تیسری لہرکے اندیشے سے سورت کی ڈائمنڈ انڈسٹری بھی متاثر،کاریگرکام پر نہیں لوٹ رہے

Updated: September 17, 2021, 11:37 AM IST | Agency | New Delhi

ملک میں ایک طرف بے روزگاری بڑا مسئلہ ہے تو دوسری طرف گجرات کے سورت کا حال یہ ہے کہ یہاں کی ڈائمنڈ انڈسٹری مزدوروں کی بھاری قلت سے جوجھ رہی ہے۔

Craftsmen working in a diamond factory in Surat.Picture:INN
سورت کے ایک ڈائمنڈ کارخانہ میں کام کرتےہوئے کاریگر۔ تصویر: آئی این این

 ملک میں ایک طرف بے روزگاری بڑا مسئلہ ہے تو دوسری طرف گجرات کے سورت کا حال یہ ہے کہ یہاں کی ڈائمنڈ انڈسٹری مزدوروں کی بھاری قلت سے جوجھ رہی ہے۔ کورونا کی پہلی لہر کے وقت اپنے اپنے گاؤں شہروں کو لوٹ گئے ڈائمنڈ کاروبار کے لاکھوںمزدور اب تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔ کورونادور کےپہلے مرحلے میں ہی شہر چھوڑ کر گئے ڈائمنڈ کمپنیوں کے مزدور اب تک کام پر واپس نہیں آئے ہیں۔ جس کی وجہ سے پروڈکشن میں بھاری کمی آئی ہے۔ سورت کے ڈائمنڈ کاروباری، سورت ڈائمنڈ اسوسی ایشن کے سابق صدر اور جیمس اینڈ جویلری ایکسپورٹ پروموشن کاؤنسل (جی جے ای پی سی) کے ریجنل چیئرمین دنیش بھائی ناوڈیا کا کہنا ہے کہ کورونا دور کے بعد دنیا بھر میں ڈائمنڈ کی مانگ بڑھی ہے مگر ایسے وقت میں سورت کی ڈائمنڈ فیکٹریوں میں مزدوروں کی ۲۵؍ فیصد کی کمی ہوگئی ہے۔ سورت کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے نہ صرف گجرات کے الگ الگ علاقوں کے مزدور بلکہ دیگر ریاستوں کے مزدور بھی واپس نہیں لوٹے ہیں۔ ایسے میں مزدوروں کو واپس لانے کیلئے اور نئے مزدوروں کو تیار کرنے کے لئے ڈائمنڈ کاروبار کی تنظیمیں مشقت کررہی ہیں۔ کورونا دور نے ہر کسی انسان ی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ڈائمنڈ کاروبار سے جڑے مزدوروں کی زندگی میں بھی تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ سورت میں مزدوروں کی کمی وجہ مرکزی حکومت کی منریگا اسکیم بھی مانی جارہی ہے۔  اس معاملے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جو مزدور لاک ڈاؤن کے وقت اپنے گاؤں گئے تھے انہیں وہاں ان کی ریاستوں میں ہی حکومت کی منریگا اسکیم کے تحت کام مل رہا ہے۔ کچھ مزدور تیسری لہر آنے کے اندیشے کے سبب سورت نہیں لوٹ رہے ہیں۔ مزدوروں کو واپس لانے کیلئے سورت کے ڈائمنڈ کاروبار سے جڑی تنظیمیں کارخانوں کے مالکان کو مزدوری بڑھانے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK