سٹی سینٹر میں بھیانک آتشزدگی، سیکڑوں دکانیں خاکستر، کروڑوں کا نقصان

Updated: October 24, 2020, 12:22 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

بیلاسس روڈکےمال میں جمعرات کو شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش جاری ،دھوئیں کی وجہ سے مال کےقریب۵۵؍منزلہ عمارت کو خالی کرایا گیا

Terrible Fire In The City Center.Picture :INN
سٹی سینٹر میں بھیانک آتشزدگی۔ تصویر:آئی این این

بیلاسس روڈ پرواقع سٹی سینٹر مال میں جمعرات کو لگنےوالی بھیانک آگ میں سیکڑوں دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں  جبکہ کروڑوں روپے کا مال تباہ وبرباد ہوگیا۔ آگ پر قابو پانے کی کوشش میں ۵؍فائرمین زخمی ہوئے ہیں۔جمعرات کی رات ۸؍ بجکر ۵۳؍منٹ پر لگنےوالی آگ پرخبر لکھے جانے تک  قابونہیں پایاگیاہے ۔ اب بھی سٹی سینٹر مال سے گہرا دھواں اُٹھ رہا ہے ۔ فائر عملہ آگ پر قابوپانےکی جدوجہد کررہاہے۔ آگ کی وجہ سے اٹھنےوالے دھوئیں سے سٹی سینٹر سے متصل ۵۵؍ منزلہ عمارت کے مکین رات بھر پریشان رہے ۔ اس عمارت کے ساڑھے ۳؍ ہزار مکینوں کو گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا۔ اطراف کی دیگر عمارتوںکےمکین بھی دھوئیں سے متاثر ہوئے۔ آگ پر قابوپانےکیلئے اذانیں اور دعائوں کا اہتمام بھی کیاگیا۔لیول ۵؍کی آگ تھی  بی ایم سی کے پی آر او کے مطابق آگ بجھانےکیلئے ۲۴؍ فائرانجن، ۱۷؍جمبو ٹینکر اور ۵۰؍  فائر وین کا استعمال کیاگیا۔ چیف فائر آفیسر ششی کانت کالے کی نگرانی میں ۲۵۰؍ فائرمین آگ پر قابوپانےکی جدوجہد کر رہےہیں۔آگ ۵؍ویں لیول تک پہنچ گئی تھی۔آگ بجھانےکی کوشش میں ڈپٹی چیف آفیسر گرکر صاحب ( ۵۰)، فائرمین شام رام بنجارہ ( ۳۵)، رویندر پربھا کر چوگلے (۳۴)،بھائو صاحب بدانے (۲۵)، سندیپ شرکےزخمی ہوئےہیں ۔انہیں علاج کے بعد جے جے اسپتال سےرخصت کر دیا گیا ہے۔رکن پارلیمان اروند ساونت ، ممبئی کی مئیر کیشوری پیڈنیکر، ایڈ یشنل میونسپل کمشنر سریش کاکنی، بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین یشونت جادھو ،رکن اسمبلی امین پٹیل،ابوعاصم اعظمی اور ر ئیس شیخ  وغیرہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اورآگ پر قابونے کی کارروائی کا جائزہ لیا۔ یہاں موبائل کوور ، بیٹری اور دیگر لوازمات کے تھوک کاروبار کے علاوہ پرنٹر، اسٹیشنری ، فرنیچر اور عطر کی چھوٹی چھوٹی سیکڑوں دکانیں ہیں۔آگ دوسری منزل کی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ سے لگی تھی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے دوسری منزل کی تمام دکانوںکو لپیٹ میں لےلیابعدازیں تیسری منزل کی دکانیں بھی آگ کی زد میں آگئیں۔
  جمعہ کی صبح ساڑھے ۱۱؍بجے جائے وقوعہ پر موجود اسی مال کا ایک دکاندار موبائل پر کسی شناسا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہا تھاکہ ’’دیوالی کی وجہ سے چند دنوں قبل ہی ۷۰؍لاکھ روپے کا مال اسٹاک کیاتھا  جس طرح کی آگ لگی ہے ،ایسےمیں  لگتاہےکہ پورا مال تباہ ہوگیاہوگا۔‘‘ اس آگ سے ایک طرف سٹی سینٹر کے سیکڑوں دکانداروں کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہواہےتو دوسری جانب اس  سے متصل  ۵۵؍منزلہ آرچڈ انکلیو کے ہزاروں مکینوں کو اس آگ سے اٹھنےوالے گہرے دھوئیں سے شدید مشکلات کا سامناکرناپڑا ہے۔ ۴۱؍ویں منزل پر رہنےوالی پروفیسر صدف شیخ نے بتایاکہ ’’مذکورہ آگ سے اُٹھنےوالے دھوئیں نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیاتھا۔ اس کی وجہ سے مکینوں کوشدید گھٹن کا احساس ہورہاتھا۔دھوئیں کی شدت سے پریشان ہوکر نیچے کی منزلوں کے مکینوں نے توپہلے ہی گھرخالی کردیاتھا جبکہ اُوپری منزل والوںنے رات میں ۲؍تا ساڑھے ۳؍بجے کے درمیان گھر خالی کیا۔ اس دوران کسی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیامگر افراتفری کا ماحول رہا۔اس عمارت میں کل ۴۴۰؍ فلیٹس ہیں جن میں تقریباً ساڑھے ۳؍ہزار افراد رہائش پزیر ہیں۔سوسائٹی نے بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کیااور سب کو محفوظ مقام تک پہنچانےمیں اہم رول نبھایا۔‘‘۳۱؍ویں منزل پر رہنےوالے ایک مکین نےبتایاکہ ’’آگ لگنےکی وجہ سے ۱۰؍تا ڈیڑھ بجے رات تک لفٹ بند رکھی گئی تھی ۔اس دوران مجھے اپنے بیمار والد کو یہاں سےمنتقل کرنا تھا۔ میں نے انہیں وہیل چیئر کی مدد سے ۳۱؍منزل سےاُتارکر عزیز کےگھر منتقل کیا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK