الیکشن کمشنر کی’ تیز رفتار‘ تقرری پر سپریم کورٹ برہم

Updated: November 25, 2022, 10:13 AM IST | new Delhi

لگاتار دوسرے دن سماعت ،مرکز سے پوچھا کہ ایسی بھی کیا جلدی تھی کہ ایک ہی دن میں ارون گوئل کا انتخاب بھی ہوا ،نوٹس بھی جاری ہوا اور تقرری بھی ہو گئی؟

The Supreme Court has revealed its intention to the Center with its comments in the matter of appointment of Election Commissioners
سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے معاملے میں اپنے تبصروں سے مرکز پر اپنا منشاء ظاہر کردیا ہے

:سپریم کورٹ کی آئینی بنچ  نےالیکشن کمشنروں کی تقرری کےپروسیس اور ان کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ کولیجیم جیسے سسٹم کی ضرورت کے تحت داخل کی گئی پٹیشنوں پر لگاتار دوسرے دن سماعت کرتے ہوئے نہ صرف اپنا سخت رویہ برقرار رکھا بلکہ اپنے سوالوں سے مرکز کے لئے مسلسل مشکلوں کا سامان کرتی رہی ۔ بنچ نے  اس دوران سب سے زیادہ برہمی نئے الیکشن کمشنر ارون گوئل کی تقرری کے سلسلے میں ظاہر کی  اور  مرکز سے پوچھا کہ اسے ایسی بھی کیا جلدی تھی کہ ارون گوئل کو ایک ہی دن میں منتخب کیا گیا ، پھر نوٹس جاری کیا گیا اور فوراً ہی ان کا تقرر بھی کردیا گیا۔ کورٹ نے اس تعلق سے کئی سخت سوال بھی مرکزی حکومت سے پوچھے۔ حالانکہ اس دوران عرضی گزاروں میں سے ایک کے وکیل پرشانت بھوشن اور اٹارنی جنرل کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی اور تلخ الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔ 
سپریم کورٹ کے سوال 
  سپریم کورٹ نے مرکز سے نئے الیکشن کمشنر ارون گوئل کی تقرری کی وضاحت  طلب کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے طریقہ کار پرسوچا جانا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت  پر شدید طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حیرت ہے کہ حکومت نے  اس تقرری کے معاملے میں ضرورت سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ارون گوئل کی تقرری کا معاملہ بنچ کے سامنے پرشانت بھوشن کی جانب سے اٹھایا گیا تھا جس پر بنچ نے مرکزی حکومت سے ان کی فائل طلب کرلی تھی ۔ جمعرات کو جب فائل پڑھنے کے بعد بنچ نے سوالات شروع کئے تو مرکزی حکومت کے وکلاء بغلیں جھانکنے لگے ۔ ان کے پاس آئینی بنچ کے ججوں کے سوالات کے جواب نہیں تھے۔واضح رہے کہ پانچ  ججوں کی آئینی بنچ میں جسٹس کے ایم جوزف، اجے رستوگی، انیرودھ بوس، رشی کیش رائے اور سی ٹی روی کمار شامل ہیں۔ 
جسٹس جوزف اورجسٹس  رستوگی کے سوال 
 جسٹس رستوگی نے الیکشن کمیشن کو خود مختار ادارہ بنانے کی درخواست کی سماعت کے دوران پوچھا کہ  وزیر قانون نے نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے کس بنیاد پر ۴؍ ناموں کا انتخاب کیا تھا جن میں سے وزیر اعظم نے ایک  منتخب کرلیا ؟ کیا یہ تمام چار افراد مرد ہیں یا ان میں کوئی خاتون بھی تھیں؟ اس پر مرکز کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون نے محکمہ  کےعملہ کی ویب سائٹ سے چار ناموں کا انتخاب کیا تھا ۔ اس پر جسٹس جوزف نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی عینک ہے جس سے ایگزیکٹیو کہے کہ یہ شخص شائستہ ہے اور پھر کوئی کہے گاکہ وہ نہیں ہے۔ آپ کیسے فیصلہ کرتے ہیں اور اس کی بنیاد کیا ہو تی ہے؟ جسٹس جوزف نے پھر کہا کہ پہلے بتائیں کہ آپ اس فہرست کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں کہ ان میں سے ۴؍ نام منتخب کئے جائیں اور پھر وزیر اعظم ایک نام کا انتخاب کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخاب کے معیار پر مرکزی حکومت سےجوابات کی ضرورت ہے۔  جسٹس جوزف کے مطابق آپ پینل کو جواز بنا سکتے ہیں لیکن وزیر قانون  کے نوٹ کے حوالے سے ہم اس انتخاب کی بنیاد جاننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اٹارنی جنرل نے بنچ کے تبصروں پر سخت اعتراض اور اسے سیاق و سباق سے باہر قرار دینے کی کوشش کی لیکن بنچ نے  سخت رویہ برقرار رکھا ۔ 
فیصلہ محفوظ کرلیا گیا 
 سپریم کورٹ نے جمعرات کو مسلسل کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو خود مختار ادارہ میں تبدیل کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی بنچ نے تمام فریقو ں کو اس معاملے میں اگلے ۵؍ دن میں تحریری جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس سے قبل بنچ نےمرکز سے جو سوالات کئے ان سے بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK