Inquilab Logo Happiest Places to Work

پمپلیشور مندر کیلئے زمین دلانے کا معاملہ، بی جے پی اور شندے سینا میں کریڈٹ کی دوڑ

Updated: June 09, 2026, 7:05 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی آمد پر پارٹی کارکنان کی اشتعال انگیزی۔ شیل پھاٹا روڈ پر جگہ جگہ حاجی ملنگ کے خلاف متنازع بینرس آویزاں کئے۔

Poster.Photo:INN
پوسٹر۔ تصویر:آئی این این۔
ریاستی حکومت کی جانب سے ڈومبیولی ایم آئی ڈی سی میں واقع پمپلیشور مندر سے متصل متنازع اراضی نہایت معمولی قیمت پر مندر ٹرسٹ کے حوالے کئے جانے کے فیصلے کے بعد سیاسی کریڈٹ لینے کی دوڑ تیز ہوگئی ہے۔وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے استقبال کے موقع پر شیل پھاٹا روڈ سمیت مختلف مقامات پر بی جے پی کی جانب سے آویزاں  بینرس اور پوسٹروں نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا، جن پر ’پمپلیشور تو جھانکی ہے، شری ملنگ گڑھ باقی ہے۔‘ جیسے اشتعال انگیز اور متنازع نعرے درج تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پمپلیشور مندر کو زمین دلانے کا سہرا اپنے سر باندھنے کیلئے بی جے پی اور شندے سینا دونوں پارٹیاں سرگرم ہیں جس کے باعث اس معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔
ریاستی کابینہ کی گزشتہ ہفتے منعقدہ میٹنگ میں ڈومبیولی کے ساگاؤں علاقے میں واقع پمپلیشور مندر سے متصل ۴؍ ایکڑ متنازع اراضی نہایت معمولی قیمت پر مندر ٹرسٹ کے حوالے کرنے کے فیصلے کے بعد حکمراں اتحاد کے ۲؍ اہم حلیفوں بی جے پی اور شندے سینا کے درمیان سیاسی کریڈٹ حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ سب سے پہلے بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے پمپلیشور مندر پہنچ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مندر ٹرسٹ کا دیرینہ مطالبہ ان کی پارٹی کی کوششوں کے نتیجے میں پورا ہوا ہے جبکہ اس کے دوسرے ہی دن شندے سینا کے رکن پارلیمان  شری کانت شندے نے مندر انتظامیہ سے ملاقات کرکے دعویٰ کیا کہ ان کی مسلسل کوششوں کے سبب ریاستی حکومت نے مذکورہ اراضی مندر ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔  
 
 
دریں اثناء پیر کی شام وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس بھی پمپلیشور مندر پہنچے۔ جہاں ان کے استقبال کیلئے بی جے پی کی جانب سے شیل پھاٹا روڈ اور اطراف کے علاقوں میں سیکڑوں بینرس اور پوسٹرس آویزاں کئے گئے تھے۔ تاہم ان بینرس میں درج  متنازع نعروں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ تقریب کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور حاجی ملنگ بابا کی درگاہ سے متعلق حساس تنازع کو ہوا دینے والے نعرے نمایاں طور پر درج کئے گئے جس کے باعث مقامی سطح پر مسلمانوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔
 
 
وزیر اعلیٰ کے دورہ سے قبل ہی شیل پھاٹا روڈ جام
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور دیگر رہنماؤں کی آمد کے پیش نظر پولیس نے اتوار کی رات ۱۲؍ بجے سے ہی پمپلیشور مندر کی طرف آنے اور جانے والے تمام راستے بند کر دئیے تھے۔چونکہ ​میٹرو کے زیر تعمیر کام کی وجہ سے کلیان شیل پھاٹا روڈ پہلے ہی پُر ہجوم رہتا ہے لیکن اس اچانک بند نے صورتحال مزید خراب کر دی۔
صبح کے وقت سونارپاڑہ، مان پاڑہ چوک اور کٹائی ناکہ سمیت کئی علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ہفتے کے پہلے ہی دن کام پر نکلنے والا ملازمت پیشہ طبقہ شدید تپتی دھوپ اور گھنٹوں طویل جام میں پھنس کر رہ گیا۔ چیونٹی کی رفتار سے رینگتی ٹریفک کے باعث چند منٹوں کا فاصلہ طے کرنے میں  تقریباً ایک گھنٹے کا وقت لگ رہا تھا جس کی وجہ سے مسافروں میں انتظامیہ کے خلاف شدید غصہ اور مایوسی دیکھی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK