساتھ انصاف ہو۔ اس لیے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو چاہیے کہ وہ  ان کی موت کے معاملے کی باریک بینی سے تفتیش کرتے ہوئے  اہلِ خانہ کو انصاف دلائے۔‘‘
موہن دیلکر کو پریشان کرنے کیلئے ’اوپر سے آرڈر ‘
 سچن ساونت نے کہا کہ ایک ممبرپارلیمنٹ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے، انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پریشان کرنے نیز انتظامیہ، پولیس وتفتیشی ایجنسیوں اور مقامی غنڈوں کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے بارے میں دیلکر نےموت سے قبل کے اپنے ایک ویڈیو پیغام پوری وضاحت کردی تھی۔جب انہوں نے پوچھا  تھاکہ آپ ہمیں پریشان کیوں کررہے ہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ’ اوپر سے آرڈر ہے‘۔ دیلکر نے کہا تھا کہ یہ معاملہ انگریزوں کے دور میں ہراساں کیے جانے سے بھی سنگین ہے۔اسی کے ساتھ وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے کر بھی اپنی آپ بیتی بیان کرنے والے تھے۔ کچھ دن قبل پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں انہوں نے اپنی تقریر میں اس معاملے میں اپنی صورت حال بیان کی تھی جس میں انہوں نے یہ بتایا تھا کہ کس طرح انہیں پریشان کیا جارہا ہے۔
 سچن ساونت نے کہا کہ وزیرداخلہ کے مطابق ممبئی میں خودکشی کرنے سے قبل۱۶؍ صفحات پرمشتمل خودکشی نوٹ لکھا ہے جس میں پولیس،انتظامیہ کے افسران کے ساتھ بی جے پی کے لیڈران  اورگجرات کے سابق وزیرداخلہ نیزدادرانگر حویلی کے نگراں پرفل کھوڈا پٹیل کا نام ہے۔ پرفل کھوڈا پٹیل بی جے پی کے بڑے لیڈر ہیں اور آرایس ایس کے قریبی ہیں۔ اس لیے ہم نے وزیرداخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں بی جے پی لیڈران کے رول کی تفتیش کی جائےجسے وزیرداخلہ نے منظور کرتے ہوئے تفتیش کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سچن ساونت نے کہا کہ ملک بھرکی دیگر ریاستوں میں  بھی حزبِ اختلاف کے لیڈران، ایم ایل اے، اراکین پارلیمنٹ وریاستی حکومتوں کو اسی طرح سےپریشان کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK