’’ریاست میں نظم ونسق بگڑنے کیلئے حکومت ذمہ دار‘‘

Updated: November 15, 2022, 11:49 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

اپوزیشن لیڈر اجیت پوار کی ایکناتھ شندے اور دیویندرفرنویس پر شدید تنقید،بدکلامی کرنے والے لیڈروں کو تنبیہ کا مطالبہ

Ajit Pawar talking to media persons at NCP Mumbai office.
این سی پی ممبئی کے دفتر میں اجیت پوار میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے۔

قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اجیت پوار نے منگل کو شندے- فرنویس حکومت پر شدید تنقید کی اورکہا کہ حکومت محکمۂ پولیس پر دباؤ ڈال کر ریاست کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی طرح ریاستی وزراء متنازع بیان دے کر ریاست کی شبیہ خراب کر رہے ہیں۔ دست درازی نہ کرنے پر جتیندر اوہاڑ پرتو فوراً کیس درج کیا جارہا ہے لیکن خاتون لیڈروں کے خلاف بدکلامی کرنے والے وزراء(عبدالستار اور گلاب راؤ پاٹل )پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔  انہوں نے شندے حکومت کو اپنےبدزبان لیڈروں کو تنبیہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سابق کا رپوریٹروں کو سرکاری تحفظ پر سوال
  اجیت پوار نے سرکاری خزانہ کا غلط استعمال کرنے کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وزراء کے قافلے میں ۳۰، ۳۰؍ گاڑیاں ہوتی ہیں اور سرکاری تحفظ سابق کارپوریٹروں کو بھی دیاجارہا ہے ۔یہ کہاں تک درست ہے۔
  اپوزیشن لیڈر اجیت پوار نے  این سی پی ممبئی کے دفتر میں جتنا دربار میں لوگوں سے ملاقات کرنے کے بعد پریس سے خطاب کیا۔  انہوں نے کہا کہ عبدالستار نے میری بہن سپریا کے بارے میں متنازع بیان دیا تھا۔ وزرا ء کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں۔ہر کسی کو آئین،قانون اور قواعد کا احترام کرنا چاہئے لیکن موجودہ حکومت کے وزراء اس کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھتے۔
 ریاست کے نظم ونسق کی بگڑتی صورتحال کے حوالے سےاجیت پوار نے کہاکہ’’امبرناتھ میں بیل گاڑیوں کی دوڑ کے دوران دو گروپوں کے درمیان دن دہاڑے فائرنگ کا واقعہ ہوا۔ حکومت کیا کر رہی ہے؟وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے اسمبلی حلقہ تھانے کے کسن نگر  میں ٹھاکرے گروپ  اور شندے خیمے کے ورکروں کے درمیان لڑائی ہوئی جس  پر پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔  یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
’’یہ روپیہ عام شہریوں کا ہے‘‘
 اجیت پوار نے کہا کہ اس حکومت کے ذریعے  سیکوریٹی کے نام پر غیر ضروری افراد کو بھی سیکوریٹی فراہم کی جارہی ہےاور دورے میں ۳۰،۳۰؍ گاڑیوں کا بیڑا لے جایا جاتا ہے۔ اس سے سرکاری خزانہ کا بے جا استعمال ہو رہا ہے۔آخر کار یہ روپیہ عام شہریوں کا ہے۔ہمارے دورِ اقتدار میں ہم صرف ان ہی افسران کو اپنے قافلے میں شامل کرتے تھے جن کی ضرورت ہے۔ ہر افسر کو نہیں لے جاتے تھے لیکن اس حکومت میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ شندے -فرنویس حکومت میں ایسے لوگوںکو بھی سیکوریٹی دی جارہی ہے جنہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔سابق کارپوریٹروں کے تحفظ کیلئے بھی مسلح سیکوریٹی گارڈ دیا گیا ہے۔اس لئے مَیں نے آرٹی آئی کے تحت معلومات طلب کی ہے۔
 اپوزیشن لیڈر کے بقول ’’ جب مَیں نائب وزیر اعلیٰ تھا  ،اس وقت مَیں نے صاف ہدایت دی تھی کہ بیڑے میں زیادہ گاڑیاں اور افسر نہیں ہونے چاہئیں۔  مہاراشٹر کے ہر شہری  کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے  لیکن کچھ سابق کارپوریٹروں کو بھی سرکاری تحفظ دینے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اس طرح سرکاری ایجنسی اور خزانہ کا غلط استعما ل نہیں ہو رہا ہے۔
 پریس کانفرنس کی شروعات میں اجیت پوار نے شرڈی میں منعقدہ این سی پی کی کانفرنس میں حاضر نہ ہونے پر صفائی دیتے  ہوئے کہاکہ ’’میرا ۵؍ روزہ بیرون ملک پروگرام جو بہت پہلے سے طے تھا، منسوخ نہیں ہو سکا۔ میں نے ایک دن کیلئے شرڈی کے کیمپ میں شرکت کی اورمیڈیا نے خبر نشر کرنا شروع کر دی کہ اجیت پوار ناراض ہیں۔
’’پولیس دباؤ میں کام کر رہی ہے ‘‘
  اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کی حیثیت سے، ایک شہری ہونے کے ناطے جب سے حکومت کیسے تشکیل پائی اور کیسے کام کر رہی ہے اس پر مختصراً تبصرہ کرتے ہوئے اجیت پوار نے بتایاکہ ’’مہاراشٹر  اور ممبئی پولیس پوری دنیا میں اچھے کام کیلئے جانی جاتی ہے لیکن اس حکومت میں پولیس ریاست میں دباؤ میں کام کر رہی ہے۔کل (پیر کو)جب میں تھانے گیا تو بہت سے لوگوں نے مجھ سے ملاقات کی اور بتایا کہ یہاں پولیس نہیں سنتی۔ پولیس کو اعلیٰ عہدیداروںسے فون آرہے ہیں اور وہ کہہ رہی ہے کہ ہم دباؤ میں ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’پولیس کا نظام اس طرح کے تناؤ میں کام کرتا رہتا ہے یا وزارت میں سیکریٹری رینک کے اہلکار تناؤ میں کام کر رہے ہیں اور انہیں سی ایم کے دفتر سے براہ راست احکامات ملتے ہیں۔‘‘
  اجیت پوار نے کہا کہ ’’میں نے فلم’ `ہر ہر مہادیو‘ کے تعلق سے کہاکہ اس میں صحیح تاریخ پیش نہیںکی گئی ہے ۔ 

ajit pawar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK