عراق اور شام میں امریکہ کا ایران کی حامی جنگجو تنظیموں کے ٹھکانوں پر حملہ

Updated: June 29, 2021, 7:12 AM IST | washington

پنٹاگون نے بیان جاری کرکے حملے کی اطلاع دی۔ اسے ’ضروری، دانستہ اور مناسب ‘کارروائی قرار دیا۔ بمباری کا مقصد خطے میں اضافی خطرے کو روکنا اور ’غیر جانبدارانہ پیغام‘ دینا بتایا۔ کسی کی ہلاکت کا اعلان نہیں جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق حملے میں کم از کم ۵؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متعدد زخمی بھی ہیں

Will the attacks disrupt the nuclear deal? Picture: Agency
کیا حملے جوہری معاہدے میں رکاوٹ کا سبب بنیں گے؟(تصویر: ایجنسی)

 امریکی وزارت دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ جنگجو تنظیموں کے خلاف فضائی حملے کئے ہیں۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج پر ان تنظیموں کے ڈرون حملوں کے جواب میں ’آپریشنل اور ہتھیار ذخیرہ کرنے والی سہولیات‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔پنٹاگون کا کہنا ہے کہ ’صدر بائیڈن یہ واضح کرتے آئے ہیں کہ وہ امریکی افواج کی حفاظت کیلئے اقدامات کریں گے۔‘‘جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایران کے حمایت یافتہ  جنگجو گروہوں کے  خلاف فضائی حملوں کا یہ دوسرا دور ہے۔ واضح رہے کہ  عراق میں مقیم امریکی افواج حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں سے متعدد بار نشانہ بنی ہیں۔
 ایران نے ان ڈرون حملوں میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی، بین الاقوامی اتحاد کے ایک حصے کے طور پر عراق میں موجود ہیں۔ یہ افواج شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش ) کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ پنٹاگون کے بیان کے مطابق ان فضائی حملوں کے دوران شام میں دو اور عراق میں ایک ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سہولیات ایران کے حمایت یافتہ گروہوں بشمول کاتب حزب اللہ اور کاتب سید الشہدا استعمال کرتے تھے۔
  ۲۰۰۸ءکے بعد سے، امریکہ نے عراق کے امن و استحکام کو خطرہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے، کاتب حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے یہ حملے اپنے دفاع میں کئے ہیں اور ’ضروری، مناسب اوردانستہ طور پر کی گئی اس کارروائی کا مقصد اضافی خطرے کو محدود کرنے کے علاوہ ایک واضح اور غیر جانبدار پیغام بھیجنا بھی تھا۔‘‘پنٹاگون نے یہ نہیں بتایا کہ ان حملوں میں کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے یا نہیں۔ لیکن خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ میں مقیم مانیٹرنگ گروپ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شام میں ’امریکی جنگی طیاروں کے حملے میں‘ ملیشیا کے ۵؍جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔شام کے سرکاری خبر رساں ادارے صنا نے کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایک بچے کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ کم از کم تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
 ایسا کہا جاتا ہے کہ  ۲۰۰۳ء میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے امریکہ کے زیر قیادت حملوں کے بعد سے عراق کے داخلی معاملات پر ایران کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب ایران ۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدے کی بحالی کے بارے میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جوہری کارروائیاں روکنے کے بدلے میں ایران کے خلاف پابندیاں ختم کردی گئی تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسی دوران اسرائیل کے  وزیر خارجہ یائیر لبید نے امریکی دورہ بھی کیا ہے ۔اسرائیل اس معاہدے کی ہمیشہ سے مخالفت کرتا رہا ہے۔ اسرائیل سمیت کچھ ممالک کا خیال ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی ایران تردید کرتا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۲۰۱۸ء میں اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے ایران پر دوبارہ جوہری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ فی الحال ان حملوں کے تعلق سے ایران کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ یہ حملے ایران کو  امریکہ کی طرف سے ایک طرح کا اشارہ ہیں ۔

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK