امریکہ، جاپان ، آسٹریلیا اور ہندوستان کا اتحاد،چین پر شکنجہ کسنے کی تیاری شروع

Updated: October 08, 2020, 11:34 AM IST | Agency | Washington

چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کی جاپان میں ملاقات۔ چین کے جبر، استحصال اور بدعنوانی کے خلاف متحدہ لائحہ عمل پر غور وخوض

US Allied - Pic : Agency
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ ، اجلاس کے بعد (تصویر: ایجنسی

 امریکہ، جاپان ، آسٹریلیا اور ہندوستان جیسے مضبوط ممالک نے ملک کر اب چین پر شکنجہ کسنے کی تیار ی شروع کر دی ہے۔  منگل کو ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے منگل کو  ایشیائی ممالک کے اجلاس میں ملاقات کی۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین  پر استحصال ، جبر اور بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ 
 امریکہ کی ایما پر ہوئی اس ملاقات کا مقصد  چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کا مقابلہ کرنے کیلئے زمین تیار کرنا تھا۔سفارتی حلقوں میں چار ملکوں کے اس اشتراک کو ’کوایڈ‘ یعنی چار فریقی اتحاد کہا جاتا ہے۔ اس اجلاس کے آغاز پر مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کوایڈ میں شراکت دار ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے لوگوں اور شراکت داروں کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے استحصال، بد عنوانی اور جبر سے بچانا ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے کے بعد مائیک پومپیو کو اپنا دورہ مختصر کرنا پڑ رہا ہے۔ اجلاس سے پہلے پومپیو نے تینوں وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقات بھی کی۔قبل ازیں منگل کو جاپانی میڈیا اداروں سے بات کرتے ہوئے پومپیو نے واضح انداز  میں کو ایڈ کا تعارف کروایا۔ چین کو ایڈ کو اپنی ترقی کی راہ روکنے کا ایک بڑا اشتراک قرار دیتا ہے۔پومپیو نے کو ایڈ کو ایک ایسا علاقائی گروپ قرار دیا جو چین کی کمیونسٹ پارٹی سے گروپ کے تمام اراکین کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
 پومپیو کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ جب یہ گروپ ایک تنظیم کی شکل اختیار کر جائے گا تو چاروں ملک مل کر سیکوریٹی سے متعلق ایک درست بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے کی جانب بڑھیں گے۔ ان کاکہنا تھاکہ دیگر ممالک بھی درست وقت پر کو ایڈ میں شامل ہو سکتے ہیں۔امریکہ برسوں سے اپنے ایشیائی اتحادیوں اور شراکت داروں کو چین کے خلاف ایک ٹھوس اشتراک تشکیل دینے پر قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم یہ کاوشیں چین کی معاشی قوت کی وجہ سے درست سمت اختیار نہیں کر سکی تھیں۔  امریکہ چین کو خطے میں استحکام کے خلاف ایک بڑھتا ہوا خطرہ گردانتا ہے۔
  جاپان، آسٹریلیا اور ہندوستان کے چین کے ساتھ اہم معاشی تعلقات ہیں۔ تینوں ممالک اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے  آئے ہیں کہ یہ چار کا گروپ چین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالناچاہتا ہے۔گروپ کے اراکین کا موقف ہے کہ یہ ہم خیال جمہوریتوں کاسیکوریٹی میکانزم سے متعلق ایک مشاورتی گروپ ہے۔منگل کو تینوں ملکوں نے چین پر تنقید کرنے سے گریز کیا۔  محدود  وقت کی وجہ سے کسی مشترکہ اعلامیہ کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ ہر ملک کی جانب سے اپنا الگ الگ بیان جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK