پانی کی کمی سےشہرومضافات کی ہائوسنگ سوسائٹیز، تجارتی اداروں ، اسپتالوں ،ہوٹلوں اور ریلوے کے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنےمیں دشواری ہوئی
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 10:37 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
پانی کی کمی سےشہرومضافات کی ہائوسنگ سوسائٹیز، تجارتی اداروں ، اسپتالوں ،ہوٹلوں اور ریلوے کے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنےمیں دشواری ہوئی
ممبئی واٹرٹینکر اسوسی ایشن‘ ( ایم ڈبلیو ٹی اے) نےمنگل کو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی یقین دہانی پر ’ سینٹرل گراؤنڈ واٹر اتھاریٹی‘(سی جی ڈبلیواے) کے سخت قوانین کےخلاف جاری اپنے احتجاج کو واپس لے لیا۔
ایم ڈبلیوٹی اےکے ترجمان انکور شرمانے اس نمائندہ کو بتایا کہ ’’ ریاستی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنوس نے ہمارے متعدد مطالبات تسلیم کرلئے ہیں اور کلکٹر کو اس تعلق سے مکتوب جاری کرنےکی ہدایت بھی دی ہے جس کےبعد ہم نے اپنی ہڑتال واپس لےلی ہے۔‘‘
قبل ازیں منگل کو ممبئی واٹرٹینکر اسوسی ایشن‘ ( ایم ڈبلیو ٹی اے) کی جانب سے’ سینٹرل گراؤنڈ واٹر اتھاریٹی‘(سی جی ڈبلیواے) کے سخت قوانین کےخلاف پانی سپلائی بند کئے جانے سے شہرو مضافات کی ہائوسنگ سوسائٹیز، تجارتی اداروں ، اسپتالوں ،ہوٹلوں اور ریلوے میں پانی کی قلت سے شدید پریشانی ہوئی ۔ پانی کی کمی سے دفاتر میں عملہ کو جلد چھٹی دینے کے علاوہ کچھ جگہوں پر ورک فراہم ہوم کیلئے کہا گیا ۔ کئی سوسائٹیوں میں پانی کی کٹوتی کی گئی۔ ویسٹرن اور سینٹرل ریلوے نے طویل مسافتی ٹرینوں کیلئے درکار پانی اور ان کی صفائی ممبئی کے بجائے بیرون شہر کرنے کا انتظام کیا ہے ۔اس دوران تعمیراتی پروجیکٹوں کا کام بھی متاثر ہو ا۔ جنوبی ممبئی کے کف پریڈ ریسیڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر لورا ڈیسوزا کے مطابق ’’پانی کی متواترکمی سے ہمارے علاقے کی متعدد سوسائٹیاں اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پرائیویٹ ٹینکروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں ۔ صرف جالی میکر زسوسائٹی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے روزانہ ۲۲؍ٹینکر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینکر کی ہڑتال سے عام دنوں میں ملنے والا ایک ہزار روپے کا ٹینکر ۶؍ہزار روپے میں ملا۔‘‘
ٹینکر سپلائی کے بندہونے سےکف پریڈ اور لوکھنڈ والا جیسے متمول علاقوں کے علاوہ کرلا، ساکی ناکہ، ملاڈ ، مالونی، پریل اورگھاٹکوپر جیسے گنجان آبادی والے علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔
بلڈرز اسوسی ایشن کے ٹرسٹی رام بھاٹیہ کے بقول ’’زیادہ تر تعمیراتی سائٹیں ایک سے دو دن کاپانی کے ذخائر کو محفوظ رکھتی ہیں کیونکہ عام طور پر ٹینکر تاخیر سے آتا ہے ،اس لئے ایک دو دن تو ہڑتال کا اثرکم رہا لیکن ہڑتال طویل ہوتی تو اس کے بعد کام جاری رکھنے میں دشواری ہوتی۔‘‘
منگل کو پانی کی قلت سے متعدد دفاتر نے کارکنوں کو جلدی گھر جانے کی اجازت دی۔ اندھیری مشرق میں واقع مرول پلازہ کے ۱۲؍ دفاتر نے اپنے ملازمین کو جلدگھر جانے کی اجازت دی ۔اسی طرح اندھیری مغرب میں واقع سحر پلازہ کے دیپک دھول نے بتایا کہ ’’ہمارے کمپلیکس کے ۴۵۰؍ سے زیادہ کارکنوں کیلئے روزانہ ۱۵۔۱۰؍ ٹینکرپانی کی ضرورت ہوتی ہے۔منگل کو ٹینکر ہڑتال کی وجہ سے کئی دفاتر گھر سے کام کرنے پر مجبور ہوئے ۔
مرول کے کناکیہ رین فاریسٹ کی ۱۰؍ عمارتوں کے ۶۰۰؍ فلیٹ کیلئے پیر سے ۹؍گھنٹے پانی کی کٹوتی نافذ کی گئی ۔یہاں کے مکین منوج گنگولی نے بتا یا کہ ’’ بی ایم سی کی کٹوتی سے نمٹنے کیلئے سوسائٹی پہلے ہی ایک دن میں ۲۰؍ ٹینکر پانی خرید رہی ہے۔ جیسے ہی پانی کے ٹینکروں کی ہڑتال شروع ہوئی، ہماری پریشانی مزید بڑھ گئی ۔ ہم نے رات کے وقت ۵؍ گھنٹے کیلئے پانی کی کٹوتی نافذ کر دی ۔‘‘
ملاڈ کے آشیش گپتا نے بتایا کہ ’’ہماری سوسائٹی کے ۲۰۴؍ فلیٹ کو پہلے ہی سے بی ایم سی سے صرف ۶۰؍فیصد پانی مل رہا ہے ، باقی ۴۰؍فیصد کیلئے ہمیں پانی کے ٹینکروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ ہڑتال جاری رہتی تو ہمیں اگلے ۲؍ دنوں میں پانی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ تا ۔‘‘
ٹینکر ہڑتال سے ریلوے کو بھی شدید پریشانی ہوئی ۔ منگل کو ویسٹرن ریلوے نے ممبئی سینٹرل، دادر اور باندرہ ٹرمینس سمیت دیگر اہم ٹرمینلز پر تقریباً ۲۰؍فیصد پانی کی کمی کردی جس کی وجہ سے کوچ کی دھلائی معطل کر دی گئی جبکہ سورت اور ولساڈ کے اسٹیشنوں پر ان گاڑیوں کی پانی کی دیگر ضروریات پوری کی گئیں ۔ اسی طرح سینٹرل ریلوے کو ٹرین میں پانی مہیاکرانے، اسٹیشن کے آپریشنز، عوامی سہولیات اور کوچ کی صفائی کیلئے روزانہ تقریباً ۱۳؍ لاکھ لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، عام طور پر روزانہ موصول ہونے والے ۱۴۴؍ ٹینکروں میں سے پیر کو صرف ۵۰؍ٹینکر پانی ملا تھا ۔ سروس میں خلل نہ پڑے ،ا س لئےٹرین میں پانی کی سہولت کاانتظام اگت پوری، پنویل اور بھساول سے کیا گیا ۔ ٹینکر سپلائی کے بندہونے سے بی ایم سی کے ۲؍بڑے پروجیکٹس کوسٹل روڈ (نارتھ) اور گوریگائوں ملنڈ لنک روڈ کا کام بھی متاثر ہوا ۔ ریاستی حکومت کے تحصیلدار کے دفتر نے کنویں کے مالکان اور بورویل آپریٹرز کو ٹینکروں کو پانی کی سپلائی بند کرنے اور تازہ لائسنس حاصل کرنے کیلئے نوٹس جاری کیا ہے جس کیخلاف ایم ڈبلیوٹی اے نے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کااعلان کیا تھا ۔اب تک ۳۰۰؍سے زائد آپریٹرز کو نوٹس موصول ہو چکے ہیں ۔