اُدھو ٹھاکرے اور دیویندر فرنویس میں شدید لفظی جنگ

Updated: September 23, 2022, 9:47 AM IST | Mumbai

سابق وزیر اعلیٰ اُدھوٹھاکرے کے اس چیلنج کے جواب میں کہ آئندہ الیکشن فرنویس کا آخری الیکشن ہوگا ،نائب وزیرا علیٰ نے کہا ’’ آپ نے کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر مجھے ختم کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں کرسکے‘‘،’مدعی لاکھ برا چاہے‘ مصرعہ کے ذریعے اُدھو پر طنز

Former Chief Minister Uddhav Thackeray and current Deputy Chief Minister Devendra Farnavis have challenged each other for the election. (File Photo)
سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور موجودہ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ایک دوسرے کو الیکشن کا چیلنج کیا ہے۔(فائل فوٹو)

مہاراشٹر میں سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خلاف  ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد سے دونوں گروپوں کے درمیان  شروع ہونے والا تنازع ختم نہیں ہورہا ہے۔اُدھو ٹھاکرے اور شیوسینامیں ان کے حامی دیگر لیڈران شندےگروپ کو مسلسل دوبارہ الیکشن لڑنے کاچیلنج دے رہے ہیں۔ ایسے میں ادھو ٹھاکرے نےدیویندر فرنویس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ الیکشن ان کا آخری الیکشن ہوگا۔   نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے  کے  اس بیان کے جواب میں کہا کہ وہ انہیں کبھی ختم نہیں کر سکیں گے۔ آپ نے کانگریس اور نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اپنی پوری کوشش کی لیکن مجھے ختم نہیں کر سکے اور آئندہ بھی نہیں کر پائیں گے۔ نائب  وزیر اعلیٰ نے کہا کہ  ادھو ٹھاکرے کہہ رہے ہیں کہ یہ میرا کا آخری الیکشن ہوگا۔ انہوں نے شاعرانہ اندازمیں کہا کہ’’مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے /وہی ہوتا ہے جو تقدیر میں لکھا ہوتا ہے‘‘/۔
’ ادھوٹھاکرے نے بی جے پی کی پیٹھ میں خنجر گھونپا‘
 دیویندرفرنویس نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی گزشتہ روز کی تقریر میں  ان کی  مایوسی جھلک رہی تھی۔واضح رہےکہ ادھو ٹھاکرے نے بدھ کو سینا کارکنان کے ایک جلسے میں کہا تھا کہ  دسہرہ ریلی شیواجی پارک میں ہی ہوگی اور جب آج اتنی بھیڑ ہے تو اندازہ کریں کہ اس ریلی میں کتنا بڑا مجمع ہوگا ۔ ادھو ٹھاکرے نے شندے گروپ اور بی جے پی  پر  ان کے والد بال ٹھاکرے کی تصویر کا استعمال کرنے پر طنز کرتے ہوئے کہا  تھاکہ یہ نئی گینگ ہے جو باپ کو چرا لیتی ہے۔میں نے اب تک بچہ چرانے والی گینگ کے بارے میںسنا تھا لیکن یہ واقعی نئی گینگ ہے۔ اس پر فرنویس نے کہا کہ ۲۰۱۹ء میں آپ (ٹھاکرے)  وزیر اعظم مودی کی تصویر دکھا کر بی جے پی کے ساتھ آئے تھے اور پھر بی جے پی کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر کانگریس این سی پی کے ساتھ چلے گئے، اس وقت  استعفیٰ  دے کرالیکشن کیوں نہیں لڑا ؟
کیا چیلنج کیاتھا  ادھو ٹھاکرے نے؟
  ادھو ٹھاکرے نے بدھ کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ریاست میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے چیلنج کیا تھا۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا تھا ’’ `میں امیت شاہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ آنے والے شہری اور اسمبلی انتخابات میں ہم بی جے پی کو شکست  دے کر رہیںگے ۔‘‘
  ادھو نے کہا تھا’’ میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ اپنے شاگردوںکو ایک ماہ کے اندر اندر بی ایم سی انتخابات کرانے کی  ہدایت دیں اور اگر آپ میں ہمت ہے تو آپ ریاست میں اسمبلی انتخابات بھی اسی وقت کرالیں۔‘‘
ہندومسلم، مراٹھی اور غیر مراٹھی سب ہمارے ساتھ ہیں: ادھو 
 ادھو نے کہا  تھا کہ میں امیت شاہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ انتخابات سے پہلے اپنے تمام  حربے استعمال کریں۔ اگر آپ ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔ جہاں تک ہندوؤں کا تعلق ہے تومراٹھی یا غیر مراٹھی لوگوں کی ہمیں سب کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے بی جےپی پر ٹھاکرے خاندان کی وراثت کو ختم کرنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا تھا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK