گورنربھگت سنگھ کوشیاری کیخلاف این سی پی کا زبردست احتجاج

Updated: November 22, 2022, 1:52 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

شیواجی کی توہین کرنے پربرہم ، سی ایس ایم ٹی کے سامنے کرسی پر گورنر کا نام لکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا ، کانگریس نے بھی سخت مذمت کی

Protesters protesting in front of CSMT being taken into police custody.
سی ایس ایم ٹی کے سامنے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو پولیس تحویل میں لیتے ہوئے۔ (تصویر: سمیرمارکنڈے)

مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے ذریعے چھترپتی شیواجی مہاراج سے متعلق متنازع بیان  پر پیر کو بھی این سی پی اور کانگریس کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔  این سی پی کارکنوںنے ممبئی سمیت ریاست کے متعدد اضلاع میں بھگت سنگھ کوشیاری کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں گھر بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ این سی پی  نے  سی ایس ایم ٹی سے  راج بھون تک مورچہ نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی  اس لئے انہوںنے ایک خالی کرسی پر ’ راج پال‘ (گورنر) لکھ کر احتجاج کیااور شیواجی کی توہین کرنے والے ریاستی گورنر کو گھر بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ این سی پی  ورکروں نے صدر جمہوریہ کو ایک خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ یا تو وہ (صدر جمہوریہ) مہاراشٹر کے گورنر کو عقل دیں یا انہیں مہاراشٹر سے ہٹادیں۔
  سی ایس ایم ٹی کے سامنے این سی پی  کارکنان بھگت سنگھ کوشیاری کے خلاف  مراٹھی میں نعرے لگا رہے تھے ۔ یہ مظاہرہ  پیر کو ممبئی ڈویژنل این سی پی کے ورکنگ صدر نریندر رانے کی قیادت میں کیا گیا تھا۔
  اس سلسلے میں این سی پی یوتھ صدر آدیتی نلاوڑے نے کہا کہ ’’ شیواجی مہاراج کی توہین کرنے کے خلاف ہم خاموش احتجاج کر رہے تھے، اس کے باوجود یہ حکومت ہمیں مظاہرہ کرنے نہیں دے رہی ہے اور پولیس کو آگے کر رہی ہےلیکن شیواجی مہاراج کی توہین ہم برداشت نہیں کریں گے اور ایسے گورنر کو گھر بھیج کر رہیں گے۔‘‘
 اس مظاہرے میں نریندر رانے کے ساتھ جنوبی ممبئی کے ضلع صدر مہندر پنسارے، ریاستی ترجمان سنجے تٹکرے،  یوتھ صدر آدیتی نلاوڑے، یوتھ ورکنگ صدر سورج چوان، نائب صدر بپا ساونت، شمال مغربی ضلع صدر ارشد امین، اقلیتی ضلع صدر ایوب میمن، کسٹمر سیل ضلع صدر وجے دیسائی، اسٹوڈنٹ نیشنل سیکریٹری منوج تپال، جنوبی وسطی خواتین ضلع صدر سمریدھی جنگم، پوجا پوار، اسٹوڈنٹ ونگ کے  صدر پرشانت دیوتے،نوجوان، طلبہ اور عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔ اس تحریک کے ساتھ ہی ریاست کے تعلقہ اور اضلاع میں گورنر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ ہنگولی میں یوتھ ریجنل صدر محبوب شیخ، پونے میں سٹی صدر پرشانت جگتاپ نے اس تحریک کی قیادت کی۔
’’ پورے مہاراشٹرسے معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں‘‘
  شیواجی مہاراج کی غلط تاریخ بیان کرنے پر سابق کابینی وزیر اور این سی پی لیڈر جتیندر اوہاڑ نے جارحانہ موقف اختیار کیا اور کہا کہ شیواجی مہاراج نے اورنگ زیب سے کبھی معافی نہیں مانگی۔ شیواجی مہاراج نے پُرندر کے معاہدے میں جتنے قلعے کھوئے تھے، اس سے د گنا زیادہ قلعے جیتے تھے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ چھترپتی شیواجی مہاراج نے اورنگ زیب سے پانچ بار معافی مانگی تھی۔ شیواجی مہاراج کی زندگی میں صرف ایک معاہدہ ہوا تھا۔ یہ معاہدہ راجے جے سنگھ کے ساتھ ہوا۔ اسے پُرندر کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں ہونے والے مذاکرات کے مطابق وہ اورنگ زیب کے دربار میں گئے۔ شیواجی مہاراج نے اورنگ زیب سے اس معاہدے میں جتنے قلعے کھوئے تھے ،اس سے د گنا زیادہ قلعے لئے کیونکہ وہ وہاں کی ذلت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ یہ شیواجی مہاراج ہیں۔اوهاڑ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب مہاراشٹر میں سب کچھ ہو رہا ہے۔
کانگریس نے سوال پوچھے
  اس سلسلےمیں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ’’  چھتر پتی شیواجی مہاراج کےبارے میں جس طرح بی جےپی کے قومی ترجمان سدھانشوترویدی  اور مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے غلط بیانی کی ہے  اور جس طرح نائب وزیر اعلیٰ  دیویندر فرنویس نے سدھانشو کو بچانے کی کوشش کی ہے ،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ کانگریس پوری طاقت سے ان لیڈروں سے یہ سوال پوچھتی ہے کہ وہ کب تک شیواجی مہاراج کی توہین کرتے رہیں گے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK