سشانت کے دوست سندیپ سنگھ نے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا

Updated: October 16, 2020, 9:59 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

متنازع ، تضحیک آمیز و نفرت انگیز تبصرہ کرنے والے ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی مشکلوں میں اب اضافہ ہوتا جارہا ہے

Sandeep Singh
سندیپ سنگھ

 متنازع ، تضحیک آمیز و نفرت انگیز تبصرہ کرنے والے ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان  چیف  ارنب گوسوامی کی مشکلوں میں اب اضافہ ہوتا جارہا ہے - ایک طرف ممبئی پولیس ارنب کے ارد گرد تفتیش کا دائرہ تنگ کرتی جارہی ہے - وہیں دوسری طرف جمعرات کو جہاں سپریم کورٹ نے بھی طنز کرتے ہوئے ارنب کو بامبے ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا حکم دیا ہے - وہیں سشانت سنگھ راجپوت معاملہ میں سنسنی پھیلاتے ہوئے جھوٹی خبریں نشر کرنے پر سشانت کے دوست سندیپ سنگھ نے ارنب پر ہراساں کرنے، ایکسٹورشن کرنے کا الزام لگاتے۲۰۰؍ کروڑ روپے کے ہتک عزت کا دعویٰ کا قانونی نوٹس بھیجا ہے - سندیپ نے اپنے وکیل راجیش کمار کے توسط سے ارنب اور ری پبلک ٹی وی پر۲۰۰؍  کروڑ روپے ہتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے نوٹس روانہ کیا ہے - اس ضمن نے سندیپ نے وکیل کے ذریعہ بھیجے جانے والے وہاٹس ایپ  پیغامات کے تعلق سے کہا ہے کہ ’’ ارنب نے سشانت سنگھ کے تعلق سے جو پیغامات بھیجے وہ مجرمانہ ارادے اور تاوان حاصل کرنے کے ارادے سے بھیجے تھے ۔‘‘ سندیپ نے بھیجے گئے لیگل نوٹس کے ذریعہ ری پبلک ٹی وی اور ارنب گوسوامی کو قاتل اور کلیدی سازش کرنے والا قرار دیا ہے ۔ سندیپ نے نوٹس کے ذریعہ نہ صرف ٹی وی اور ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو معافی مانگنے کے لئے متنبہ کیا ہے بلکہ سشانت سے متعلق کی گئی تمام جھوٹی رپورٹس، ویڈیوز اور تبصروں کوبھی حذف کرنے کی مانگ کی  اور ساتھ ہی حقائق پر مبنی رپورٹوں کو عام کرنے کی وارننگ دی ہے ۔اس کے علاوہ وکیل نے نوٹس کے ذریعہ سشانت کے کیس میں اس کے دوست سندیپ کی شبیہ کومسخ کرنے اور کردار کشی کرنے پر معافی مانگنے اور نہ مانگنے کی صورت میں ۲۰۰؍کروڑ روپے  ہتک عزت کا معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے - نوٹس کے مطابق اگر ری پبلک ٹی وی اور ارنب نے۱۵؍ دنوں میں نوٹس کا جواب نہیں دیا تو انہیں عدالت میں گھسیٹا جائے گا - سندیپ کے دعویٰ کے مطابق ری پبلک ٹی وی پر سشانت سے متعلق دکھائی جانے والی خبروں میں سندیپ کو ارنب نے ڈرگ پیڈلر بتایا تھا -

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK