کورونا کے عروج پر سپریم کورٹ کا شدید اِظہارِ تشویش

Updated: May 07, 2021, 7:22 AM IST | Mumtaz Alam Rizvi | New Delhi

ایک دن میں ۴؍ ہزار کے قریب لوگوں کی ریکارڈ اموات ، وزارت صحت نے رپورٹ جاری کی ،مرکزی و ریاستی حکومتیں بے بس ، تیسری لہرکی آمد آمد ، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ اگر اس وبا نے بچوں کو زد میں لیا تو آپ کیسے حالات سنبھالیں گے ؟

The Supreme Court has asked tough questions from the government.Picture:inquilab
سپریم کورٹ نے حکومت نے سخت سوالات پوچھے ہیں تصویر انقلاب

ملک میں  کورونا کا مسلسل عروج جاری ہے اور یہ انفیکشن متاثرین اوراموات کے نت نئے ریکارڈ قائم کرتا جارہا ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ایک دن میں ۴؍لاکھ ۱۲؍ ہزار ۲۶۲؍ نئے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ ۳؍ہزار ۹۸۰؍ لوگوں کی کورونا کے سبب موت ہو گئی ۔ یہ اب تک ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ  اموات ہیں جو کورونا کے سبب ہوئی  ہیں ۔ حالانکہ دو روز قبل جب کورونا میں کمی درج کی گئی تو اطمینان ہوا تھا کہ شاید کچھ راحت ملنے والی ہے تاہم کورونا نے ایک مرتبہ پھر سب کو خوف زدہ کر دیا ہے ۔آئی آئی ٹی کانپور اور حیدر آباد کے سائنسدانوں کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ مئی کے وسط میں کورونا اپنے شباب پر ہوگا ۔ ملک بھر میں فعال مریضوں کی تعداد ۳۵؍ لاکھ  ہو جائے گی ۔ان کے مطابق مئی کے وسط سے پہلے ہی ملک میں کورونا کےسرگرم مریضوں کی تعداد ۳۵؍لاکھ ۶۶؍ہزار ۳۹۸؍ ہو چکی ہے ۔ملک میں اس وقت کورونامتاثرین کی کل تعداد ۲؍ کروڑ ۱۰؍لاکھ ۷۷؍ہزار ۴۱۰؍ ہو چکی ہے جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ ۷۲؍لاکھ ۸۰؍ہزار ۸۴۴؍ ہے ۔ ملک میں اب تک ۲؍لاکھ ۳۰؍ہزار ۱۶۸؍ لوگوں کی صرف کورونا سے موت ہو چکی ہے ۔اب یومیہ ہلاکت کی تعداد ۴؍ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جو ڈرانے والی ہے ۔
 اس کے ساتھ ماہرین کے مطابق کورونا کی تیسری لہر بھی دستک دے رہی ہے اور اس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ بچے متاثر ہوں گے چنانچہ اس پر سپریم کورٹ نے حکومت ہند سے جواب طلب کیا ہے ۔سماعت کے دوران جسٹس چندر چڈ نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ کئی سائنسدانوں کی رپورٹ ہے کہ تیسری لہر شروع ہو سکتی ہے ،اگر بچے متاثر ہوتے ہیں تو  والدین کیا کریں گے ؟ اسپتال میں رہیں گے یا کیا کریں گے ؟ کیا ہے پلان ؟ ٹیکہ کاری کی جانی چاہئے ؟ ہمیں اس  سےنمٹنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس چندر چڈ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ مرکز کی غلطی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ سائنسی  اور منظم طریقہ سے تیسری لہر سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔
  سپریم کورٹ کے جسٹس شاہ نے کہا کہ ابھی ہم دہلی کو دیکھ رہے ہیں لیکن دیہی علاقوں کا کیا جہاں زیادہ تر لوگ کورونا کی مار جھیل رہے ہیں ، آپ کو ایک قومی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے ،آپ صرف آج کی صورت حال دیکھ رہے ہیں لیکن ہم مستقبل کو دیکھ رہے ہیں اس کے لیے آپ کے پاس کیا پلان ہے ؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ وبا کے دوسرے دور میں ہیں ، دوسرے دور میں بھی کئی پیمانے ہو سکتے ہیں لیکن اگر ہم آج تیار کرتے ہیں تو ہم تیسری لہر کو سنبھال سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ تیسری لہر سے بھی کافی خوف پیدا ہو گیا ہے ۔ بطور خاص والدین ڈر رہے ہیں کہ اگر کورونا سے بچے متاثرہوں گے تو کیا ہوگا ؟
  اس کے علاوہ  اب ریاستی سطح پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ مہاراشٹر میں پھر اچانک کورونا کے نئے معاملوں میں تیزی آئی ہے ۔ یہاں پھر ایک دن میں ۵۷؍ہزار ۶۴۰؍ نئے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ ۹۲۰؍لوگوں کی ریکارڈ موت ہوئی ہے ۔ مہاراشٹر کے بعد دوسرے نمبر پر کرناٹک ہے جہاں بہت تیزی سے معاملے بڑھ رہے ہیں ۔ یہاں ایک دن میں ۵۰؍ہزار ۱۱۲؍ نئے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ ۳۴۶؍لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔تیسرے نمبر پر کیرالا ہے جہاں ۴۱؍ہزار ۹۵۳؍ نئے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ ۵۸؍لوگوں کی موت ہو گئی ہے ۔ واضح رہے کہ کیرالا میں موت کم ہو رہی تھی لیکن اب یہاں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔اترپردیش میں ایک دن میں ۳۱؍ہزار ۱۱۱؍ نئے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ ۳۵۳؍ لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔تمل ناڈو میں ۲۳؍ہزار ۳۱۰؍ نئے معاملے آئے ہیں جبکہ ۱۶۷؍ لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔ اسی طرح دہلی میں ۲۰؍ہزار ۹۶۰؍ نئے معاملے آئے ہیں جبکہ ۳۱۱؍لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔ آکسیجن ملنے کے بعد کچھ راحت ملی ہے اور اموات میں کمی درج کی گئی ہے ۔ آندھراپردیش میں ۲۲؍ہزار ۲۰۴؍ ، مغربی بنگال میں ۱۸؍ہزار ۱۰۲؍ ، چھتیس گڑھ میں ۱۵؍ہزار ۱۵۷؍ ، راجستھان میں ۱۶؍ہزار ۸۱۵؍ ، ہریانہ میں ۱۵؍ہزار ۴۱۶؍ ،بہار میں ۱۴؍ہزار ۸۳۶؍ نئے معاملے سامنے آئے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK