اتر پردیش کے وکلا ء اپنے تحفظ کیلئے فکر مند

Updated: January 15, 2020, 11:00 AM IST | Inquilab News Network | Lucknow

اتر پردیش میں وکلاء کے قتل اور ان پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کیلئے بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لکھنؤ میں ایک وکیل کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی کئی وکلا ء کاقتل ہو چکا ہے ۔ اس میں کچھ کا قتل ذاتی دشمنی کی وجہ سے بھی ہوا ہے۔

 وکلاء  عدالت کے احاطے جمع ہوئے ۔ تصویر : پی ٹی آئی
وکلاء عدالت کے احاطے جمع ہوئے ۔ تصویر : پی ٹی آئی

    لکھنؤ ( آئی این این) : اتر پردیش میں وکلاء کے قتل اور ان  پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کیلئے بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لکھنؤ میں ایک وکیل کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔  اس  سے پہلے  بھی کئی وکلا ء کاقتل ہو چکا ہے ۔ اس میں کچھ کا قتل ذاتی دشمنی کی وجہ سے بھی  ہوا ہے۔ 
    اتر پردیش بار کونسل کی جانب سے وکلاء کی حفاظت کے سلسلےمیں مسلسل آواز اٹھا ئی جارہی ہے۔ ہر وا ردات کے بعد کونسل نےحکومت کو آگاہ بھی کیا لیکن کونسل کی باتوں  پر سنجیدگی  کا مظاہر نہیں کیا گیا۔ وکلاء کے قتل اور ان  سے مار پیٹ کی واردات میں کمی نہیں آرہی ہے۔  وکلاء کے استحصال پر قدغن نہ لگنے پر کونسل کی برہمی بڑھ گئی۔ ادھر کونسل نے تحفظ  اور وقار کی دہائی دیتے ہوئے عدالتی کام کاج  سے دور رہنے کا فیصلہ  کیا ۔ اس کے تحت ۱۶؍ جنوی کو پوری ریاست کے وکیل عدالتی کام کا بائیکاٹ کریں گے۔ اگر دیکھا جائے تو ۷؍ماہ میں وکلاء کے قتل اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی وا ردات میں  غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ۱۲؍ جون ۲۰۱۹ء کو آگرہ دیوانی کیمپس میں  اترپردیش  بار کونسل کی اس وقت کی صدر درویش یادو کو گولی ماری گئی جس سے ان کی موت ہوگئی۔ اس واردات کے بعد یوپی بار کونسل نے حکومت کو عدالت اور وکلاء کی حفاظت کے لئے مناسب قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا لیکن اس کے مطابق کوئی کام نہیں ہوا۔ ادھر ہائی کورٹ نے عدالتوں کی سیکوریٹی کے لئے نئی ہدایات جاری کیں تو کونسل نے بھی آگے آکر  تمام اضلاع کو خط لکھ کر افسران سے اپیل کی کہ وہ اپنا شناختی کارڈ دکھاکر ہی کورٹ میں داخل ہوں۔ ا س کے باوجود  وکلاء کا قتل اور مار پیٹ کی واردات بڑھ رہی ہیں۔
 کونسل کے صدر ہری شنکر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہر واردات کے بعد ہم نے حکومت، پولیس  اور انتظامیہ کو مناسب قدم اٹھانے کا پورا وقت دیا۔ مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو کونسل نے بڑے پیمانے پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔
  اترپردیش بار کونسل کے صدر دیویندر مشرا ’نگرہا‘ بتاتے ہیں کہ ۱۲؍ جون کو درویش یادو کے قتل کے بعد بھی وکلاء کی سیکوریٹی پر دھیان نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد مکیش شرما (میرٹھ)، ستیندر سنگھ سسودیا(کانپور)، نوتن یادو( ایٹہ)، اوم مشرا (پرتاپ گڑھ)، گلزار احمد( شاملی)، پرہلاد مشرا (لکھنؤ)، محمد ادریس ( الہ آباد)، ثناء اللہ خاں (الہ آباد)، سشیل پٹیل ( الہ آباد) اور ششر ترپاٹھی( لکھنؤ )کا قتل کیا گیا جبکہ ریاست بھروکلاء  سے مار پیٹ کے ۳؍ ہزار ۲۳۰؍ معاملے  سامنے آئے ہیں۔یوپی بار کونسل اس بار چار مرحلہ میں تحریک چلائے گی۔ چیئرمین ہری شنکر سنگھ نے بتایا کہ ۱۶؍ جنوری کو وکیل عدالتی کام کاج کاج نہ کرکے یوم احتجاج منائیں گے۔ پھر ۱۸؍ جنوری کو کونسل کا نمائندہ وفد مسئلہ کا حل کروانے کیلئے گورنر اور وزیر اعلیٰ سے ملنے کی کوشش کرے گا۔ دوسرے مرحلہ میں ریاست بھر کے ضلع اور تحصیل بار  اسوسی ایشن کے ذریعہ وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم بھیجا جائے گا۔ تیسرے مرحلہ میں مشعل بردار جلوس نکالا جائے گا۔ جلوس نکالنے کی تاریخ بعد میں طے ہوگی۔ جبکہ چوتھے مرحلہ میں ۱۷؍ فروری کو لکھنؤ میں واقع پرانے ہائی کورٹ سے اسمبلی ہاؤس اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک وکیل انسانی زنجیر بناکر مخالفت درج کروائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK