کناڈا میں اسلامو فوبیا کا سنسنی خیز واقعہ، مسلم خاندان کا گاڑی سے کچل کر قتل

Updated: June 09, 2021, 8:21 AM IST | toronto

پاکستانی نژاد فیزیو تھیراپسٹ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سڑک پار کرنے کیلئے سگنل پر کھڑے تھے کہ ۲۰؍ سالہ نوجوان نے ان کی بوڑھی ماں سمیت تمام لوگوں پر گاڑی چڑھا دی۔ ۹؍ سالہ بچے کو چھوڑ کر باقی تمام افراد ہلاک۔ گرفتاری کے بعد ملزم نے اقرار کیا کہ اس نے صرف مسلمان ہونے کی بنا پر ان کا قتل کیا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی جانب سے واقعے کی سخت مذمت

A child lays flowers in front of the memorial at the scene of the accident (Photo: Agency)
جائے حادثہ پر مہلوکین کی یادگار کے آگے پھول چڑھاتے ہوئے ایک بچہ ( تصویر: ایجنسی)

 کناڈا میں اسلامو فوبیا کا ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ یہاں ایک نوجوان نے اپنی ٹرک سے ایک مسلم خاندان کے چار افراد کو کچل کر ہلاک کر دیا۔  اس کا ارادہ پورے خاندان کو ختم کر دینے کا تھا لیکن  ان  میں سے ایک ۹؍ سالہ بچہ جسے زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا تھا بچ گیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف ’نفرت پر مبنی جرم‘ کا معاملہ درج کیا ہے
  اطلاع کے مطابق کناڈا کے صوبے اونٹاریو میں واقع لندن شہرکے ایک ہی خاندان کے ۵؍ افراد  سڑک پار کرنے کی غرض سے سگنل پر کھڑے تھے۔ یہ ۴۶؍ سالہ فیزیو تھیراپسٹ سلمان افضل کا خاندان تھا۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ مدیحہ افضل (۴۴)  اور  ان کی بزرگ ماں (۷۴) کے علاوہ بیٹی   یمنی (۱۵) اور بیٹا فائز(۹) بھی تھے۔ یہ پورا خاندان سگنل کے تبدیل ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ تبھی نتھانیل ویلٹمن نامی  ایک   نوجوان اپنی گاڑی لے کر پہنچا اور اس نے  ان لوگوں پر اپنی گاڑی چڑھا دی۔  عینی شاہدین کے مطابق اس نے قتل کے ارادے ہی سے ان لوگوں پر گاڑی چڑھائی تھی۔   قتل کے بعد  ویلٹمن گاڑی لے کر فرار ہو گیا جبکہ  متاثرین کو اسپتال پہنچایا گیا لیکن ان پانچوں میں سے صرف ۹؍ سالہ فائز بچ سکا جبکہ باقی افراد کی موت ہو گئی۔ بنیادی طور پر اس خاندان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ 
مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل
 پولیس نے فوراً ہی ویلٹمن کا تعاقب کیا اور اسے قریب کے ایک شاپنگ سینٹر کے پارکنگ لاٹ سے گرفتار کر لیا جہاں وہ غالباً اپنی گاڑی پارک کر رہا تھا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ  پال ویٹ نے بتایا کہ ملزم مہلوکین کا پہلے سے نہیں جانتا تھا۔ اس نے ان لوگوں پر صرف اس لئے گاڑی چڑھا دی کہ وہ مسلمان تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق برطانیہ کے شہر لندن سے ہے۔  انہوں نے بتایا کہ پولیس  اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا اس شخص کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہے ؟ پال ویٹ کے مطابق ماہرین سے اس بات پر بھی مشورہ کیا جا رہا ہے کہ ملزم کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ فی الحال ویلٹمن کو عدالت میں حاضر کیا گیا تھا جہاں  اسے پولیس تحویل میں دینے کا حکم سنایا گیا ہے۔  پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق  یہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیاہے۔ 
جسٹن ٹروڈو کی جانب سے سخت مذمت
  واقعے کے فوراً بعد کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹویٹ کرکے نہ صرف اس واقعے کی مذمت کی  بلکہ اسے اسلامو فوبیا بھی قرار دیا۔ ٹروڈو نے پہلے ٹویٹ کرکے اطلاع دی کہ’’ میری افسران سے بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اسلامو فوبیا سے نپٹنے کیلئے  ہر ممکن اقدام کریں گے۔‘‘ پھر انہوں نے دوسرا ٹویٹ کیا ’’ میں لندن ( کناڈا والا) شہر اور ملک بھر کے مسلمانوں کو بتادوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں  ۔ ہماری قوم میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’نفرت کا یہ واقعہ داخلی نوعیت کا ہے اور حقیر سا ہے۔ اس طرح کے واقعات کو ہر حال میں روکا جائے گا۔‘‘
اپاکستان کا ردعمل
  چونکہ اس خاندان کا تعلق پاکستان سے تھا اس لئے پاکستان نے فوری طور پر اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان  نے ٹویٹ کیا کہ ’’دہشت گردی کا یہ واقعہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ عالمی برادری کو اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنی ہو گی۔‘‘دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا واقعہ ہےپولیس کی تحقیقات کے مطابق اس واقعہ میں اسلاموفوبیا کا عنصر موجود ہے جس میں تین بے گناہ، بے قصور نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔‘‘انھوں نے کناڈا کے  وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے اور وہ کناڈا کے مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
حملہ آور کو دہشتگرد قرار دینے کا مطالبہ
 لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر نے کہا ہے کہ وہ ’لندن کے تمام شہریوں کی جانب سے کہہ رہے ہیں کہ’’ ہمارے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ہم اس خاندان کیلئے افسردہ ہیں جس کی تین نسلیں فوت ہو گئی ہیں۔‘انہوں نےکہاکہ لندن سٹی ہال کے باہر موجود پرچموں کو تین روز کیلئے سرنگوں رکھا جائے گا۔نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمس نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آور پر دہشت گردی کی فردِ جرم عائد کی جانی چاہئے۔

canada Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK