امریکہ اور برطانیہ غریب ممالک کو ویکسین عطیہ کر ینگے

Updated: June 12, 2021, 7:45 AM IST | washington

دونوں ممالک نے جی ۷؍ کے دیگر اراکین سے بھی کورونا کے خلاف اس جنگ میں کم آمدنی والے ممالک کی امداد کرنے کی اپیل کی

US President Joe Biden and British Prime Minister Boris Johnson are committed to the G7 summit. Photo: PTI
امریکہ کے صدر جوبائیڈن اور برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن جی۷؍ اجلاس کیلئے پرعزم ہیں ۔ تصویر: پی ٹی آئی

 امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ساڑھے ۳؍ ارب ڈالرز کی خطیر رقم خرچ کرکے  کورونا  سے   تحفظ کیلئے  تیار کردہ ۵۰؍ کروڑ ویکسین خرید کردنیا کے غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک میں تقسیم کرے گا۔یہ اعلان صدر جو بائیڈن  کے برطانیہ میں یورپی لیڈروں ملاقات سے پہلے کیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے دنیا کے ۷؍ امیر ترین ممالک پر مشتمل گروپ جی ۷؍سے بھی  کہا ہے کہ وہ بھی عالمی وبا کے خلاف جنگ میں امریکی اقدام کی طرح کم آمدنی والے ممالک کی مدد کرے۔’رائٹرز‘ کے مطابق کو کورونا وبا قابو پانے کوششوں میں امریکہ کا نصف ارب ویکسین کا عطیہ اب تک کا کسی بھی ملک کی طرف سے اعلان کردہ سب سے بڑا امدادی اقدام ہے۔
 بائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ یہ امریکہ کا خیر سگالی اقدام ہے جو عالمی وبا کےخلاف کوششوں کو تیزتر کر کے دنیا کے تمام خطوں میں بسنے والے لوگوں میں امید افزا حوصلہ پیدا کرے گا۔ امریکہ کا واحد اور بنیادی مقصد انسانی جانوں کو اس مہلک مرض سے بچانا ہے۔   واشنگٹن ہرگز یہ نہیں چاہے گا کہ اس امداد کے بدلے میں اس کیلئے کچھ کیا جائے بلکہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ جی۷؍ گروپ میں شامل ار اکین باقاعدہ ایک ٹھوس منصوبے کے تحت عالمی وبا کے خاتمے  کیلئےاپنے  حصے کی امداد فراہم کریں گے۔
 غربت میں کمی  کیلئےکام کرنے والی تنظیم آکسفیم نے امریکی اقدام  کی ستائش  تو کی ہے لیکن کہا ہے کہ دنیا میں ویکسین کی بہت زیادہ ضرورت کے پیش نظر یہ  تعدادبہت کم  ہے۔
  واضح رہے کہ برطانیہ  میں جی ۷؍ کایہ سربراہی اجلاس۲؍ برس بعد باقاعدہ طور پر  خلیج کاربیس کے کورنش ساحلی شہر میں  ہورہا ہے۔   اس میں برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا ، جاپان ، جرمنی ، فرانس ، اٹلی اور یوروپی کمیشن اور یوروپی یونین کے صدور شریک ہیں۔  اجلاس میں ہندوستان ، جنوبی کوریا ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کو مہمان ممالک کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے۔ ہندوستان  وزیر اعظم نریندر مودی  آن لائن طور پر  اس میں شرکت کریں گے۔  اس کا بنیادی ایجنڈا کورونا وائر س سے نمٹنے کے  چیلنجوں اور حکمت عملی ہوگی۔ علاوہ ازیں  اجلاس میں معاشی اصلاحات ، پائیدار ترقی ، تجارت ، سبز اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے ، معاشرتی شمولیت اور صنفی فرق کو ختم کرنے جیسے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کی جائے گی۔
  اسی کے ساتھ  سربراہی اجلاس میں شریک ممالک کووڈ ۱۹؍ویکسین تک مساوی رسائی کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر صحت کے  تحفظ کو مضبوط بنانے کے طر یقہ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔
جی ۷؍ کا کورونا کیلئے  ۱۰۰ء بلین  ڈالر مختص کرنے پر غور
  یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر جی ۷؍ گروپ ممالک کووڈ ۱۹؍وباسے لڑنے میں فوری مدد کے طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی مدد سے ۱۰۰؍ ارب ڈالر تک کی امداد فراہم کرسکتے ہیں۔  امریکہ اور دیگر جی۷؍ممالک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی مجوزہ خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) مختص کرنے والے ممالک کی مدد کرنے کے لئے عالمی سطح پر کوششوں پر غور کررہی ہیں ، اس کانفرنس  میں کورونا سے تحفظ کیلئےٹیکوں سمیت ۱۰۰؍ بلین ڈالر تک کی طبی کی ضروریات کو مدد ملے گی۔ اس  بیشتر کمزور ممالک کی معاشی بحالی میں مدد ملے گی  اور عالمی طور پر متوازن ، پائیدار اور جامع  بحالی کو فروغ ملے گا۔
 ویکسین عطیہ کیلئے رضامندہو نگے: بورس جانسن 
   جی ۷؍اجلاس کے میزبان برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی  اپنےاتحادیوں کے ساتھ مل کر ۲۰۲۲ءکے آخر تک کووڈ ۱۹؍ کے  پوری  دنیا میں خاتمے کیلئے اپیل کرنے کا منصوبہ  بنایا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ویکسین عطیہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد بورس جانسن نے بھی اعلان کیا کہ برطانیہ ویکسین  کے۱۰؍کروڑ اضافی ڈوز عطیہ کرے گا۔  انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ جی سیون ممالک دنیا کے ترقی پذیر ملکوں کوایک ارب ویکسینز عطیہ کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے۔
  دوسری طرف ویکسین کے تئیں مہم چلانے والے کچھ گروپس اس کی مذمت کی اسے سمندر میں قطرے سے تشبیہ دے رہے ہیں اور اس سلسلے میںٹھوس اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK