سپریم کورٹ نے ای ڈی کے ذریعے ہونے والی گرفتاریوں کو ’درست‘ قرار دیا

Updated: July 28, 2022, 12:02 AM IST | new Delhi

اپوزیشن پارٹیوں کو بڑی امید تھی کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بار بار انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے بے جا استعمال کے ذریعے حکومتوںکو گرانے اور اراکین اسمبلی کو اپنے خیمے میں لانے کا سلسلہ سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد رک سکتا ہے

The Supreme Court`s decision disappointed the opposition (file photo).
سپریم کورٹ کے فیصلے نے اپوزیشن کو مایوس کر دیا ( فائل فوٹو)

اپوزیشن پارٹیوں  کو  بڑی امید تھی کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بار بار انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے بے جا استعمال کے ذریعے حکومتوںکو گرانے اور اراکین اسمبلی کو اپنے خیمے میں لانے کا سلسلہ سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد رک سکتا ہے۔ مگر ان کی امیدوں پر اس وقت  پانی پھر گیا جب بدھ کو سپریم کورٹ نے ای ڈی کی اب تک کی کارروائیوں کو جائز قرار دیا۔ 
 سپریم کورٹ نے بدھ کو انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قانون میں کی گئی ترمیم کو موزوں قرار دیا۔ عدالت میں دائر عرضیوں میں پی ایم ایل اے (پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ) کی کئی دفعات کو قانون اور آئین کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ عرضی میں پی ایم ایل اے کے تحت ای ڈی کی گرفتاری، ضبطی اور تحقیقات کے عمل کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ منی لانڈرنگ کے الزام میں اب تک کئی بڑے لیڈروں کے خلاف معاملات درج کئے جا چکے ہیں جو اسے اپنے خلاف انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں یا پھر اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ 
  سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پی ایم ایل اے معاملوں میں ای ڈی کے اختیارات کو’مناسب‘ قرار دیا۔ نیز سپریم کورٹ نے ای ڈی کے ملزمین کو گرفتار کرنے کے اختیار کو بھی برقرار رکھا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گرفتار کرنے کا عمل من مانی کارروائی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش ماہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی خصوصی بنچ نے سنایا ہے۔
 عرضی میں کہا گیا تھا کہ پی ایم ایل اے کی کئی دفعات خلاف قانون ہیں۔ غلط طریقے سے پیسہ کمانے کا جرم ثابت نہیں بھی ہوتا ہے، تب بھی پی ایم ایل اے کا مقدمہ ادھر ادھر پیسہ بھیجنے کے الزام میں جاری رہتا ہے۔ دلائل میں کہا گیا کہ اس کا استعمال غلط طریقے سے ہوا ہے۔ نیز افسران کو صوابدیدی اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔ مگر ان باتوں کا عدالت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔  ججوں نے  افسران کو تفویض کئے گئے اختیارات کو بھی قانون کے تحت اور مناب بتایا۔ 
  عدالت میں  حکومت کی جانب سے اس قانون کے حق میں کہا گیا  کہ کارروائی سے بچنے کیلئے اس طرح کی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ یہ وہی قانون ہے جس کی مدد سے وجے مالیا، نیرو مودی اور میہول چوکسی جیسے لوگوں سے بینکوں کے ۱۸؍ ہزار کروڑ روپے واپس لئے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ پی ایم ایل اے کے کئی مختلف پہلوؤں پر۱۰۰؍ سے زیادہ عرضیاں دائر کی گئی ہیں، جنہیں سپریم کورٹ نے ایک ساتھ منسلک کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ ای ڈی کے خلاف نہ صرف اپوزیشن پارٹیاں آواز اٹھا رہی ہیں بلکہ جمہوریت پسند دانشور اور قانونی ماہرین بھی کہہ چکے ہیں کہ ای ڈی کو حکومت  اپنے سیاسی مفادات کی غرض سے استعمال کر رہی ہے۔ اسی کی بنا پر   کچھ سماجی تنظیموں اور کچھ ماہرین قانون نے اس کے خلاف  اپنے اپنے طور پر عرضی داخل کی تھی۔ کافی دنوں تک اس پر سماعت نہیں ہوئی۔ بعد میں عدالت نے ان تمام عرضیوں کو ایک ہی بینچ کے حوالے کر دیا جس کا فیصلہ بد ھ کے روز آیاہے۔ فی الحال اس فیصلے کے سبب عرضی گزار مایوس ہیں۔  
  یاد رہے کہ مہاراشٹر میں اجیت پوار سے لے کر راج ٹھاکرے تک کئی اہم لیڈروںکو ای ڈی نوٹس دے چکی ہے جبکہ  این سی پی کے ترجمان اور ریاستی وزیر نواب ملک کو بھی ای ڈی ہی نے گرفتار کیا ہے۔  اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی گرفتاری اس وقت ہوئی  یا ان کے نام نوٹس اس وقت جاری کیا گیا جب  انہوں نے مودی حکومت کے خلاف بیانات دینا شروع کئے اس سے پہلے ای ڈی  میںان کے خلاف کوئی کیس نہیں تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK