• Sat, 29 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلند شہر، یوپی: ایک طالب علم نے’اے آئی معلم روبوٹ‘ تیار کیا، سوشل میڈیا پر ٹرول

Updated: November 29, 2025, 9:59 PM IST | Luckhnow

اترپردیش کے بلند شہر میں ایک طالب علم نے ’’اے آئی معلم روبوٹ‘‘ تیار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، شیو چرن انٹر کالج کے ادتیہ کمار نے’’ صوفی‘‘ نامی ایک AI ٹیچر روبوٹ بنایا ہے، جو ایل ایل ایم چپ سیٹ سے لیس ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کو ٹرول کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض مینیکوئن ہے جس میں چیٹ جی پی ٹی لگا دیا گیا ہے اور میڈیا اسے ’’سائنسی کارنامہ‘‘ انجام دینے پر تلا ہے۔

Aditya with his robot. Photo: X
ادتیہ اپنے روبوٹ کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

یو پی کے بلندشہر کے ایک۱۷؍ سالہ طالب علم نے ایک مصنوعی ذہانت (AI) معلم روبوٹ تیار کرکے ایک حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے۔ شیو چرن انٹر کالج کے ادتیہ کمار نے صوفی نامی ایک ’’ اے آئی معلم روبوٹ‘‘بنایا ہے، جو  ’’ایل ایل ایم ‘‘چپ سیٹ سے لیس ہے۔روبوٹ کو اسکول بھی لے جایا گیا جہاں اس نے خود کو متعارف کرایا۔ روبوٹ کو ہندی میں کہتے سنا گیا، ’’میں ایک AI ٹیچر روبوٹ ہوں۔ میرا نام صوفی ہے، اور مجھے ادتیہ نے ایجاد کیا ہے۔‘‘اس روبوٹ نے کہا، ’’میں بلندشہر کے شیو چرن انٹر کالج میں پڑھاتی ہوں… جی ہاں، میں طلبہ کو صحیح طریقے سے پڑھا سکتی ہوں۔‘‘

ویڈیو میں، ادتیہ روبوٹ سے کئی سوالات پوچھتا ہے جیسے کہ ہندوستان کے پہلے صدر اور پہلے وزیر اعظم کا نام۔ روبوٹ صوفی نے بالترتیب ڈاکٹر راجندر پرساد اور پنڈت جواہر لال نہرو کے جوابات دیے۔جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صحیح طریقے سے پڑھا سکتی ہے، تو روبوٹ نے جواب دیا، ’’جی ہاں، میں صحیح طریقے سے پڑھا سکتی ہوں۔‘‘ اس نے ایک جمع بھی کیا اور بجلی کی تعریف بھی بتائی، جو بنیادی علم میں اس کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ای این آئی سے بات کرتے ہوئے، ادتیہ نے کہا کہ اس نے روبوٹ بنانے کے لیےایل ایل ایم چپ سیٹ استعمال کیا ہے کیونکہ روبوٹ بنانے والی کمپنیاں بھی اسے استعمال کرتی ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ ابھی کے لیے، روبوٹ صرف بول سکتا ہے اور وہ اس میں ترمیم کرے گا تاکہ یہ لکھ بھی سکے۔ یہ طلباء کے شکوک و شبہات دور کر سکتا ہے۔ادتیہ نے کہا کہ ’’ ہر ضلع میں ایک لیب ہونی چاہیے تاکہ طلباء وہاں آ سکیں اور تحقیق کر سکیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شملہ: سنجولی مسجد کے باہر جمعہ کو پھر ہنگامہ آرائی

واضح رہے کہ’’ ایل ایل ایم ‘‘ چپ سیٹس یا لارج لینگویج ماڈلز ہارڈ ویئر ہیں جن میںجی پی یوز ، این پی یوز اور کسٹم اے آئی ایکسیلیٹرز شامل ہیں، جو وسیع پیمانے پر شدید کمپیوٹیشنل ضروریات کے تحت  موزوں بنائے جاتے ہیں۔ یہ ان ماڈلز کی تربیت (کمپیوٹیشنل طور پر شدید) اور ان کو مؤثر طریقے سے چلانے (انفرنس) دونوں کے لیے اہم ہیں۔
تاہم، سوشل میڈیا صارفین نے میڈیا اور روبوٹ کو ٹرول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک مینیکوئن ہے جس میں چیٹ جی پی ٹی لگا دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’ہندوستانی میڈیا اسے ’’سائنسی کارنامہ‘‘ انجام دے رہا ہے جبکہ یہ محض ایک پتلا، بلیو ٹوتھ اسپیکر اور چیٹ جی پی ٹی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK