تجارت کے فروغ کیلئے مرکزی حکومت ایل ون ٹینڈرنگ کا نظام ختم کرے :انجینئرس اسوسی ایشن

Updated: July 15, 2020, 1:22 PM IST | Agency | New Delhi

اسوسی ایشن نے کہا کہ خودکفیل ہندوستان کی مہم میں موجودہ ٹینڈرنگ نظام بہت بڑی رکاوٹ ہے جسے دور کرنا مودی حکومت کی ذمہ داری ہے،کمپنیوں کو مناسب لاگت ملے گی تو وہ سرمایہ لگائیں گی

Niti Ayog - Pic: INN
نیتی آیوگ ۔ تصویر : آئی این این

ملک  میں مشاورتی انجینئروں کی سرکردہ تنظیم کنسلٹنگ انجینئرز اسوسی ایشن آف انڈیا (سی ای اے آئی)  نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا کے بعد کی صورتحال کو دیکھے ہوئے اور خود کفیل ہندوستان کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں ٹینڈر طلبی اور خریداری کے دہائیوں  پرانے ایل ون سسٹم پر نظر ثانی کرے۔ اس سلسلے میں اسوسی ایشن کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں سی ای اے آئی نے کہا کہ ایل ون سسٹم  کے تحت سب سے کم قیمت  لگانے والے ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا جاتا ہے ۔ طویل عرصے سے چلے آرہے اس نظام کے تحت ٹھیکیداروں، مشیروں کا کام منتخب کرتے وقت اور سامان کی خریداری  کا پیمانہ  یہ رہتا ہے کہ کس نے سب سے کم بولی لگائی ہے۔ نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کام اور خریدا ہوا مال غیرمعیاری اور گھٹیا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے  انتخاب کے عمل کو فوری طور پر تبدیل کرنے اور ` واجب لاگت پر ٹینڈر اور خریداری کے نظام کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔
 سی ای اے آئی کی انفراسٹرکچر کمیٹی کے چیئرمین اور اس یہ پہل کرنے والے کے کپیلا نے کہا کہ ’’ تبدیل ہوئے ٹینڈر اور خریداری نظام میں  شفاف طریقے سے  واجب شرح  حاصل کرنے کے بہت سے اختیارات موجود ہیں اور اہل اور قابل کمپنیوں کو مناسب لاگت پر  منصوبے تیار کرنے اور بولی لگانے کا موقع ملے گا۔  اس طرح سے منصوبوں کا  پورا نظام  زیادہ بہتر ہوگا جس کا اثر ان کے معیار اور ان کی متعینہ میعاد  پر بھی پڑے گا۔ ایل ون سسٹم  میں ہمیشہ تاخیر ہوتی ہے اور لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بیکار تنازعات اور زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔
 سی ای اے آئی کے صدر امیتابھ گھوشال نے کہاکہ ’’یہ تبدیلی تب ہی آئے گی جب عام لوگ یہ سمجھ لیں گے کہ ہم  `سب سے کم لاگت پر زور دینے کی وجہ سے عالمی معیار کا انفراسٹرکچر نہیں بنا پائے ہیں یا اچھے سامان اور خدمات حاصل کرنے کے قابل نہیںہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو عوامی خریداری کے ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں سرکاری شعبے کی تمام سرگرمیوں میں معیار اور مناسب قیمت پر زور دیا جائے۔ نیز ، اس وقت  غیر ملکی کمپنیوں کو بھی  بہت کم بولی لگانے سے روکنے پر غور کیا جائے  تاکہ وہ ہندوستانی کمپنیوں کو مسابقت کرنے سے اور مواقع  حاصل کرنے سے نہ روک سکیں۔اسوسی ایشن نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کو  فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK