سری لنکا، ایران کےتیل کی قیمت چائے کی صورت میں ادا کرے گا

Updated: December 23, 2021, 7:38 AM IST | Colombo

حالیہ معاشی بحران کے درمیان قرض کی ادائیگی کیلئے کولمبو کی نئی ترکیب، اس سے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوگی

Will tea cultivation in Sri Lanka support the economy? (Photo: Agency)
کیا سری لنکا میں چائے کی کاشت معیشت کو سہارا دے گی؟( تصویر: ایجنسی)

سری لنکا  حکومت کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران سے درآمد کیے جانے والے تیل کی قیمت اپنی چائے سے ادا کرے گا۔رمیش پتھیرانا کا کہنا ہےکہ ۲۵۱؍ ملین ڈالر کا قرضہ اتارنے کیلئے سری لنکا ہر مہینے ۵؍ ملین ڈالر کی چائے ایران کو دے گا۔سری لنکا کو اس وقت بیرونی قرضوں اور زرِ مبادلہ کے ذخائر سے متعلق شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کورونا وائرس کے نتیجے میں سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں انتہائی کمی آئی ہے جس کی وجہ  سے ملک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
 سری لنکا میں ’ٹی بورڈ‘ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ چائے کے بدلے بیرونی قرضہ ادا کیا جا رہا ہے۔رمیش پتھیرانا کا کہنا ہے کہ قرضے کی ادائیگی کے اس طریقۂ کار سے ایران پر اقوامِ متحدہ یا امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں ہو گی کیونکہ چائے کا شمار ان اشیاء میں ہوتا ہے جو انسانی فلاح کے زمرے میں آتی ہیں اور اس معاملے میں کوئی بھی ایسا ایرانی بینک شامل نہیں ہے جسے بلیک لسٹ کیا گیا ہو۔انھوں نے بتایا `ہم ہر مہینے ۵؍ ملین ڈالر لاگت کی چائے ایران کو برآمد کر کے ایران سے خریدے گئے تیل کی ادائیگی کریں گے جو گزشتہ ۴؍ سال سے التوا کا شکار ہے۔
 سری لنکا کی وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ اسکیم سے سری لنکا کو زرِ مبادلہ کے لحاظ سے فائدہ ہو گا کیونکہ ایرانی قرضے کی ادائیگی سیلون چائے کی فروخت کے ذریعے سری لنکا کے روپے میں ہو گی۔اس کا مطلب ہے کہ سری لنکا حکومت چائے کاشت کرنے والی کمپنیوں سے روپے میں ادائیگی کے ذریعے چائے خرید کر ایران بھیجے گی۔تاہم چائے ایسوسی ایشن کے ایک ترجمان روشن راج دورائی نے ادائیگی کے اس طریقے کو `عارضی اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔اس سے ایکسپورٹر کو فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ ہمیں روپے میں ادائیگی ہو گی۔ یہ فری مارکیٹ سے انحراف ہے اور ہمیں اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔میڈیا رپورٹوںکے مطابق سری لنکا کو آئندہ برس قرضوں کی مد میں ۴ء۵؍ ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ صرف جنوری میں ’انٹرنیشنل سوورن بانڈ‘ کی مد میں ۵۰۰؍ ملین کی ادائیگی ہونی ہے۔
 ملک کے مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر کے اختتام تک ملک میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہو کر صرف ۱ء۶؍ ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK