غیر ملکی سفراء کے کشمیر دورے کا امریکہ نے خیر مقدم کیا مگر پابندیوں پر اظہارِ تشویش

Updated: January 13, 2020, 4:10 pm IST | Washington

امریکی محکمہ خارجہ نے جموں وکشمیر میں مختلف ممالک کے سفیروں کے دوروں کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے لیکن اسی کے ساتھ خطے میں سیاسی لیڈروں کی مسلسل نظربندی اور انٹرنیٹ پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز (ایس سی اے) نے ٹویٹ کیا کہ وہ ہندوستان میں امریکی سفیر کینتھ جسٹر اور دیگر غیر ملکی سفارت کاروں کے جموں و کشمیر کے دورے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

 غیر ملکی سفراء کے کشمیر دورے کا امریکہ نے خیر مقدم کیا مگر پابندیوں پر اظہارِ تشویش
امریکی سفیر سمیت ۱۵؍ممالک کے سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر کا دورہ کیا تھا- تصویر: پی ٹی آئی

  واشنگٹن ( ایجنسی ):امریکی محکمہ خارجہ نے جموں وکشمیر میں مختلف ممالک کے سفیروں کے دوروں کو ایک اہم قدم قرار دیا ہے لیکن اسی کے ساتھ خطے میں سیاسی لیڈروں کی مسلسل نظربندی اور انٹرنیٹ پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز (ایس سی اے) نے ٹویٹ کیا کہ وہ ہندوستان میں امریکی سفیر کینتھ جسٹر اور دیگر غیر ملکی سفارت کاروں کے جموں و کشمیر کے دورے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیورو نے ٹویٹ کیا کہ ہم مقامی لیڈروں اوردیگر مکینوں کی تحویل کیساتھ انٹرنیٹ پرپابندی کے بارے میں فکرمند ہیں۔  واضح رہے کہ امریکی سفیر کینتھ جسٹر سمیت ۱۵؍ممالک کے سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ یہاں انہوں نے متعدد سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں ، سول اداروں کے ممبران اور اعلیٰ فوجی عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔ ملک میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس دورے پر اعتراض بھی کئے گئے تھے۔
   ایلس جی ویلز ( پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری برائے مملکت برائے جنوبی و وسطی ایشیاء)نے ٹویٹ کیا کہ `وہ ہندوستان میں امریکی سفیر اور دیگر غیر ملکی سفارتکاروں کے جموں و کشمیر کے دورے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک اہم اقدام ہے لیکن ہمیں سیاسی لیڈروں اور مقامی افراد کو حراست میں لئے جانے اور انٹرنیٹ پر پابندی کے بارے میں تشویش ہے۔ امید ہے کہ حاالات جلد معمول کے مطابق ہوں گے۔  ویلز اس ہفتے جنوبی ایشیا کا دورہ کرنے والی ہیں۔ وہ ۱۵؍ تا ۱۸؍ جنوری تک’ رائے سینا ڈائیلاگ میں شرکت کیلئے نئی دہلی کا سفر کریں گی اور ۲۰۱۹ء میں دونوں ممالک کے وزارتی مذاکرات کی کامیابی کے بعد وہ امریکہ اور ہندوستان کی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کیلئے سینئر سرکاری عہدیداروں سے بھی بات چیت کریں گی۔ علاوہ ازیں وہ کاروباری افراد اور شہری تنظیموں کے ممبروں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کریں گی۔
  نئی دہلی کے دورے کے بعد وہ اسلام آباد جائیں گی جہاں وہ پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں اور سول اداروں کے ممبروں کے ساتھ دوطرفہ موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گی۔
  واضح رہے کہ کشمیر میں نئی دہلی کے اقدام کے بعد پاکستان نے سخت اعتراض کیا تھا اور عالمی طور پر اپنے موقف پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ 
 انٹر نیٹ پر پابندی ، سپریم کورٹ نے کیا کہا تھا؟
  واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی پر سپریم کورٹ نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ سپریم کورٹ نےانٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے آرٹیکل ۱۹؍کے تحت بنیادی حق قرار دیتے ہوئے جموں کشمیر میں عائد پابندیوں کا ایک ہفتے کے اندر جائزہ لینے کا حکم دیا تھا ۔جسٹس این وی رمن، جسٹس سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوائی کی بنچ نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل ۳۷۰؍ کی بیشتر شِقوں اور آرٹیکل ۳۵؍ اے کو منسوخ کئے جانے کے بعد انٹرنیٹ سروس کی معطلی پر فوری طور پر جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو پابندیوں کے تمام احکامات کو شائع کرنا چاہئے اور پابندیاں کم سے کم ہونی چاہئے۔ جسٹس رمن نے کہا تھا کہ’’ ہمارا کام صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ یہاں کے شہریوں کو ان کے حقوق فراہم کئے جائیں۔ کشمیر میں تشدد کی کافی وارداتیں ہوئی ہیں۔ ہم سیکوریٹی کے مسئلہ کو پیش نظر رکھ کر انسانی حقوق اور آزادی میں توازن پیدا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘‘ عدالت عالیہ نے اس دوران جن اہم باتوں پر زور دیا ان میں آئین کے آرٹیکل ۱۹؍(۱) (اے) کے تحت اظہار رائے کی آزادی میں انٹرنیٹ کا حق شامل ہے۔ عدالت نے کہا تھاکہ انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندیوں پر آرٹیکل ۱۹؍ (۲) کے تحت حکومت کو تناسب کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ غیر معینہ مدت کیلئے انٹرنیٹ کی معطلی منظور نہیں ہے ۔ یہ صرف ایک مخصوص مدت تک کیلئے ہوسکتا ہے اور اکثر و بیشتر اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ اس پربی جے پی نے حکومت نےسپریم کورٹ کی ہدایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے ۷؍ دنوں میں جائزہ رپورٹ داخل کرکے اپنا موقف پیش کر نے کی بات کہی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK