روس پر یوکرین کا اناج چرانے اور فروخت کرنے کا سنسنی خیز الزام

Updated: June 08, 2022, 12:17 AM IST | New York

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے تائید کی، مصدقہ رپورٹوں کا حوالہ دیا، یورپی یونین نے ماسکو کو عالمی غذائی بحران کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا، سلامتی کونسل سے روسی سفیرکا واک آؤٹ

Russian President Putin, surrounded by accusations, during an online meeting on economic issues.
روسی صدر پوتن جو الزامات سے گھرے ہوئے ہیں، اقصادی امور پر ایک آن لائن میٹنگ کے دوران۔(ایجنسی)

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن  نے پیر کو ا س الزام کی تائید کی کہ روس جنگ زدہ ملک یوکرین  کا اناج چراکر اسے اپنے منافع کیلئے فروخت کررہاہے۔ ا نہوں نے یہ بات اپنی وزارت کی ایک پریس بریفنگ کے دوران یوکرین  جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر غذائی  بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ دوسری طرف یورپی یونین نے   عالمی  غذائی بحران کیلئے روس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس کے بعد احتجاجاً پیر کو روسی سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک میٹنگ سے واک آؤٹ کردیا۔ 
 اناج چرانے کی مصدقہ رپورٹ: امریکہ 
 خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ  کے مطابق امریکی وزیر خارجہ  بلنکن نے کہا ہے کہ ’’اس بات کی مصدقہ رپورٹیں ہیں... روس یوکرین کا اناج چرا رہاہے اوراسے خود منافع حاصل کرنے کیلئے فروخت کررہاہے۔‘‘ انہوں  نے کہا  کہ ’’اس کےساتھ ہی  اپنے غذائی اجناس کی برآمدات کی بھی ذخیرہ اندوزی کررہاہے۔‘‘ انہوں نے مزیدکہا کہ ’’یوکرین  کے خلاف ر وس کی جنگ  کے عالمی غذائی سلامتی  کے محاذ پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوکرین کو پوری دنیا کا ’بریڈ باسکٹ‘(گیہوں کا سب سے بڑا سپلائر) کہا جاتا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ اس روس کے ذریعہ یوکرین کے اناج کی چوری کا انکشاف نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ ماہ امریکہ نے متنبہ کیا تھا کہ روسی کارگو جہاز یوکرین کے قریب بندرگاہوں سے چرایا ہوا اناج لے کر نکل رہے ہیں۔ امریکہ نےا س سلسلے میں ۱۴؍ ممالک کو الرٹ جاری کیاجس میں زیادہ تر افریقی ممالک ہیں۔  الرٹ کے مطابق کریملن یہ اناج افریقی ممالک کو بیچ رہاہے جنہیں ممکنہ قحط سالی کا سامنا ہے۔ امریکہ کے مطابق اس طرح کریملن افریقی ممالک کو اس بات کیلئے مجبور کررہاہے کہ وہ یاتو ایسے وقت میں جب ان  کے شہریوں کو بھکمری کا سامنا ہے، سستا اناج خریدنے سے انکار کریں یا پھر (روس کے )ممکنہ جنگی جرائم  سے فائدہ اٹھائیںا ور اس طرح اپنے یورپی اتحادیوں کو ناراض کریں ۔ بلنکن کے مطابق پوتن ایسے دیگر ممالک کو بھی مجبور اور بلیک میل کررہاہے تاکہ وہ یوکرین کے بجائے اس سے اناج خریدیں اور یوکرین  کے خلاف چھیڑی گئی جنگ میں اس کی تائید کریں۔ 
 عالمی غذائی بحران کیلئے روس پر الزام
  یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کی جانب سے یوکرین پر روسی حملے کو خوراک کے عالمی بحران کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد روسی سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا ہے۔ مائیکل نے پیر کو کہاکہ ’’  روسی فیڈریشن کے سفیر، آئیے ایمانداری سے کام کریں۔ کریملن خوراک کی فراہمی کو ترقی پزیر ممالک کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔  روس کی تباہ کن جنگ کے نتائج سے دنیا بھر کے ممالک متاثر ہو رہے ہیں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ جو لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل رہی ہیں اور پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر ر ہی ہیں۔ خوراک کے اس بحران کا ذمہ دار اکیلا روس ہے۔‘‘
روس پر یوکرین کو اناج فروخت نہ کرنے دینے کا بھی الزام 
 کریملن   پرجھوٹ اور پروپیگنڈہ  مہم  چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے  یورپی یونین کے  نمائندہ نے مزید کہا کہ’’ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ چند ہفتے قبل  (یوکرینی شہر) اودیشہ میں لاکھوں ٹن اناج اور گیہوں سے بھرے کنٹینر بحری جہازوں میں پھنس کر رہ گئے تھے کیونکہ بحیرہ اسود اور روس میں تعینات روسی جنگی جہاز ٹریفک ڈھانچے پر حملے کرتے رہے۔  روسی ٹینک، بم اور بارودی سرنگیں یوکرین کو کاشتکاری سے روک رہی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’کریملن اناج کی دکانوں پر حملہ کر رہا ہے اور یوکرین میں اناج چوری کر رہا ہے۔ جبکہ وہ اس کا الزام دوسروں پر لگا رہا ہے۔‘‘یورپی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ’’یورپی یونین کی روس میں زرعی شعبے پر کوئی پابندی نہیں ہے  اور روسی ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی ہماری پابندیاں یورپی یونین کی سرحدوں کے راستے میں نہیں آتیں۔ ‘‘   روسی سفیر کے واک آؤٹ کے بعد  مائیکل نے کہاکہ’’ آپ میٹنگ کو چھوڑ سکتے ہیں، مسٹر ایمبیسڈر، سچ نہ سننے کا یہ آپ کے لیے آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔ ہماری پابندیاں روسی جہازوں کو ترقی پزیر ممالک تک اناج، خوراک یا کھاد لے جانے سے نہیں روکتی ہیں۔‘‘

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK