تیجندر سنگھ بگا کوپنجاب پولیس نےگرفتار کیا، دہلی پولیس نے بچا لیا

Updated: May 07, 2022, 12:22 PM IST | Agency | New Delhi

ہریانہ پولیس نےپنجاب پولیس کوموہالی جاتے وقت راستے میں روک کر بی جےپی لیڈر کو آزاد کرایا، دہلی پولیس نے پنجاب پولیس کے خلاف اغوا کا کیس درج کرلیا

 BJP leaders protest in Delhi against Baga`s arrest.Picture:PTI
بگا کی گرفتاری کے خلاف بی جے پی لیڈر دہلی میں احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

 پنجاب پولیس کے ذریعہ  بی جےپی لیڈر تیجندرسنگھ بگا کی گرفتاری اور اسے بچانےکیلئے دہلی اور ہریانہ پولیس کی کارروائی نے  ملک کی پولیس فورس کو ایک بار پھر شرمسار کردیا ہے  اور سیاسی کنٹرول ایک بار پھر سامنے آگیا۔ دہلی اور ہریانہ پولیس نےپنجاب پولیس کی ٹیم کو موہالی  کے راستے میں  روک کرتیجندر سنگھ بگا کونہ صرف  اس کی گرفت سے آزاد کرالیا بلکہ پنجاب پولیس ٹیم کے اہلکاروں کے خلاف اغوا کا کیس بھی درج کرلیا۔ اس دوران اپنے کام میں مداخلت کے خلاف پنجاب پولیس کا ہائی کورٹ سے رجوع ہونا بھی کوئی کام نہ آیا اور اس نے بگا کو کم از کم ہریانہ میں ہی رکھنے کی پنجاب پولیس کی درخواست کو خارج کردیا۔ 
 گرفتاری کے ڈرامے کی تفصیل
  پنجاب پولیس کے ۱۰؍سے زائد اہلکاروں کی ٹیم نے جمعہ کی صبح بی جے پی لیڈر تیجندر سنگھ بگا کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو مبینہ طور پر دھمکی دینے کے الزام میں  مغربی دہلی  میں ان کی  رہائش گاہ سے گرفتار کیا اور اسے لے کر پنجاب کیلئے  روانہ ہو گئی۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی معاملے نے سیاسی رخ اختیار کر لیا۔  پنجاب پولیس کی اس کارروائی   کو  قواعد کے خلاف قرار دیتے ہوئے بگا کے والد نے دہلی پولیس میں اپنے بیٹے کے اغوا کی شکایت درج کرادی ۔اس شکایت کی بنیاد پر ہریانہ پولیس حرکت میں آئی اور کرکشیتر میں پنجاب پولیس کی اس ٹیم کو گھیر لیا جو بگا کو لے کر موہالی جارہی تھی۔  فوری طور پر دہلی پولیس کی ایک ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی۔  ہریانہ پولیس نے بگا کو پنجاب پولیس کی  گرفت سے آزاد کراکر دہلی پولیس کے حوالے کردیا جو اسے لے کر دہلی پہنچ گئی۔  بگا کی گرفتاری کو اغوا قرار دیتے ہوئے  دہلی پولیس نے پنجاب پولیس اہلکاروں کے خلاف اغوا کا کیس بھی درج کرلیا ہے۔  ہریانہ پولیس کی کرائم برانچ کی ٹیم پنجاب پولیس کی ٹیم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ 
عدالت میں بھی پنجاب پولیس کو ناکامی
 بگا کی گرفتاری کو اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دیاگیا ہے کہ  دہلی میں دہلی پولیس کو بتائے بغیر یہ  کارروائی کی گئی۔ اسی وجہ سے دہلی پولیس نے دہلی کے جنک پوری پولیس اسٹیشن میں پنجاب پولیس کی ٹیم کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا ہے جس نے  بگا کو حراست میں لیا تھا۔ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ بگا کو ۵؍ نوٹس بھیجے گئے لیکن وہ ان کے سامنے پیش نہیں ہوئے  اس لیے اسے گرفتار کرنا پڑا۔ ہریانہ پولیس کے ذریعہ   بگاکو چھین کر دہلی پولیس کے حوالے کرنے کو پنجاب پولیس نے پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا مگر  اسے یہاں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کورٹ  نے اس کی اس درخواست کو بھی قبول نہیں کیا کہ بگا کو دہلی منتقل کرنے کے بجائے ہریانہ میں ہی رکھا جائے۔ پنجاب کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل انمول رتن سدھو نے دعویٰ کیا کہ سب کچھ  ضابطہ کے مطابق ہورہاتھاہریانہ پولیس نے معاملے کو طول دیا۔ انہوں نے کورٹ سے یہ بھی درخواست کی کہ دہلی پولیس کو بگاکو لے کر ہریانہ کی سرحد پار کرنے کی اجازت نہ دی جائے مگر کورٹ نے یہ درخواست قبول نہیں کی۔ 
 بی جےپی کا واویلا
  بی جے پی نے اپنے لیڈر  تیجندر پال سنگھ بگا کی پنجاب پولیس کے ذریعہ گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال کے آلہ کار کے طور  پر استعمال ہورہی ہے اور  بی جے پی اس سے ڈرنے والی نہیں ہے۔بی جے پی کے دہلی ریاستی صدر آدیش گپتا، پارٹی کے قومی سکریٹری آر پی سنگھ اور پارٹی لیڈر منجندر جیت سنگھ سرسہ نے ہنگامی طور پر ایک  پریس کانفرنس  منعقد کرکے یہ الزامات عائد کئے۔  انہوں نے الزام لگایا کہبگا کو پنجاب پولیس نے اغوا کیا اور کہا کہ پنجاب پولیس  بگا کو غیر قانونی طور پر صبح کے وقت زبردستی لے گئی اور ان کو پگڑی تک نہیں پہننے دی۔ انہوں نے کہا کہ  بگا نے پنجاب انتخابات سے پہلے کیجریوال سے سیاسی سوالات پوچھے تھے۔ اس لیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ سے سوال کرنا جرم ہے؟ اگر دہلی پولیس ایسے آمر کے ماتحت ہوتی تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔
عام آدمی پارٹی نے صفائی پیش کی
  پنجاب پولیس کی گرفت سے بچا لینے کے بعد دہلی  پولیس بگا کو لے کر جب دہلی کیلئے روانہ ہوئی تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی خوشی کااظہار میڈیا کو  اپنی انگلیوں سے فتح کی علامت  دکھاتے ہوئے کیا۔  دوسری طرف عام آدمی پارٹی نے بگا کے خلاف انتقامی سیاست کا الزام خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بگا کو پنجاب پولیس نے پنجاب میں فرقہ وارانہ منافرت  اور تشدد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ عام آدمی  پارٹی کے ترجمان سوربھ بھاردواج نے اس سلسلے میں ۲۹؍ اپریل کی تیجندر سنگھ بگا کی تقریر کا حوالہ دیا جبکہ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ بگا کو موہالی میں  یکم اپریل کودرج کئے گئے مقدمے  کے سلسلے میں  گرفتار کیاگیاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK