عالمی برادری ،بطور خاص مسلم ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں

Updated: January 20, 2022, 8:23 AM IST | kabul

افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے ۴؍ ماہ بعد کارگزار وزیراعظم ملامحمد حسن آخوند زادہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں  اپیل کی، بتایاکہ اقوام عالم کی تمام شرائط پوری کردی گئی ہیں

Acting Prime Minister of the Taliban government Mullah Hassan Muhammad Akhundzada addressing a news conference. (PTI)
طالبان حکومت کے کارگزار وزیراعظم ملاحسن محمد آخوند زادہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ ( پی ٹی آئی)

:  افغانستان  کے کارگزار وزیراعظم  ملا حسن آخوند زادہ  نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے ۴؍ ماہ بعد بدھ کو پہلی مرتبہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  اقوام عالم اور بطور خاص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا جائے۔ انہوں  نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری نے جو بھی شرائط رکھی تھیں ان تمام کو کم وبیش پورا کردیاگیاہے۔  عالمی قوتیں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کو لڑکیوں کے اسکول کھولنے، خواتین کی ملازمتوں پر واپسی اور کابینہ میں تمام طبقات کی نمائندگی سے مشروط کرتی آئی ہیں۔طالبان حکومت کی جانب سے حال ہی میں لڑکیوں کے اسکول افغانستان کے سال نو کے آغاز سے کھولنے کا اشارہ  دیا گیا ہے۔ افغانستان میں سال کا آغاز۲۱؍ مارچ سے ہوتا ہے۔
 معاشی بحران سے نمٹنےکیلئے حکومت کا تسلیم کیا جانا ضروری
   بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں  آخوند زادہ نے کہا کہ ’’میں تمام حکومتوں سے، بطور خاص مسلم ممالک سےمطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو تسلیم کرنے کا سلسلہ شروع کریں۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ”میں خاص طور پر اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ہمیں تسلیم کریں۔‘‘ ملاحسن نے امیدظاہرکی کہ اس  کےبعد  انہیں امید ہے کہ ملک تیزی سے ترقی کر سکے گا۔ملا حسن محمد آخوند نے یہ بات ملک میں شدید معاشی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے کہی۔ گزشتہ برس ستمبر میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی یہ افغان قومی نشریاتی ادارے پر نشر کی گئی پہلی گفتگو تھی۔
 پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے نمائندے بھی موجود تھے
 طالبان نے پچھلے سال اگست  میں کابل کا کنٹرول  سنبھال لیاتھا مگر اب تک دنیا کے کسی ملک نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں  کیا  ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بیرون ِ ملک افغانستان کے اربوں  ڈالر  کے اثاثے منجمد کر نے کے ساتھ ہی ساتھ ترقیاتی فنڈ بھی روک دیئے ہیں۔ اس کی بنا پرطالبان کو معاشی سطح پر حکومت کی ذمہ داریاں  پوری کرنے میں  دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ 
  بدھ کو ملا حسن محمد آخوند زادہ کی پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ  وہ نمائندے بھی موجود تھے جو ملک میں بین الاقوامی ادارے کے مختلف مشن کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔   طالبان حکومت کے حکام اور وزیراعظم نے نیوز کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا کہ امداد کی فراہمی پر عائد پابندی میں نرمی کی جائے کیونکہ پابندی کے نتیجے میں ملک میں  معاشی بحران  زور پکڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’قلیل مدتی امداد حل نہیں ہے، ہمیں بنیادی طور پر مسائل کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
افغانستان کیلئے غطریس  کے خصوصی مندوب نے بھی تائید کی
 خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق   پریس کانفرنس  میں    موجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغانستان کیلئے خصوصی مندوب ڈیبرا لیون نے کہا کہ افغانستان میں معاشی بحران ایک سنگین مسئلہ ہے جسے تمام ممالک کی طرف سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’اقوام متحدہ افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے اور بنیادی طور پر معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔‘‘
افغانستان اقوام عالم سے معاشی تعلقات کا خواہشمند
  وزیراعظم  ملاحسن  نے افغانستان میں معاشی بحران  کے شدت اختیار کرنے کی وجہ  غیر ملکی بینکوں میں موجود افغانستان  کے اثاثوں کے منجمد کئے جانے کو بتایا۔ اس موقع پر افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان حکومت عالمی برادری کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی خواہاں ہے۔  یاد رہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل طالبان حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنا پہلا مالیاتی بجٹ منظور کیا۔ اس میں کوئی بین الاقوامی امداد شامل نہیں ہے۔ وزارت مالیات کے مطابق یہ بجٹ ۲۰۲۲ء کے ابتدائی تین ماہ کیلئے  ہے۔ ۲۱؍ مارچ کے بعد دوسرا بجٹ پیش کیا جائےگا۔ 

taliban Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK