Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل: مسجد کے انہدام کے دوران ’’آئی لو محمد‘‘ پوسٹر ملنے پر۸؍ افراد پر مقدمہ

Updated: June 09, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi

سنبھل، اتر پردیش میں ایک مبینہ غیر قانونی مسجد کے انہدام کے بعد وہاں سے’’I Love Muhammad‘‘ کے پوسٹر اور ایک سبز جھنڈا ملنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پولیس نے آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ مقامی رکنِ پارلیمان نے کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔

The posters that the police found. Photo: INN
وہ پوسٹر جو پولیس کو ملے ہیں۔ تصیور: آئی این این

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جب اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ایک زیرِ انہدام مسجد کے اندر’’ آئی لو محمد‘‘کے نعرے والے کئی پوسٹر اور ایک سبز جھنڈا، جو مبینہ طور پر پاکستان کے جھنڈے سے مشابہ تھا، برآمد ہوئے۔ پولیس کے مطابق، مصطفیٰ قادری مسجد کو سنیچرکو مسمار کر دیا گیا کیونکہ اسے قبرستان کیلئے مختص زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ قرار دیا گیا تھا۔ سنبھل کے رکنِ پارلیمان ضیاء الرحمٰن برق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بھی ایسے پوسٹر موجود ہیں اور وہ بھی سبز جھنڈا رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا:’’اس پر میرے خلاف کس قسم کا مقدمہ درج کیا جائے گا؟‘‘پی ٹی آئی کے مطابق، سماج وادی پارٹی کے لیڈرنے کہا:’’کن قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا؟ اگر میں اپنے دین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اللہ اور اپنے نبی ؐ سے محبت کا اظہار کرتا ہوں تو اس پر قانون کی کون سی دفعہ لاگو ہوتی ہے؟‘‘برق نے الزام لگایا کہ مسجد کا انہدام غیر قانونی تھا اور وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سڑک کی توسیع کےنام پر جے پور میں مسجد شہید کردی گئی

ستمبر اور اکتوبر میں، ’’I Love Muhammad‘‘ کے بینروں کے تنازع کے بعد۲۳؍ شہروں میں ۴؍ ہزار ۵۰۰؍ سے زائد مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اور۲۶۵؍ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ معلومات انسانی حقوق کی تنظیم اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے فراہم کیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ ضلع بریلی میں ان بینروں کے سلسلے میں ۲۶؍ستمبر کو ہونے والے تصادم کے بعد پولیس نے غیر متناسب کارروائی کی اور انتظامیہ نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ تنازع۴؍ ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب اتر پردیش کے کانپور میں عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے دوران کچھ مسلمانوں نے ’’I Love Muhammad‘‘ کا بینر اٹھایا۔ بعض ہندو تنظیموں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جلوس میں ایک’’نئی روایت‘‘ متعارف کرائی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میل گھاٹ میں لوگ جان جوکھم میں ڈال کر پانی بھر رہے ہیں

اس وقت پولیس کا مؤقف تھا کہ مذہبی جلوسوں میں نئی رسومات یا روایات متعارف کرانے کی اجازت نہیں ہے۔ اتوار کو برق نے دعویٰ کیا کہ سنبھل میں مسمار کی گئی مسجد تقریباً۱۵۰؍ سال پرانی تھی اور۱۹۹۵ء سے ریاستی گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج تھی۔ وقف اسلامی قانون کے تحت ایسی جائیداد یا عطیہ کو کہا جاتا ہے جو مذہبی، تعلیمی یا فلاحی مقاصد کیلئے وقف کیا گیا ہو۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (شمالی) کلدیپ سنگھ نے کہا کہ آٹھ افراد، جن میں مسجد کا متولی بھی شامل ہے، کے خلاف عوام میں انتشار پھیلانے والے بیانات دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ انکت کھنڈیلوال نے کہا کہ مسجد کمیٹی کی جانب سے تحصیلدار عدالت کے بے دخلی کے حکم کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی گئی کیونکہ کمیٹی اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی مؤثر ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK