یوپی میں چبھنے والی سرد ہوائوں کا زور

Updated: January 20, 2022, 9:13 AM IST | Lucknow

کئی اضلاع میں گھنے کہرے کے ساتھ شدید ٹھنڈ نے جینا دوبھر کردیا ، اگلے ۷۲؍ گھنٹوں میں بارش کی بھی پیش گوئی

Due to severe cold in UP, travel has become difficult for travelers. (Photo: PTI)
یوپی میں شدید ٹھنڈ کی وجہ سے مسافروں کیلئے سفر بھی مشکل ہو گیا ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی )

اترپردیش سمیت پورے شمالی ہند میں ان دنوں جہاں سیاسی پارہ گرم ہوتا جارہا ہے وہیں شدید ٹھنڈ نے شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ بدن میں چبھنے والی شدید ہوائوں نے لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔  اس پر مشکل یہ بھی آپڑی ہے کہ محکمہ موسمیات نے اگلے۷۲؍گھنٹوں میں ریاست کے کئی مقامات پر بارش کی پیش گوئی کی ہے جس کی وجہ سے اگلے ایک ہفتے تک ٹھنڈ میں مزید اضافہ اور درجہ حرارت میں بھاری گراوٹ درج کی جاسکتی ہے۔  اطلاعات کے مطابق ریاست کے کئی علاقے دیر رات سے گھنے کہرے کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔کہرے اور دھند کی وجہ سے کچھ علاقوں میں دوپہر تک  سورج کی کرنوں نے زمین  تک رسائی حاصل نہیں کی تھی۔
مغربی یوپی متاثر 
  ہمالیہ سے قریب واقع  مغربی یوپی کے اضلاع میں خاص طور پر   نشتر بھری برفیلی ہوائیں چل رہی ہیں جس کی وجہ سے میرٹھ ، سہارنپور ،دیو بند، قنوج ، غازی آباد، آگرہ ،مراد آباد، بریلی ، رامپور اور دیگر شہروں میں ٹھنڈ سےبچنے کے لئے لوگ سر سے پیر تک گرم کپڑوں میں لپٹے نظر آ رہے ہیں۔ اودھ کے علاقوں میں بھی کم و بیش یہی حال ہے۔اس مدت میں ہوا کی کوالٹی بیحد خرب  ریکارڈ ہو رہی ہے۔ اور لکھنؤ سمیت زیادہ تر شہروں میں ہوا کا کوالٹی کا انڈیکس ۲۲۰؍سے۳۲۵؍ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
درجہ حرارت میں گراوٹ 
   بدھ کی دوپہر ایک بجے تک زیادہ تر اضلاع میں درجہ حرارت ۱۲؍ سے ۱۶؍ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے کافی کم ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھنڈ سے فی الحال راحت ملنے کے کوئی آثار نہیں ہیں حالانکہ جمعرات کو کئی علاقوں میں دھوپ نکلنے سے درجہ حرارت میں معمولی اضافے کے امکان  ہے لیکن ٹھنڈ کم ہواور درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا اس بات کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ 
بارش سے ٹھنڈ اور بڑھے گی
 محکمہ موسمیات نے یوپی واسیوں کے لئے مزید بری خبر یہ سنائی ہے کہ اگلے ایک سے ۲؍ دن میں کچھ اضلاع میںپر بارش ہو سکتی ہے جبکہ سنیچر سے اگلے تین دنوں تک زیادہ تر علاقوں میں بارش  کی بوندیں لوگوں کو ایک بار پھر شدید ٹھنڈ کا احساس کراسکتی ہیں۔ بارش کا اندازہ مشرقی یوپی کے علاقوں میں زیادہ ہے جبکہ مغربی یوپی میں اس کی وجہ سے موسم اور سرد ہونے کا امکان ہے۔
ڈاکٹروں کی صلاح 
 موسم کی تند مزاجی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے بیمار، کمزور اور بزرگوں کو خاص احتیاط برتنے کی صلاح دی ہے۔کہرے اور دھند کی وجہ سے خراب ہوئی ہوا کوالٹی کی وجہ سے سانس اور دل کے مریضوں کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فی الحال صبح کی سیر سے بچنا چاہئے اور ضرورت پڑنے پر گرم کپڑے پہن کر ہی  باہر نکلنا چاہئے۔
 اہم شہروں  میں شدید ٹھنڈ 
 راجدھانی لکھنؤ کے زیادہ تر علاقوں میں کہرے کا قہر صبح۱۱؍بجے تک رہا جس کی وجہ سے سڑکیں ویران رہیں۔ دوپہر۱۲؍بجے سورج کی کرنوں نے دستک دی لیکن دھند اور برفیلی ہواؤں نے سورج کی تپش کو بے اثر کردیا۔بادلوں سے ڈھکے آسمان اور  سرد لہر سے سیاسی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔ ہر چند کہ لکھنؤ میں ایسا کم دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن شدید ٹھنڈ نے  کچھ سرگرمیوں کو متاثر ضرور کیا ہے۔ دوسری طرف   وارانسی کے گھاٹوں میں گہماگہمی بے حد کم رہی۔  الٰہ آباد بھی میں سخت سردی  باوجود عقیدتمند سنگم میں ڈبکی لگاتے نظر آئے۔ عام طور پر صبح سے ہی مزدوروں اور پیشہ وروں سے آبادرہنے والے کانپور میں صبح ۱۰؍ بجے سڑک پر بھیڑ بھاڑ  بہت کم نظر آئی ۔مظفر نگر، میرٹھ، بلند شہر، بریلی، مرادآباد، آگرہ ،اٹاوہ اور مغربی اترپردیش کے زیادہ شہروں میں ٹھنڈ سے بچنے کیلئے  لوگ الاؤ تاپتے نظر آئے۔گورکھپور،دیوریا، اعظم گڑھ ،سدھارتھ نگر اوربستی  میں  ٹھنڈ کی لہر اور کہرے کا قہر جاری ہے۔
سڑک ، ریل اور ہوائی خدمات متاثر 
 سخت کہرے ، شدید ٹھنڈ اور دھند کا اثر سڑک ،ریل اور ہوائی آمدورفت پر بھی پڑا ہے۔ اموسی اور بابت پور ایئر پورٹ پر بدھ کو بھی کئی  پرازیں طے شدہ وقت سے کافی تاخیر سے آئیں جبکہ کچھ کو منسوخ کرنا پڑا۔سڑک کی آمد و رفت بھی متاثر ہے۔ریلوے نے بھی کچھ طویل مسافتی ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا  ہے جبکہ راپتی ساگر، پشپک ایکسپریس ،امرتسر کٹیہار ایکسپریس  اور دیگر ٹرینیں اپنے مقررہ وقت سے۱۲؍گھنٹے کی تاخیر سے چل رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK