یوپی :  سی اے اے مخالف مظاہرین پر گینگسٹر ایکٹ لگانے کی مذمت

Updated: July 10, 2020, 12:18 PM IST | Inquilab News Network | Lucknow

رہائی منچ کے جنرل سیکریٹری نےریاستی حکومت کی کارروائی کو ’انتقام کی سیاست‘ اورجمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا ، ۲۷؍ افراد پر یہ ایکٹ لگایا گیاہے

CAA Protest - Pic : INN
سی اے اے کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : آئی این این

انسانی حقوق کی مشہور تنظیم رہائی منچ نے ریاست کے مختلف اضلاع میں سی اے اے مخالف مظاہرین کے خلاف یوپی گینگسٹرس اور اینٹی سوشل  ایکٹیو یٹیز ایکٹ۱۹۸۶  ءعائد کرنےپر سوال اٹھا ئے  ہیں۔      ’انڈیا ٹومارو‘ سے بات کرتے ہوئے تنظیم کے جنرل سکریٹری راجیو یادو نے سی اے اے مخالف مظاہرین کے خلاف ریاستی حکومت کی کارروائی کو ’انتقام کی سیاست‘ قرار دیا  ، جس کا مقصد ایسی ریاست میں جمہوریت کو گلا گھونٹنا ہے جو رقبے اور آبادی  لحاظ سے بھی دنیا کے کئی ممالک سے بڑی ہے۔
  لکھنؤ پولیس نے پریوورتن چوک پر ۱۹؍ دسمبر کو ہوئے تشدد کے بعد مجموعی طور پر ۲۷؍ سی اے اے مخالف کارکنوں کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ مظاہرین پریہ متنازع ایکٹ عائد کئے جانےپرپولیس  نے جواز دیا کہ مظاہرین کےایک گروہ نے  حکومت مخالف سرگرمیوں کو انجام دینے کیلئے سازش کی تھی تاکہ عوام میں خوف و ہراس پھیل جائے۔
      لکھنؤ میں جن پر گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج  کئے گئے ہیں ان میں عرفان ، محمد شعیب ، محمد شریف ، محمد عامر ، محمد ہارون ، عبد الحمید ، نیاز احمد ، محمد حامد ، اقبال احمد ، شہناز ، محمد سمیر ، محمد فیضال،  محمد اقبال ، کفیل احمد اور سلیم عرف سلیم الدین  شامل ہیں۔ ان پر قیصر باغ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا جبکہ محمد شفیع الدین ، محمد سلمان اور ذاکر سمیت ۱۲؍ دیگر افراد پر حسن گنج پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔راجیو یادو کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں ریاستی پولیس کچھ دن پہلے ضلع کانپور میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت ۸؍پولیس اہلکاروں  کو گولی مارنے والے گینگسٹر وکاس دوبے کو فوری طور پر گرفتار کرنے میں   ناکام ہوچکی ہے ،  وہیںاسی پولیس نےسی اے اے مخالف مظاہرین  کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کی دفعات کو نہایت ڈھٹائی سے  عائد کیا ہے۔ سی اے اے کے مظاہرین  کے خلاف یہ کارروائی  اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ریاست میں جمہوریت نہیں ہے  بلکہ یہاں بنا قانون کی حکمرانی  اورڈکٹیٹرشپ ہے۔
 راجیو یادو نے سوال کیا کہ کیا حکومت کے کسی فیصلے یا پالیسی جسے عوام معاشرے کے وسیع تر مفادات کے خلاف محسوس کرتے ہیں،  اس  کے خلاف ان کا احتجاج کرنا کیا غلط ہے۔ کیا جمہوریت میں لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ جمہوری اور پر امن طریقے سے احتجاج کے ذریعے حکومت کے فیصلوں کے خلاف اپنے جذبات  کا اظہار کریں؟لیکن سی اے اے مخالف مظاہرین کے معاملےمیں ریاستی حکومت کے من مانے اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ایک   مطلق العنان نظام حکومت رہ رہے ہیں یا کسی بادشاہ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ اگر کوئی یوپی کے سیاسی حالات کا تجزیہ کرے تو معلوم ہوگا کہ یوپی میں آج بھی وہی صورتحال موجود ہے۔
       یادو نے اشارتاًکہا کہ گینگسٹر وکاس دوبے کو۸؍ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے باوجود اسے غنڈہ  یا گینگسٹر نہیں کہا جاتا۔انسانی حقو ق کی تنظیم  رہائی منچ  کے جنرل سیکریٹری کے مطابق  جمہوری طریقے سے کیا گیا احتجاج کبھی مجرموں  کے ذریعے نہیں  ہوتابلکہ جمہوری کارکن اور رضاکا ر اس میں پیش پیش ہوتے ہیں، اس  میں کسی مجرم یا  غنڈے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ۔ ہم نے جمہوری طریقے سے  ہی احتجاج کرتے ہوئے برطانوی غلامی سے آزادی حاصل کی اور اب ہمارے پاس ایک آئین ہے۔ ملک کسی کی خواہشات اور جذبات سے نہیں بلکہ آئین سے چلے گا۔  
  یادو کا کہنا ہے کہ  یہ سب یوپی میں اس لئےہو رہا ہے کیونکہ حکمراں جماعت مختلف نظریہ رکھنے والی حریف سیاسی جماعتوں سے عدم برداشت کا شکار  ہے۔ یہ رویہ اور رجحان ہندوستان میں جمہوریت کیلئے یہ  نہایت خطرناک ہے۔ ابھی یوپی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہندوستان کے آئینی اقدار پر حملہ  ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK