شاملی: نجی اسکولوں کے اساتذہ کو سنگین مالی بحران کا سامنا

Updated: July 15, 2020, 12:55 PM IST | Bilal Bajrolvi | Shamli

قصبہ کیرانہ کے سیکڑوں اساتذہ کیلئے اپنا اوراپنے بچوں کا پیٹ پالنا مشکل۔ ٹیوشن کلاسیز بھی بند، گھر گھر جا کر ٹیوشن پڑھانے والے بھی پریشان۔ گھر جاکر دینیات ، عربی اور دیگر مضامین پڑھانے والے اساتذہ کو بھی پوری فیس نہیں مل رہی ہے

na public school
کیرانہ کا این اے پبلک اسکول ۔

اترپردیش کے ضلع شاملی میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دور میں اسکول کے بند ہونے سے ضلع شاملی کے سیکڑوں نجی اسکولوں کے معلمین کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ اسکولوں میں طلبہ آنہیں رہے ہیں تو والدین فیس بھی نہیں دے رہے ہیں ، آئے دن بچوں کے والدین حکام سے ملاقات کرکے فیس معاف کرانے کی گزارش کررہے ہیں، ایسے میں پرائیوٹ اسکول بحران کے دور سے گزررہے ہیں۔ 
 اس سلسلے میں انقلاب نے ضلع کے قصبہ کیرانہ کے اسکولوں کے  پرنسپل سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے سرکار کو کوئی ٹھوس فیصلہ کرنا چاہئے ۔ نیو ایمبیشن اسکول کے پرنسپل بھائی اسد کاکہنا ہے کہ کیرانہ میں تقریباً ۳؍درجن نجی اسکول ہیں جن میں کم وبیش ۵۰۰؍ سے زائد ٹیچر پڑھاتے ہیں، یہ تمام اسکولز آج کل بند ہیں تو ان  معلمین کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ بھائی اسد نے مزید کہا کہ ذرا سرکاری اسکولوں کا خرچ دیکھئے ! ایسے بہت سے سرکاری اسکول ہیں جن میں ہر ۱۵؍ طالب علم پر ایک معلم ہے، ہر معلم ۴۰۔۵۰؍ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پاتا ہے، سرکار مڈ ڈے میل کا انتظام بھی کرتی ہے، تعلیمی افسران کی تنخواہیں بھی معقول ہیں۔ ماہانہ ایک سےسوا لاکھ تک ہیں ۔ اس طرح سرکاری اسکولوں میں فی طالب علم ۳؍ ہزار روپے سے زائد خرچ ہوجاتے ہیں جبکہ یہی کام پرائیویٹ اسکولز چند سو روپے ماہانہ میں کردیتے ہیں۔ ایک ایک معلم کے سامنے ۳۰؍سے۳۵؍ طلبہ ہوتے ہیں۔ جو اسکول مہنگے ہیں، ان کا خرچ بھی سرکاری اسکولوں سے کم ہی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نجی اسکوں کے اخراجات عوام کی جیب سے پورے ہوتے ہیں جبکہ سرکاری اسکولوں کا خرچ سرکار اٹھاتی ہے۔ 
 این اے پبلک اسکول کے مالک سلیم انصاری نے انقلاب کو بتایا کہ لاک ڈاؤن میں بھی سرکاری اسکول کے معلمین پوری تنخواہ پارہے ہیں۔ اب سرکار نے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس میں والدین کا تعاون ضروری ہے۔ ہم اس نظام کو ناقص نہیں بتارہے ہیں لیکن روایتی تعلیم کا متبادل یہ نظام کیسے بنے گا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ انہوں  نے کہا کہ جو اسکول اچھا کام کررہے ہیں، جن کے نتائج بہتر ہیں، ان کی کچھ  مدد سرکارکردے یا کوئی بیچ کا راستہ نکال دے تو سدھار ہوسکتا ہے، ورنہ اس صورت حال میں پرائیوٹ اسکولوں کے معلمین کے سامنے اقتصادی بحران کھڑا ہوجائے گا، اس لئے کیرانہ کے ۳؍ درجن سے زائد اسکول آج کل مشکل کے دور سے گزررہے ہیں۔
 ان کے مطابق لاک ڈاؤن کے سبب کوچنگ سینٹروں کا بُرا حال ہے۔ یہ کوچنگ مراکز بھی بند ہیں۔ کیرانہ   کے کئی کوچنگ مراکز  بند پڑے ہیں۔ جو ماسٹر صاحبان اجتماعی ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے، وہ بھی بچوں کی تعلیم اور ٹیوشن دینے کیلئے ترس رہے ہیں۔ اسی طرح کے ٹیوشن پڑھانے والے ماسٹر اخلاق کہتے ہیں کہ وہ کئی بیچ کے بچوں کو اجتماعی ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے مگر آج ان کا ٹیوشن سینٹر بند پڑا ہے۔ اب رہ گئے گھر گھر جاکر ٹیوشن پڑھانے والے تو ان کے ٹیوشن تو جاری ہیں لیکن  کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے  پورے پیسے نہیں مل رہے ہیں۔ 
 گھرگھر  جاکر ٹیوشن پڑھانے والے حافظ مبین کا کہنا ہے کہ وہ بہت سے گھروں میں دینیات کی تعلیم دینے جاتے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پہلے بچے بہت تھے، اب ان تعداد کم ہورہی ہے۔ کچھ جگہوں پر ۱۵۔۲۰؍ بچے اکٹھا ہوجایا کرتے تھے، وہ سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ ایک انسان ایک دن میں کتنے گھروں پر جاکر پڑھاسکتا ہے اور کتنے پیسے کماسکتا ہے؟ یہ اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر تعلیمی میدان میں کام کرنے والے اقتصادی بحران کا شکار ہیں۔ سرکار وعدے تو بہت کررہی ہے مگر مسئلہ کا حل نہیں کررہی ہے۔
 اہم بات یہ ہے کہ ان نجی اسکولوں میں کالج سے سند یافتہ نوجوان  وابستہ  ہیں، ان کی روزی روٹی کا انحصار ان  کی ماہانہ تنخواہوں پر ہے۔ اسکول  بند ہونے پر یہ نوجوان کہاں جائیں؟  ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK