اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ

Updated: June 22, 2022, 11:43 AM IST | Agency | Tel Aviv-Yafo

آئندہ وزیراعظم ،موجودہ وزیر خارجہ لاپید ہوں گے،اسرائیل میں ۳؍ برس کے دوران پانچویں بار انتخابات ہوں گےسابق وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو کے مطابق ہم ملکی تاریخ کی بدترین حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہے ہیں

Naftali Bennett`s last cabinet meeting as Israeli prime minister .Picture:INN
نفتالی بینیٹ کا بطور اسرائیلی وزیراعظم آخری کابینی اجلاس ۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور وزیر خارجہ یائیر لاپید نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کرانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس دوران وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری لاپیدسنبھالیں گے۔   واضح رہےکہ وزیر خارجہ یائیر لاپید صحافی بھی رہ چکے ہیں اور حکومت میں سب سے بڑی اتحادی جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔  اہم بات یہ ہےکہ۳؍ برس کے دوران پانچویں پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ اس معاملے پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں ووٹنگ آئندہ ہفتے ہو گی۔  لاپید  اور بینیٹ نے جون۲۰۲۱ء میں کئی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کی تھی۔ اس طرح اُس دو سالہ سنگین سیاسی بحران کا خاتمہ ہوا تھا جو سابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی طرف سے مسلسل حکومت سازی میں ناکامی کے سبب  پیدا ہوا تھا۔ حکمراں اتحاد کے ذرائع کے مطابق اسرائیل میں انتخابات ممکنہ طور پر۲۵؍ اکتوبر کو ہوں گے لیکن خبر لکھے جانے تک اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے ۔   اسی دوران وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے یائیر لاپیدکے ہمراہ  ٹیلی ویژن پر بیان میں کہا کہ آج ہم ایسے موقع پر آپ کے سامنے کھڑے ہیں جو آسان نہیں ہے لیکن مفاہمت کے ساتھ ہم نے اسرائیل کیلئے درست فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جو اتحادی جماعت بلیو اینڈ وہائٹ کے سربراہ بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال کے دوران بہت اچھا کام کیا ہے۔ ملک کو انتخابات کی طرف دھکیلنا شرمناک ہے۔یائیر لاپید کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آئندہ انتخابات کا انتظار نہیں کریں گے۔ مسلسل  کام کرتے رہیں گے اور معیشت کو مضبوط  بنائیں گے ۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ایران، حماس اور حزب اللہ کے خلاف مہم جاری رکھنی ہے، اسرائیل کو غیر جمہوری ملک میں تبدیل کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہونا ہے اور  عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ وزیراعظم نیفتالی بینٹ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے دفاع میں کہا کہ اس دوران معاشی ترقی ہوئی، بے روزگاری میں کمی واقع ہوئی اور ۱۴؍ سال میں پہلی مرتبہ بجٹ خسارہ کم ہوا ہے۔  ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے دباؤ کے پیش نظر اور تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے نفتالی بینیٹ  وزیراعظم کا منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر دائیں بازو کی جماعت لیکڈ کے لیڈر اور سابق وزیراعظم نیتن یاہو نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی شام لوگ مسکرا رہے ہیں۔  وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہاں (پارلیمان) کچھ بہت ہی اچھا ہوا ہے۔ ہم ملکی تاریخ کی بدترین حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جون۲۰۲۱ء میں بنیامین نیتن یاہو کے۱۲؍ سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے بعد نفتالی بینیٹ کو اقتدار منتقل کیا گیا تھا۔نو منتخب وزیراعظم نفتالی بینٹ سے ملاقات کے کچھ دیر بعد نیتن یاہو نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ۶۰؍ ووٹوں سے بننے والی اس حکومت کو گرا کر ہی دم لیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK