دسہرہ ریلی سے اُدھو کا خطاب ، بی جے پی کو کھری کھری سنائی

Updated: October 16, 2021, 8:43 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

زعفرانی پارٹی کے نام نہاد ہندواتوا پر جم کر تنقیدیں، نشہ کی لعنت ختم کرنے کا عزم لیکن اقتدار کے نشے کو پہلے ختم کرنے کا اعلان ،بنگال کے ووٹرس کی تعریف کی ، کسانوں کے قتل کا موضوع بھی اٹھایا

Chief Minister uddhav Thackeray enthusiastically addressed the party`s traditional Dussehra rally
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے پارٹی کی روایتی دسہرہ ریلی سے پُرجوش انداز میں خطاب کیا


 ممبئی : شیو سینا کی روایتی دسہرہ ریلی میںوزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے  نے  بی جے پی اور اس کے نام نہاد ہندوتوا کو جم کر نشانہ بنایا۔ شہر کے وسط میں واقع  شانمکھانند ہال میں ۵۰؍ فیصد گنجائش کے ساتھ منعقد کی گئی اس ریلی  سےخطاب کرنے شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے بھگوا لباس میں نظر آئے ۔ اپنے خطاب میں انہوںنے بابری مسجد کو شہید کرنےکے بعدممبئی میں ہونے والے فسادات میں شیو سینا  کی اہمیت بیان کی اور مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتےہوئے بی جے پی کو کھری کھری سنائی ۔  اپنے خطاب میں انہوںنے کہا کہ  ہندو بھائی بہنوں سے بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ روایت شیو سینا چیف بالا صاحب ٹھاکرے نے ۱۹۶۷ء میں شروع کی تھی وہ آج ہم عوام کے تعاون سےجاری رکھے ہوئے ہیں اور اس بات پر ہمیں فخر ہے   ۔ انہوں نے خالص ممبیا انداز میں کہا کہ  بی جے پی کو وارننگ دی کہ ’’پہلے تو ہم کسی کے آنگ پر جاتے نہیں اور جو ہم  سے الجھتا ہے ہم اسے چھوڑتے بھی نہیں۔‘‘  انہوں نے نام لئے بغیر بی جے پی کو للکارا کہ اگر ہمت ہے تو سامنے آکر مقابلہ کرو ، ای ڈی ، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے ذریعے کیاچیلنج دیتے ہو ، پولیس کے پیچھے چھپ جاتے ہو اور اپنے آپ کو مرد کہتے ہو۔ یہ مرد ہونے کی نشانی نہیں اور ہندوتوا تو بالکل نہیں ہے  ۔
آر ایس ایس اور شیو سینا کے خیالات ایک  ہیں
 ادھو ٹھاکرے نے خطاب کے دوران کہا کہ آج دو ریلیاں ہیں۔ ایک  ہماری اور دوسری آر ایس ایس کی جو صبح ہوئی ہے۔ہمارےخیالات ایک ہی ہیں اور وہ ہندوتوا ہے لیکن راستے الگ  ہیں ۔انہوں نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہم انسان بن کر پیدا ہوتے ہیں اور اس کے بعد ذات پات یا  دھرم  میں ڈھلتے ہیں۔ ہم اپنا مذہب گھر میں رکھتے ہیں لیکن جب گھر سے باہر پیر رکھتے ہیں تو ملک ہی ہمارے لئے دھرم ہوتا ہے مگر آر ایس ایس کے لوگ ایسا نہیں سوچتے جس کی وجہ سے تنازع پیدا ہو تا ہے۔
کسانوں کا موضوع اٹھایا 
  ادھو ٹھاکرےنے کہاکہ  جہاں تک آباو اجداد کے ایک ہونے کی بات ہے تو یہ ہم مانتے ہیں کہ ہم سبھی ہندوستانیوں کے آباء ایک ہی تھے لیکن جو کسان احتجاج کر رہے ہیں کیا ان کے آبا و اجداد الگ ہیں ؟کیا وہ آسمان سے آئے تھے؟ جس وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو کچلا کیا وہ دوسری دنیا سے آئے تھے؟ان کے بارے میں موہن بھاگوت نے زبان کیوں نہیں کھولی ؟ ان اموات پر وہ کیوں خاموش ہیں؟ اس وزیر کے لڑکے کو بچانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟
نشہ کی لعنت ختم کرنے کا عزم 
  نشہ کی لعنت پر ادھو نے کہا کہ ہمیں  نشہ کو جڑسے ختم کرنا ہے۔ کچھ ایجنسیاں ہمیں بدنام کرنے کےلئے لگائی گئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر کی پولیس نے ان ایجنسیوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ڈرگس پکڑے ہیں۔ اسی لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ نشہ تو ختم کرنا ہے لیکن اس نشے کو بھی ختم کرنا ہےجو  اقتدار کی وجہ سے کچھ لوگوں کو آجاتا ہے۔ ریاستی حکومت سے لے کر لوک سبھا تک  تمام لوگ میرے ماتحت ہوں یہ بھی تو نشہ ہے اور جسے یہ ہوا اس نے پورے ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔ ادھو کے مطابق ہماری حکومت گرانے کی  متعدد کوششیں کی گئیں،  ڈرانے کی کوششیں کی گئیں لیکن وہ  ناکام رہے ۔ آج بھی مَیں چیلنج کرتا ہوں کہ ہمت ہے تو حکومت گرا کر  دکھائو ۔ 
۹۲ء کے فسادات کا ذکر کیا 
 بابری مسجد شہید ہونے کے بعد ممبئی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات  کا ذکر کرتے ہوئے ادھو نے پھر بی جے پی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ شیو سینا کو بدنام کرنے والوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر  ۹۲ء  میں شیو سینا محضوص پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہوتی تو آج تم کہاں ہوتے ؟ جب ممبئی میں فساد ہو رہا تھا اس وقت کون راستے پر اترا تھا۔ آ ج جو لوگ ہندوتوا کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اس وقت دم دبا کر کہیں چھپے بیٹھے تھے۔ اس وقت شیو سینا چیف نے کہاتھا کہ گرو سے کہو ہم ہندو ہیں!اور تب جاکر ممبئی بچی تھی،  پولیس اور فوج سے نہیں۔پولیس اور فوج تو شیو سینکوں کو پیٹ رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ۲۶؍ نومبر کے دہشت گردانہ حملے کا بھی ذکر کیا اور شہیدوں کو یاد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ممبئی پولیس نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا تھا اس پر ہم سب کو فخر ہے۔  
عام آدمی کا ووٹ، آئین کا ہتھیار 
  شیو سینا سربراہ نے کہا کہ مجھے عام رائے دہندگان سے یہی کہنا ہےکہ وہ اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہیں کیوں کہ وہ اپنے ایک ووٹ سے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ملک کے آئین نے انہیں یہ سب سے بڑا ہتھیار عطا کیا ہے جس کی مدد سےوہ ملک کو آگے لے جانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اسی لئے ضروری ہے کہ وہ بہت سوچ سمجھ کر ملک اور ریاستوں کی قسمت کا فیصلہ کریں اور انہیں ہی ووٹ دیں جو اس کے قابل ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK