ایمبولنس سے امتحان گاہ جانےوالے طالبعلم نے ۹۰؍فیصد مارکس حاصل کئے

Updated: August 01, 2020, 3:44 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

سڑک حادثہ میں پیروں سے معذور ہونے والا طالبعلم۱۰؍ویں میں نمایاں کامیابی کے بعد انجینئرنگ کی پڑھائی کرنا چاہتا ہے۔

Muhammad Moiz was taken to the examination room by ambulance. Photo: INN
محمد معز کو ایمبولنس سے امتحان گاہ لے جا یا جاتا تھا۔ تصویر: آئی این این

 کے ایم ای ایس اردو ہائی اسکول پڑگھا کے دونوں پیروں سے معذور طالب علم محمد معز سمیع شیخ نے ایس ایس سی امتحان میں ۹۰؍فیصد مارکس سے کامیابی حاصل کی ہے۔امتحان کے وقت آپریشن ہونے کے باوجود معز نے ایمبولنس کے ذریعے امتحان گاہ جاکر رائٹر کی مدد سے سارے پیپر دیئے تھے۔ مذکورہ حادثہ میں ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹ جانے سے اس کی ایک نس دب گئی ہے جس کی وجہ سے اس کے دونوں پیر وں نے کام کرنا بند کردیاہے ۔ اس کے باوجود وہ انجینئر نگ کی پڑھائی کرنا چاہتا ہے ۔معز نے کہاکہ ’’یکم جنوری ۲۰۱۸ء کو میں اسکوٹر سے جارہاتھا، اس دوران ہونے والے سڑک حادثہ میں میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جس کےسبب ایک نس نے کام کرنا بند کردیاہے۔ اسی وجہ سے میری دونوں ٹانگیں مفلوج ہوگئی ہیں ۔ اُس وقت میرا ایک آپریشن ہوا تھا ۔آپریشن کے چند مہینوں بعد بیڈ پر سے ہی میں نے اپنی پڑھائی شروع کردی تھی ۔ بعدازیں وہیل چیئر پرمیں نے اسکول جانا شروع کیا۔ میرے والد مجھے وہیل چیئر سے اسکول لے جاتےاور واپس گھربھی لاتےتھے۔ یوں تو ہر جماعت میں میری کارکردگی اچھی رہی ہے۔ مگرانجینئر نگ میں داخلہ حاصل کرنے کیلئے میری خواہش تھی کہ میں ایس ایس سی میں اچھے مارکس حاصل کروں ۔ اس کی تیاری میں کر رہی رہاتھاکہ ڈاکٹروں کےمشورے کےمطابق جنوری ۲۰۲۰ء میں مجھے دوسرا آپریشن کراناپڑا ۔ اس آپریشن کے بعد اسکول جانا بندہوگیا، بستر پر ہی میں پڑھائی کی لیکن میں پُر عز م تھاکہ میں ایس ایس سی کا امتحان کسی بھی طرح دوں گا اوراچھے نمبرات حاصل کروں گا۔ میرا سینٹر گھر سے ایک کلومیٹر دوری پر لگا تھا، میرے لئے رائٹر کا انتظام کیا گیا، علاوہ ازیں گھر سے سینٹر تک پہنچانے کیلئے ایمبولنس کی سہولت مہیاکی گئی۔ میں روزانہ ایک نئے حوصلے اور جذبے کے ساتھ امتحان دینے جاتا ، پیپر دینےکےبعد مجھے یہ احساس ہوتاگیاکہ میں اچھے نمبروں سے پاس ہوجائوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے میری محنت اور خواہش کے مطابق مجھے کامیابی عطا کی ہے جس کیلئے میں اس کا بے حد مشکورہوں ۔ میرے اساتذہ ، والدین اور بہنوں کا خاص شکریہ اداکروں گا جنہوں نے ہر موڑپر میری مددکی۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں معز نے کہاکہ میرے والدیومیہ مزدوری کرتے ہیں مگر لاک ڈائون کی وجہ سے کام کاج بند ہے۔ ایسے میں وہ سبزیاں فروخت کرکے ہماری کفالت کررہےہیں ۔ میرے رزلٹ سے وہ بہت خوش ہیں اورکہہ رہےہیں کہ میں جہاں تک بھی پڑھنا چاہوں وہ پڑھائیں گے۔ میرا ایک ہی مشن ہےکہ پڑھ لکھ کر اپنی زندگی کوکامیابی کی جانب گامزن اور والدین کی مدد کروں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK