لالوکیلئے روزہ رکھ رہی بیٹی نے والد کی ضمانت پر کہا ’مجھے عیدی مل گئی

Updated: April 18, 2021, 9:35 AM IST | Patna

لالو کی بیٹی روہنی نے گزشتہ دنوں ٹویٹ کیا تھا کہ وہ اپنی والد ہی رہائی اور صحت مندی کیلئے پورے مہینے کے روزے رکھیں گی

Rohini Acharya Yadav.Picture:PTI
روہنی آچاریہ یادو. تصو:یرپی ٹی آئی

لالو پرساد یادو کے چاہنے والوں اور ان کی  رہائی  کے  لئے دعا کر رہے لوگوں میں آج جشن کا ماحول ہے۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے چارہ گھوٹالے سے متعلق دمکا معاملہ میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، لالو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھاکہ ’’میرا رمضان اور نوراتر کامیاب ہوا۔ آج مجھے اوپر والے کی طرف سے عیدی مل گئی لیکن میں تب بھی اپنے روزے پورے کروں گی ۔‘‘ یہاں قابل ذکر ہے کہ روہنی آچاریہ نے رمضان شروع ہونے سے پہلے اپنے  ٹویٹ میں لکھا تھا کہ وہ اپنے والد کی جیل سے رہائی اور صحت مندی کے لئے پورے مہینے کے روزہ رکھیں گی۔ آج جب لالو پرساد کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف ہو گیا تو روہنی خوشی سے نہال ہو گئیں اور عدالت کے اس فیصلے کو اپنے  لئے وقت سے پہلے ہی  ’عیدی‘  کے مترادف قرار دے دیا۔
 روہنی آچاریہ نے مذکورہ ٹوئٹ کے بعد بھی کچھ مزید ٹوئٹ  کئے جس میں لالو پرساد کے مخالفین اور نفرت آمیز ذہن رکھنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے  ٹویٹ میں لکھا کہ ’’دیکھو دیکھو شیر آیا۔ زہریلی پرورش والوں کا منہ کالا ہوا۔‘‘ ایک دیگر ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’’ہندومسلم اتحاد کی جیت ہوئی، اور نفرتی زہریلی سوچ کی ہار۔‘‘
  روہنی نے لالو پرساد یادو کو مظلومین کے  لئے مسیحا ٹھہرانے والا بھی ٹویٹ کیا اور ان کی ضمانت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ظالم کب تک ظلم کرے گا... مسیحا کو کب تک قید رکھے گا...؟ آیا آیا دیکھو کون...؟ تاناشاہ اقتدار سے وہ لڑ کر...! غریبوں کا مسیحا آیا... اس ماٹی کا لال جو آیا!!‘‘ اس کے بعد انھوں نے ایک اور ٹوئٹ کیا جس میں لکھا ’’غریبوں،مظلوموں کی آواز ہے وہ... ہم سب کا ابھیمان (وقار) ہے وہ... سب کے دلوں کی جان ہے وہ... اس دھرتی کا لال ہے وہ...!!‘‘ ان سبھی ٹویٹس کے ساتھ انھوں نے ’ہیش ٹیگ شیر لالو آیا‘ لگایا ہے۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر لالو پرساد کی ضمانت کا زبردست انداز میں جشن منایا جا رہا ہے جبکہ مخالفین  نے فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK