گجرات سرکار کے ٹال مٹول پر ہائی کورٹ شدید برہم

Updated: November 15, 2022, 11:56 PM IST | Agency | Gandhi Nagar

سوالوں کے جواب نہ دینے پرگجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ہوشیار مت بنئے، سوالوں کے جواب دیجئے‘‘، عدالت نےسرکاری نا اہلی کی پول کھول دی

The Morbi bridge accident has raised many questions at the government and administrative level, which the High Court has sought to answer.
موربی کے پُل حادثے نے حکومتی اور انتظامی سطح پر کئی سوالوں کو جنم دیا ہے جن کے جواب ہائی کورٹ نے مانگے ہیں

’ تو اِدھر ُادھر کی نہ بات کر یہ بتاکہ قافلہ کیوں لٹا ‘‘  شہاب جعفری کے مشہور شعر کا یہ مصرعہ موربی میں ہونے والے پُل حادثہ کے معاملہ پر گجرات ہائی کورٹ میں سماعت  کے دوران چیف جسٹس کے ذہن میں ضرور گونجا ہو گا کیوں کہ گجرات سرکار نے کورٹ میں  جو رویہ اپنا یا تھا اس کے جواب میں چیف جسٹس کو یہ کہنا پڑا کہ ’’ ہوشیارمت بنئے ،سوالوں کے جواب دیجئے۔ ‘‘ عدالت نے سرکاری نا اہلی کی پول کھولتے ہوئے نہ صرف پُل کی مرمت کا ٹھیکہ دینے کے طریقہ پر تنقید کی بلکہ شہری انتظامیہ اور سرکار دونوں پر سوالات کی بوچھار کردی  ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اروند کمار نے ریاست کے اعلیٰ بیوروکریٹس اور چیف سیکریٹری سے پوچھا کہ عوامی  پل کی مرمت کے کام کا ٹینڈر کیوں نہیں نکالا گیا؟  پُل کی مرمت کے کام کے لئے بولیاں کیوں نہیں لگوائی گئیں؟عدالت نے  سخت رویہ اپناتے ہوئے مزید کہا کہ اتنے اہم کام کا معاہدہ صرف ڈیڑھ صفحات میں کیسے مکمل ہوا؟ کیا یہ ذمہ داری  اجنتا مینو فیکچرنگ (اوریوا کمپنی کا ذیلی ادارہ)کمپنی کو دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی ٹینڈر کے دے دی گئی؟‘‘
  یاد رہے کہ موربی کے پُل حادثے کا عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ۶؍ محکموں سے جواب طلب کیا تھا۔ اس  دردناک حادثے میں ۱۴۰؍ کے قریب افراد کی موت ہو گئی تھی جبکہ کئی زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اس حادثے کے دوران متاثرین کو بچانے کے سلسلے میں مسلم نوجوانوں کی بہادری کے بھی چرچے ہیں۔بہر حال چیف جسٹس اروند کمار اور جسٹس آشوتوش جے شاستری اس معاملے کی سماعت کر رہے ہیں۔ دونوں کی بنچ نے جب منگل کو سماعت شروع کی تو عدالت کے سامنے کئی سوال تھےجو  انہوں نے موربی میونسپل کارپوریشن کے افسران کے ساتھ ساتھ چیف سیکریٹری سے بھی پوچھے اور اس معاملے میں گجرات کی بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔  چیف جسٹس کی بنچ نے پوچھا کہ جب  پُل کی دیکھ ریکھ کا معاہدہ ختم ہو گیا تھا اور اسے بھی ۵؍ سال بیت چکے ہیں توکس بنیاد پر مذکورہ کمپنی پل کی دیکھ ریکھ کررہی تھی ؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کمپنی اور کارپوریشن کے درمیان معاہدہ کیوں نہیں ہوا ؟ اس میں ۲؍ سال سے زائد عرصے کی تاخیر کس بنیاد پر کی گئی ؟ بنچ نے ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ معاہدہ ختم ہوجانے کے بعد ریاستی حکومت نے یا کارپوریشن نے کیا قدم اٹھائے ا س بارے میں حلف نامہ میں کوئی اندراج نہیں ہے۔
 چیف جسٹس کی بنچ نے موربی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کوئی وکیل نہ ہونے پرسخت برہمی ظاہر کی اور کہا کہ ہم نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا ہےلیکن وہاں سے جس ٹال مٹول کا رویہ اپنایا جارہا ہے اس پر ہم کوئی نہ کوئی سخت کارروائی کرسکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں کل یعنی بدھ کو بھی سماعت جاری رہے گی اور اس وقت ہم چاہیں گے کہ کارپوریشن کی جانب سے ان کا نمائندہ موجود رہے تاکہ وہ ہمارے سوالوں کے جواب دے سکے ۔یاد رہے کہ موربی میونسپلٹی نے اوریوا گروپ کو ۱۵؍ سال کا معاہدہ دیا تھا، جو گھڑیوں کے اجنتا برانڈ کے  لئے جانا جاتا ہے اور اسی پر گجرات ہائی کورٹ نے سب سے زیادہ سوال اٹھائے ہیں۔  سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا کہ اس نے موربی میونسپل کمیٹی کے چیف اگزیکٹیو افسر ایس وی جھالا کے خلاف کیا کارروائی کی ہے ؟ کیا ان کے خلاف کوئی محکمہ جاتی انکوائری شروع کی گئی ہے ؟
 اس سے قبل  ہائی کورٹ نے ۷؍نومبر کو اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے پل گرنے سے کا از خود نوٹس لیا ہے اور اسے  مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر درج کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ چیف سیکریٹری اور ہوم سیکریٹری اگلے  ہفتے تک اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں گے۔اس کے بعد منگل کو ہونے والی سماعت میں چیف سیکریٹری تو موجود تھے لیکن مور بی انتظامیہ کی جانب سے کوئی موجود نہیں تھا جس پر چیف جسٹس برہم ہو گئے اور انہوں نے اگلی سماعت میں سبھی کی حاضری کو لازمی  قرار دے دیا۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن بھی اپنی پورٹ داخل کرے گا۔ اس کے لئے ہائی کورٹ نے اسے اگلی سماعت تک کا وقت دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK