جوبائیڈن سے ملاقات کاکوئی فائدہ نہیں

Updated: August 30, 2022, 11:35 AM IST | Agency | Washington/Tehran

اسرائیل کی جانب سے جوہری معاہدے کو ناکام بنانے کی کوششوں کے درمیان ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا پریس کانفرنس سے خطاب ، کہا :’’ میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات نہیں کروں گا۔‘‘

President of Iran Ebrahim Raisi was addressing the press conference.Picture:AP/PTI
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: اےپی / پی ٹی آئی

اسرائیل کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کو ناکام بنانے  کی کوششوں کے درمیان ایران کے صدر  نے پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے   آئندہ ماہ اپنے دورہ ٔ امریکہ کے موقع پر صدر جوبائیڈن سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کیا ۔  ایران کے صدر نے  اسرائیل پر شدید تنقید کی جو جو ہری معاہدے کو ایسے میں وقت ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ،  جب یہ معاہدہ بحال ہونے کے بہت قریب ہے۔     میڈیار پورٹس کے مطابق    پیر کو    ایران کے صدرابراہیم رئیسی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہا :’’ میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات نہیں کروں گا، کیونکہ ان سے  ملاقات کاکوئی فائدہ نہیںہے۔  ا س ملاقات سے امریکی عوام کا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی ایرانی عوام کا ۔ ‘‘ انہوں نے اسرائیل  پر شدید تنقید کی اور اس کے دھمکی آمیز بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مشورہ دیا کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرنے  سے گریز کرے اور اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے  یہ دیکھ لیا کرے کہ وہ جو کچھ کہہ رہاہے، ان میں کتنی صداقت ہے؟ اوروہ حقائق سے کتنا میل کھاتی ہیں؟
 ۲۰۱۸ء میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یکطرفہ طور پر مذکورہ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے، البتہ ان کے بعد جو بائیڈن نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد اس معاہدے کو بحال کرنے کا  وعدہ کیا تھا۔ امریکی صدر بننے کے بعد انہوں نے معاہدے کی پاسداری کی اور تقریبا ًڈیڑھ سال کی بات چیت کے بعد جلد ہی یہ معاہدہ طے پا نے کی اُمید ہے۔ اس میں یورپی یونین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔  ا سی دوران پیر کو  ایران کے صوبہ لرستان کے صدر مقام خرم آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف الزام تراشیوں کا خاتمہ اور دشمن سے تہران کو نقصان پہنچانے کا  بہانہ چھین لینا ہی مذاکرات کی اصل کامیابی  ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ پابندیوں کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ ہو  تاکہ ایرانی عوام کو اقتصادی فوائد حاصل ہوسکیں۔  قبل ازیں ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے متوقع امریکی دورے پر کانگریس کے اراکین نےا عتراض  کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ  ابراہیم رئیسی کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاجلاس میں شرکت سے روکیں۔ انہوں نےایرا ن جوہری معاہدے سےمتعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ ریپبلکن پارٹی کےرکن ڈان بیکن نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران ہماری سرزمین پر امریکیوں کو مارنے کی جارحانہ منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
 دوسری جانب اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کےسربراہ عالمی جوہری معاہدے کی بحالی سےمتعلق   بات چیت کیلئےستمبرمیں امریکہ کادورہ کریںگے۔اسرائیل الزام عائدکرتا رہا ہے کہ معاہدے سے ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کی مالی مدد کی جائے گی ۔ اس طرح کوئی تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہیں روک سکے گا ۔اس کے سینئراسرائیلی اہلکار کے مطابق موسادکےسربراہ ڈیوڈ بارنیادورہ امریکہ میں کانگریس ار اکین کےاجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔  قبل ازیں وزیر اعظم یائر لپید نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری معاہدےکےخلاف اسرائیل ہمیشہ سفارتی جنگ لڑےگا۔  آئندہ بھی اس کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ان کے الفاظ میں:’’ہم اس بات کویقینی بنانےکی ٹھوس کوشش کررہےہیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک اس معاہدے میں شامل مضمرات کو سمجھیں۔‘‘ واضح رہے کہ ایران کے خلاف عائد امریکی  پابندیوں کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا نیا دور ویانا میں شروع ہوا تھا جو ۸؍ اگست کومکمل ہوا ۔ اس مرحلے میں مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے مذاکرات کے یورپی کوآرڈینیٹر انریکے مورا نے کچھ تجاویز پیش کی تھیں ۔ اب  مذاکرات کے تقریبا ً تمام فریق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اب اس سلسلے کو جلد از جلد مکمل کر کے اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK